محترمہ فاطمہ جناح جولائی 1891 میںکراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام جناح پونجا اور والدہ کا نام مٹھی بائی تھا۔فاطمہ جناح کے چھ اور بہن بھائی تھے۔ قائداعظم کے بعد رحمت، مریم، احمد علی، شیریں، فاطمہ جناح اور بندے علی تولد ہوئے۔آپ قائد اعظم سے عمر میں بہت چھوٹی تھیں۔ ابھی صرف دو ہی سال کی تھیں کہ آپ کی والدہ مٹھی بائی کی موت کا دکھ جھیلنا پڑا۔1895 میں آپ کے والد جناح پونجاآپ کو اپنے ہمراہ لے کر مستقل طور پر بمبئی میں رہائش پذیر ہو گئے۔جب آپ کی عمر صرف دس سال تھی تو آپ کو والد کی شفقت سے بھی محروم ہونا پڑا۔

قائد اعظم نے محترمہ فاطمہ جناح کوابتدائی تعلیم کے لیے ہائی سکول کھنڈالہ میں داخل کرا دیا۔ 1910 میں انہوںنے میٹرک اور 1913 میں سینئر کیمرج کا امتحان پرائیویٹ طالبہ کی حیثیت سے پاس کیا۔ 1922 میں آپ نے ڈینٹیسٹ کی تعلیم مکمل کر لی۔ اور اگلے ہی سال 1923 میں بمبئی میں ڈینٹل کلینک کھول کر پریکٹس شروع کی۔ تاہم 1929 میں جب قائد اعظم محمد علی جناح کی زوجہ رتن بائی کا انتقال ہوا تو انہوںنے اپنی زندگی بھائی کی خدمت کیلئے وقت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ان کی دیکھ بھال کی غرض سے ان کیساتھ رہنے لگیں۔ اس کے بعد سے محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی کا مقصد بھائی کی خدمت اور ہر میدان میں ان کا ساتھ دینا بن گیا تھا انہوں نے نہ صرف نجی زندگی میں بلکہ سیاسی زندگی میں بھی قائد اعظم محمد علی جناح کا ساتھ دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔1940میں جب قائد اعظم تقسیم ہند کی تاریخ ساز قرار داد میں شرکت کے لئے لاہور تشریف لائے تو محترمہ فاطمہ جناح بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم کا جس طرح ساتھ دیا اور انہی کی بدولت برصغیر کے گلی کوچوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی سرگرم ہونے لگیں۔فاطمہ جناح کی قائداعظم کے ساتھ انتھک محنت اور کوششوں کی بدولت ہمیں آزادی کی نعمت حاصل ہوئی۔ 7اگست 1947کو محترمہ فاطمہ جناح 56 سال کے بعد دہلی کو الوداع کہہ کر کراچی منتقل ہو گئیں۔ اور اگلے سالوںمیں بھائی کی جدوجہد اور مسائل میں ان کے ہمراہ رہیں۔
محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی زندگی میں خواتین کی صلاحیتوںکو اجاگر کرنے اورانہیں ہر شعبہ ہائے زندگی میں آگے بڑھانے کے حوالے سے بہت سے کام کیے۔

وہ تعلیم نسواں کی اہمیت سے بخوبی واقف تھیں۔ وہ اپنے لندن میںقیام کے دوران اس حقیقت سے آگاہ ہو چکی تھیںکہ انگریز خواتین تعلیم میں برصغیر پاک و ہند کی مسلم خواتین کے مقابلے میں بہت آگے تھیں۔ محترمہ فاطمہ جناح نے مسلم خواتین کی بیداری کا ذمہ لیا اور قیام پاکستان سے قبل ہی کئی شہروںمیں خواتین کے تعلیمی مراکز قائم کیے جن میںسلائی کڑھائی کے مراکز بھی کھولے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی محترمہ اپنی اس ذمہ داری سے غافل نہ ہوئیں ۔ 25دسمبر1955کو خاتون پاکستان سکول کراچی محترمہ فاطمہ جناح نے خود کھولا اور قائد اعظم فنڈ سے ایک لاکھ روپیہ عطیہ دیا اس سکول کے لئے حکومت کی جانب سے تقریبا13 ایکڑ زمین دی گئی 1962 میں اس سکول کو کالج کا درجہ دے دیا گیا۔

محترمہ فاطمہ جناح ہر مقام اور ہر میدان میں خواتین کو مردوںکے شانہ بشانہ دیکھنے کی خواہاں تھیں وہ جب تک زندہ رہیں تب تک انہوںنے خواتین کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی۔وہ لٹے پٹے مہاجرین کے لئے ایک مشعل راہ تھیں۔ انہوں نے خواتین کو گھروں سے نکال کر خدمت خلق کیلئے آمادہ کیا ۔فاطمہ جناح بیماری اور ضعیفی میں بھی وہ دن رات محنت کرتیں، کبھی کیمپوں کا دورہ کرتیں تو کبھی سکولوں کے افتتاح میں شریک دکھائی دیتیں۔ ان کیساتھ کام کرنیو الی خواتین کے حوصلے انہیں دیکھ کر بلند رہتے تھے۔ بھائی سے بے پناہ محبت کی مثال قائم کرنے والی محترمہ فاطمہ جناح بھائی کی جدائی کا صدمہ زیادہ عرصہ نہ برداشت کر سکیں۔9جولائی 1968ء کو 76سال کی عمر میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد خاک کر دی۔

مادر ملت کی وفات ایک معمہ بن گئی کیونکہ موت سے ایک روز قبل وہ ہشاش بشاش تھیں۔ سابق وزیراعظم حیدر آباد دکن کی بیٹی کی شادی سے فارغ ہوئی تھیں۔ رات سوتے وقت انتقال ہو گیا۔ ان کو لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں مزار قائداعظم محمد علی جناح کے احاطہ کراچی میں عزت کے ساتھ سپردخاک کیا گیا۔ خیال یہی کیا جاتا ہے کہ ان کی موت طبعی نہ تھی۔ حکومت کی لالچ اور حرص والے گروپ کی سازش سے جمہوریت کی علمبردار ممتاز سماجی اور سیاسی شخصیت کو راستہ سے ہٹایا گیا۔

پاکستانی معاشرہ کو ایک بااثر مددگار خاتون سے محروم کردیا گیا۔۔ عقیدت مندوں کا جم غفیر ان کی میت اور جنازے کا طویل ترین جلوس تھا۔ جنازے کا جلوس مزار پر پہنچنے کے پانچ منٹ بعد مادر ملت کا تابوت قبر میں اتار دیا گیا ۔قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے احاطہ اور گردونواح میں سوگواروں کی تعداد تین اور چار لاکھ کے درمیان تھی۔ مزار کے میدان میں اس قدر ہجوم تھا کہ جس گاڑی میںفاطمہ جناح کا تابوت رکھا ہوا تھا اسے تین سو گز کا فاصلہ طے کرنے میں پورا آدھا گھنٹہ لگا جو لوگ مادر ملت کا آخری دیدار کرنے سے محروم رہے ان کی قبر پر شام تک تانتا بندھا رہا۔

SHARE

LEAVE A REPLY