پاکستان کی قومی اسمبلی میں لڑائی مار کٹائی سے جگ ہنسائی ہوئی تو پارلیمانی لیڈر سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ سپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت اجلاس میں آئندہ ایسے واقعات روکنے کیلئے پیر کو ذمہ داروں کے تعین پر اتفاق بھی ہو گیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں موبائل فون سے فوٹیج بنانے پر پابندی بھی لگا دی گئی تاکہ عوام اپنے رہنماؤں کی دھینگا مشتی سے بے خبر رہیں۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایاز صادق بولے، شہر یار آفریدی کی رکنیت معطل ہے، وہ ایوان میں اجنبی تھے، معلوم ہوتا تو کارروائی ہی نہ چلاتے۔ سپیکر نے استعفے کی پیش کش بھی کر دی۔ دوسری جانب، سپیکر کے مؤقف پر شہر یار آفریدی کا مؤقف بھی آ گیا، کہتے ہیں گوشواروں کی تفصیل جمع کرا چکا، رکنیت معطل تھی تو اسمبلی میں جانے کیوں دیا؟
انہوں نے واضح کیا کہ وہ مارنے والوں میں نہیں، بچانے والوں میں شامل تھے۔ ادھر، پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے شہر یار آفریدی کی رکنیت معطل ہونے پر اجلاس کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی۔ شیخ رشید نے ہنگامہ آرائی کی ذمہ داری سپیکر پر ڈال دی













