امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے شہریوں کو امریکا میں داخل ہونے کے لیے کڑی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اے بی سی نیوز چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ 7 مسلم اکثریتی ممالک کے افراد کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے حکم نامے پر دستخط کرنے والے تھے تاہم عوامی سطح پر سامنے آنے والے اعتراض کے سبب اس معاملے میں تاخیر کا سامنا ہوا۔

حلف برداری کے بعد بدھ (25 جنوری) کو امریکی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے پہلے انٹرویو میں نئے امریکی صدر میں کئی اہم معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں اوباما کیئر سے لے کر امیگریشن اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ تک کے معاملات شامل تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکا میں مقیم مسلمانوں کی معلومات اکھٹا کرنے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد مظاہرین کی بڑی تعداد نیویارک پارک کی سڑکوں پر نکل آئی۔

اس موقع ہر سابق امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ میڈیلین البرائٹ کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ اگر مسلمانوں کو رجسٹریشن کے عمل سے گزارا جاتا ہے تو وہ خود بھی مسلمان کے طور پر رجسٹر ہوجائیں گی۔

امریکا کی پہلی خاتون سیکریٹری آف اسٹیٹ میڈیلین البرائٹ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ’ان کی پرورش کیتھولک ماحول میں ہوئی، جس کے بعد وہ ایپسکوپیلئن بن گئیں جبکہ بعد ازاں انہیں اس بات کا علم ہوا کہ ان کا گھرانہ یہودی ہے، مسلمانوں سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر میں خود کو مسلمان رجسٹر کرانے کے لیے تیار ہوں

SHARE

LEAVE A REPLY