امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخل ہونے پر لگائی جانے والی پابندی کا اطلاق ‘گرین کارڈ’ رکھنے والوں پر بھی ہوگا۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے جانے والے انتظامی حکم کا اطلاق گرین کارڈ ہولڈرز پر بھی ہوگا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق محکمہ داخلی سیکیورٹی کی قائم مقام ترجمان گیلیان کرسٹینسن نے بذریعہ ای میل یہ بات واضح کی کہ ‘وہ افراد جن کے پاس امریکا کا گرین کارڈ موجود ہے وہ بھی اس پابندی کی زد میں آئیں گے’۔

یاد رہے کہ گرین کارڈ کا حامل شخص امریکا کا مستقل قانونی رہائشی ہوتا ہے تاہم اب یہ بیان سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے مزید خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے امریکا میں تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو معطل کرتے ہوئے 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکا میں تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو 120 دن (یعنی 4 ماہ) کے لیے معطل کردیا گیا۔

دوسری جانب 7 مسلمان ممالک ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کو 90 دن (یعنی 3 ماہ) تک امریکا کے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔

نئے آرڈر کے تحت شامی مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی گئی۔

اب یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ مذکورہ ممالک سے تعلق رکھنے والے وہ شہری جن کے پاس گرین کارڈ موجود ہے اور وہ امریکا سے باہر ہیں انہیں بھی امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے پابندیوں سے متعلق انتظامی حکم جاری کرنے کے بعد مصر سے نیویارک جانے والی پرواز سے 5 عراقیوں اور ایک یمنی شہری کو اتار لیا گیا تھا جبکہ ایران نے امریکی اقدامات پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی شہریوں کے ایران میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY