ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے دی۔
جیو نیوز سے گفتگو میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فارق ستار نے کہا کہ پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے اس پر اچھے لوگوں کی ٹیم بناناضروری ہے، ملک میں مشترکہ قومی ایجنڈےکی ضرورت ہے اور مفتاح اسماعیل سے ملاقات میں اسی قومی ایجنڈے پر بات ہوئی۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کو اپنائیں گے، بنائیں گے ، بچائیں گے تو سمجھیں پاکستان کو بنایا، بچایا اور اپنایا اور اس حوالے سے مفتاح اسماعیل کا معاشی ویژن بہت وسیع ہے۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کو ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے جس کے جواب میں مفتاح نے سوچ کر جواب دینے کا کہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاروق ستار اور مفتاح اسماعیل کی ملاقات دو روز قبل مفتاح اسماعیل کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں بہت سارے دوست ہیں، میں مسلم لیگ ن میں ہی ہوں اور مستقبل میں الیکشن میں حصہ نہیں لوں گا، مجھے وزیر بنانا وزیرِ اعظم کا حق ہے اور ہٹانا بھی انہی کی صوابدید ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’مجھے علم نہیں کہ ڈار صاحب کو کیوں لایا گیا لیکن انہوں نے کوشش کی جس سے پاکستان کو بڑا نقصان ہوا‘۔
انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے پبلک میں میرے خلاف بات کی، میری صلاحیت پر سوالات اٹھائے جس کا میں نے جواب دیا، پارٹی نے میرے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے سوچا کہ شاید وہ آئی ایم ایف کے بغیر چل سکتے ہیں، حکومت اس بات پر راضی ہو گئی ہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننی پڑیں گی۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہمیں امپورٹ کم اور ایکسپورٹ کو بڑھانا پڑے گا، آئی ایم ایف کی شرائط کو مان کر طویل مدتی کام کیا جاسکتا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا ہے کہ ہر ملک ہم سے آگے نکل رہا ہے تو ہمارے ملک میں گورننس ٹھیک نہیں، ہمیں ملک میں گورننس ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم نے جمہوری طرز اور صدارتی نظام حکومت بھی آزما کردیکھ لیا، آمریت بھی دیکھ لی،ایک چھوٹی سی ایلیٹ پاکستان کے تمام فیصلے کررہی ہوتی ہے، ملک میں عجیب سا ایلیٹ سسٹم قائم ہو چکا ہے، جسے ہٹانا پڑے گا۔
مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ نچلے طبقے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ہم بھی سسٹم کو نہیں بدل سکے، ہم بھی قصور وار ہیں، مقامی سطح پر جب تک اختیارات منتقل نہیں ہوں گے تو گورننس ٹھیک نہیں ہو گی۔












