یمن میں القاعدہ کے ایک سینئر رہنما کے گھر پر امریکی سیکیورٹی فورسز نے چھاپہ مار کارروائی کی جس کے نیتجے میں 14 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوگیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو علی الصبح یمن کے صوبے بیضاء میں القاعدہ کے ٹھکانے پر کارروائی کی گئی جس میں امریکی ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کارروائی میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 14 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ ایک امریکی فوجی بھی مارا گیا اور تین زخمی ہوئے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں یمن میں یہ پہلے امریکی فوجی کی ہلاکت ہے جس کا نام فی الحال ظاہر نہیں کیا گیا۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ چھاپے میں حصہ لینے والے امریکی فوجیوں کو شدت پسندوں کے گھر سے اہم معلومات ملی ہیں جن سے ان کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پتہ چل سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے بعد فوجیوں کو واپس لانے والے ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی جو اڑنے کے قابل نہیں رہا تھا اور بعد ازاں اسے خود ہی تباہ کردیا گیا۔
دوسری جانب یمنی سیکیورٹی اور قبائلی حکام کا کہنا ہے کہ علی الصبح ہونے والے اچانک حملے میں القاعدہ کے تین سینئر عہدے دار عبدالرؤف الضہب، سلطان الضہب اور سیف النمز مارے گئے۔
الضہب خاندان کو القاعدہ کا اتحادی سمجھا جاتا ہے اور اس خاندان کا ایک اور رکن طارق الضہب کئی سال پہلے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا تھا تاہم یہ واضح نہیں کہ اس خاندان کے لوگ القاعدہ کے حقیقی رکن تھے یا نہیں۔












