شاعرہ ،افسانہ نگار اور گلوکارہ ناہید اختر سے عالمی اخبار کے لیئے روما رضوی کی ملاقات‎

2
1351

عزیزو!! شعراء عالم نے عورت کے حُسن کی بے پناہ تعریف کی مگر مجھے لکھنے والوں سے ہمیشہ ایک شکایت رہی کہ اسی حسین عورت کے حُسنِ انتظام کی تعریف کیوں نہ لکھی ۔ اس کے وجود کو کائنات میں رنگ کا حوالہ کہا ۔۔مگر وہ کائنات کیوں نہ کہا جو کتنے ہی نظام بالواسطہ یا بلا واسطہ تنہا سنبھالتی ہے۔۔
قارئین کرام!!
فی الزمانہ خواتین نے جس طرح اپنے آپ کو ہر شعبے میں منوایا ہے ان کی انتظامی صلاحیتوں اور ان کی داخلی دنیا کو کائنات کے سامنے لانے میں ان کے پیچھے موجود ان کے سرپرستوں یا انکی زندگی میں شامل مرد حضرات کی حوصلہ افزائی اور تعاون بھی شامل ہے ۔۔
جس طرح ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے اسی طرح ہر کامیاب عورت کے پیچھے ایک نگران مرد ہوتا ہے جو اس کی صلاحیتوں کو مکمل طور خود تسلیم کرتے ہوئے اس کے ہر بڑھتے ہوئے قدم پر اس کا ساتھی اور مددگار ہوتا ہے۔۔ بلاشبہ ایسے خاندان بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جہاں کا ہر فرد مثبت مقابلے کی افزائش کرتا ہو۔۔
خواتین اور حضرات کا یوں تو کوئی مقابلہ اس لیے نہیں کہ دونوں کی ذمہ داریاں خداوند عالم نے علیحدہ علیحدہ رکھی ہیں. اسی کے مطابق ان میں موجود صلاحیتیں بھی ہیں. میں یہ ہرگز نہیں کہوں گی. کہ دونوں میں سے کوئی صنف بھی کسی صورت کم یا زیادہ ہے ۔۔
مگر ہر فرد کی صلاحیتیں اسی وقت اپنے کمال تک پہنچتی ہیں کہ جب ان کو مواقع فراہم کئے جائیں ۔۔ ان پر اعتماد کیا جائے انہیں سنا جائے۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب ایک حسین و ذہین خاتون اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے. ان کو بروئے کار لاتی ہے.
تو اس مخں موجود یہی اعتماد معجزہے دکھا سکتا ہے ۔۔
آج ہماری مہمان ایک ایسی ہی ایک خاتون تخلیق کار ہیں۔ جو صنف نازک کا نرم و مدھم مزاج رکھتی ہیں.
مگر اپنے مضبوط ارادوں اور آہنی اعصاب کی بدولت اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانا جانتی ہیں. وہ راولپنڈی کے ادبی حلقے کی سربراہ ہیں ۔ منظم ہیں. منتظم ہیں اور ان موجودہ حالات کے باوجود مستقل اپنے حلقے کی یعنی اپنی تنظیم کی مختلف ادبی سرگرمیوں کو مستقل مزاجی سے منعقد کرتی چلی آ رہی ہیں.
یہ ان کی ایک بہت بڑی خوبی اور کامیابی ہے. اور ساتھ میں ان کی ادبی تنظیم کا تعاون ہے جو ان معاملات کو جاری رکھنے میں معاون اور مددگار ہے ۔

آج ہماری مہمان ہیں محترمہ ناہید اختر صاحبہ جو اپنی ذات میں خود ایک انجمن ہیں ۔۔راولپنڈی سے ان کا تعلق ہے اور یہی ان کی جائے پیدائش بھی ہے ۔۔ انہوں نے گورنمنٹ ایف جی گرلز ہائی سکول سے تعلیم کا آغاز کیا پھر انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کیا ۔ تعلیم کا سلسلہ کچھ گھریلو مسائل کے باعث کچھ عرصے تعطل کا شکار رہا ۔۔پھر نوائے وقت اور دیگر کچھ اخبارات میں کالمز لکھنے کے ساتھ ساتھ ہومیوپیتھک کی تعلیم کی طرف بھی رجوع کیا چار سال وہاں مسیحائی کے گُر سیکھتی رہیں ۔ اسی دوران ان کا پہلا شعری مجموعہ” وحشتیں ہمرکاب اپنے ” منظر عام پر آیا ۔ جس پر محترمہ شبنم شکیل اور جناب اختر ہوشیار پوری صاحب کی نہایت عمدہ رائے موجود ہے ۔ شبنم شکیل صاحبہ نے خصوصیت سے انکے رومانوی شاعرات سے الگ منفرد اسلوب کو سراہا ہے ۔ جبکہ اس دور میں ادبی ماحول خواتین کے لئے قدرے سازگار نہیں تھا ۔ وہ کچھ عرصہ مشاعروں سے دور گوشہ نشین رہیں ۔ پھر دوستوں کے اصرار پر دوبارہ ادبی محافل میں قدم رکھا ۔ اس دوران ان کے لکھے افسانے مختلف رسائل میں چھپتے رہے ۔ اور شاعری بھی گاہے گاہے رسائل میں نظر آتی رہی۔
ان کی مختلف ادبی تنظیموں سے وابستگی رہی۔ اور موجودہ حیثیت میں وہ راولپنڈی کے حلقہء ارباب ذوق کی تین سال سے مسلسل سیکریٹری منتخب ہورہی ہیں ۔ ان کے بقول ملازمت یعنی اطاعت مزاج میں نہیں تھی اس لیے کلینک بنایا اور اب پندرہ سولہ برس کے عرصے سے لوگوں کے درد دور کرنے میں کوشاں رہتی ہیں ۔۔ ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتی ہیں۔۔

تو جناب آج کی ملاقات میں مہمان ہیں افسانہ نگار ،شاعرہ گلوکارہ ، طبیبہ اور پنڈی کے حلقہء ارباب ذوق کی سیکریٹری محترمہ ڈاکٹر ناہید اختر صاحبہ جن کو ہم تہہ دل سے آج کی نشست میں خوش آمدید کہتے ہیں۔۔

سوال ۔۔
ناہید آپ کی شاعری اور افسانے ادبی حلقوں میں پسند کئے جاتے ہیں۔۔ آپ نے لکھنے کا آغاز کب سے کیا؟
اور کیا بات آپ کو لکھنے کی طرف مائل کرتی ہے ؟

جواب- پڑھنے اور بہت زیادہ پڑھنے کا شوق بہت بچپن سے تھا . پڑھتے پڑھتے کب لکھنے کی طرف رجحان ہوا .ٹھیک سے کہہ نہیں سکتے . تاھم چھٹی جماعت میں ہی شاید پہلی بار کوئی نظم یا کچھ اشعار لکھے تھے . پھر کبھی لکھتے کبھی چھوڑتے آٹھویں جماعت تک پہنچے تو ایک گیت سے متاثر ہوئے اور اتنے شدید ہوئے کہ اس گیت کا پس منظر خود سے ہی ذہن میں تخلیق ہوتا چلا گیا اور ہم نے اس پر افسانہ لکھ دیا . وہ افسانہ ہمارے استاد کے ہاتھ لگا تو وہ حیران رہ گئیں اور وہ افسانہ ہم سے لے لیا اور خود ہی چھپوالیا . اس دوران ہم گاہے بگاہے شاعری کرتے رہے . مگر وہ شاعری ساری ایک دوست کے پاس ہی رہ گئی ڈائری کی صورت . خیر اس کے بعد تو شاعری افسانہ لکھنا جاری رہا . تاھم لکھنے کے معاملے میں سخت موڈی ہیں۔۔
اور واقعی لکھنے کی طرف کوئی اندرونی تحریک مائل کرتی ہے اور کبھی کبھی ارد گرد کا ماحول اس کا محرک بنتا ہے۔۔

سوال _ آپ نے ادبی سفر کا کب باقاعدہ آغاز کیا اور کس عمر سے ادبی نشستوں میں شرکت کرتی ہیں ؟

جواب_ ادبی سفر تو لاشعوری طور پر زمانہ طالب علمی میں ہی شروع ہو گیا تھا . کچھ نظم و نثر لکھتے رہے . تاہم 15 بیس سال پہلے تعلیمی سلسلے کے دوران کچھ ادبی تقریبات میں حصہ لیا . تاہم اس وقت ماحول ادب کے لئے کچھ زیادہ ساز گار نہیں تھا اور خصوصًا خواتین کے حوالے سے تو ہم مشاعروں سے لاتعلق ہو کر گوشہ نشین ہو گئے . پھر برسوں بعد جب دوستوں کے اصرار پر گوشہ نشینی ترک کی تو بس پھر نچلا بیٹھنا بھول گئے . اب ادب ثقافت . سنگیت سب ہی ہماری شخصیت کا حصہ بن گئے ہیں . شاعری ، نثرنگاری . گلو کاری کِپمیئرنگ سب کرتے چلے گئے .

سوال _ آپ شعبہء طب سے وابستہ ہیں اور شاعری سے لگاؤ رکھتی ہیں ۔ شاعری میں کس قدر مسیحائی کا رنگ بھرنے میں کامیاب رہی ہیں؟
جواب _ . مسیحائی ہمارے مزاج کا حصہ ہے شاعری ہو یا مریضوں کی دلجوئی . ہمارے دونوں رنگ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں . اس لیے لوگوں سے محبت بھی خوب ملتی ہے جو یقیننا اثاثہ ہے

سوال-آپ کو گلوکاری کرتے بھی اکثر محافل میں دیکھا ہے ۔۔جو شعر پڑھنے کا سب سے موثر انداز ہے ؟ کیا اپنی غزلوں کو بھی لحن سے پڑھتی ہیں ؟

جواب_ گلوکاری تو بس غیر ارادی طور پر شروع کی وہ بھی ایک سنگیت کے پروگرام کی کوارڈینٹر اور ہوسٹ تھے۔
تو یوں سمجھئے کہ دوسروں کو گانا گواتے گواتے خود بھی گانے لگ گئے . موسیقی سے دلچسپی کی وجہ سے گیتوں سے دلچسپی ہے۔۔ انڈوپاک کے سینکڑوں گیت یاد زبانی ہیں . تاھم ہم شاعری لحن سے نہیں پڑھتے . ہمیں لگتا ہے اس میں وقت زیادہ لگتا ہے اور لوگ شاید بور ہو جاتے ہوں .

سوال _ گلوکاری تو آپ کا ایک رنگ ہے ساتھ ہی آپ ایک ادبی انجمن کی سرگرم عہدے دار ہیں اپنی نجی زندگی اور ادبی سرگرمیوں میں توازن کیونکر برقرار رکھتی ہیں؟

جواب _ . ہم ایک ادبی تنظیم کے زمینی اور آن لائن دونوں اجلاس چلاتے ہیں اس کے علاوہ سنگیت کی محفل بھی ہفتے میں ایک بار آرٹس کونسل میں کرتے ہیں . دیگر ادبی سرگرمیاں اس کے علاوہ ہیں . بس سب نبھا رہے ہیں . کیسے یہ سب مینیج ہوجاتے ہیں ۔۔ بس یہ سب سلسلے ہِیں ہمیں خود بھی نہیں پتہ اللہ کا کرم اور میاں صاحب کا تعاون . دونوں مددگار رہتے ہیں۔۔
بس ایسا ہی ہے کہ جہاں چاہ ہو وہاں راہیں بنتی چلی جاتی ہیں۔

سوال
آپکا لڑکپن تعلیم اور گھر کے حوالے سے کئی مصروفیات میں گزرا۔۔ آپ تعلیم کے ساتھ لکھتی بھی رہیں مگر اب یعنی ہمارے موجودہ دور میں لکھنے والے نوجوانوں میں بے انتہا حساسیت اور اکثر میں منفی سوچ کیوں پیدا ہوگئی ہے۔۔کیا اس کی وجہ سوشل فورمز کی زیادتی ہے یا ان کو سنا کم جارہا ہے ؟

جواب- لکھنے والے نوجوانوں میں حساسیت سے آپ کی کیا مراد ہے . کسی بھی فرد میں یا لکھاری میں جب تک بے انتہا حساسیت موجود نہ ہوں وہ لکھاری بن نہیں سکتا . خصوصا ادبی اصناف شاعری افسانہ تو لکھ ہی وہ شخص. سکتا ہے جو زود حس ہو . ایک تو یہ پہلو . شاید آپ کے سوال میں حساسیت سے کچھ اور مراد ہو ۔۔ ورنہ ہماری دانست میں تو یہی ہے کہ جو صلاحیت رکھتا ہے وہ آگے آجاتا ہے ۔۔

سوال –
آپ نے بھی جب لکھنے کا آغاز کیا تو کافی لکھنے والے رہے ہوں گے یعنی مقابلے کی توقع ہوگی۔ تو آپ کے لکھے کو کب پہلی بار سراہا گیا؟

سوال … ہمارے لکھے کو بتدریج شناخت اور پذیرائی ملتی گئی . دوران تعلیم ہمارا ایک افسانہ اسلام آباد، لاہور اور یوکے کے اخبار میں شائع ہوا . مشاعروں میں پندرہ سولہ برس سے شرکت کر رہے ہیں . تاھم مشاعروں میں جانا اتنا پسند نہیں بس گنے چنے. مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں ۔۔۔ رہی بات سراہنے کی تو جیسا ہم نے کہا کہ ہر دور میں کچھ دوست کچھ استاد آپکی صلاحیت کو شناخت کرتے ہیں سراہتے ہیں ۔ جب ہی لکھنے والے کا اعتماد بحال ہوتا ہے ۔۔

سوال-
آپ اپنی رائے سے قریب تر لکھنا بہتر سمجھتی ہیں یا سامع و قاری جو پڑھنا چاہیں اسے لکھنا اچھا سمجھتی ہیں ؟

جواب_ ہم ہمیشہ اپنی فطرت میلان اور موڈ کے مطابق لکھتے ہیں . فرمائشی یا قاری کے مزاج یا ڈیمانڈ کے مطابق نہیں لکھتے ہیں . ادیب یا شاعر موقع پرست نہیں ہوتا نہ ماحول کےساتھ بہتا ہے . وہ ماحول کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس مشاہدے کو نظم و نثر کے روپ میں ڈھالتا ہے . فرمائشی لکھنے والے کمرشل رائٹرز ہوتے ہیں . اور ادبِ عالیہ میں ان کاکوئی مقام نہیں ہوتا

سوال _
واہ آپ نے بہت عمدہ بات کہی۔۔ہمارے قارئین کو یہ بتائیں کہ آپ نے زندگی کے کس دور میں سب سے زیادہ اور یکسوئی یعنی فوکس ہوکر لکھا ؟
جواب- طالب علمی کے دور میں شاعری کا جنون رہا . لکھتے بھی رہے . تاھم سنبھال نہیں سکے . صرف ایک شاعری کی کتاب دے سکے . پھر جیسے جیسے وقت گزرا . پڑھا زیادہ لکھا کم . لکھنے میں معیار کو ترجیح دینے کی وجہ سے مقدار ہمیشہ کم رکھی . اب کوشش ہے جتنا لکھا .کمپائل کر سکیں

سوال – کیا ایک لکھنے والے کو لوگوں کی تنقید یا کسی بھی طرح کے رد عمل پر لکھنے کا انداز تبدیل کرنا چاہیئے ؟
اور آپکی رائے میں لکھنے والے کا معیار کس طرح طے کیا جاتا ہے ؟
جواب- لکھنے والے کو اپنی طبعیت مزاج اور رجحان کو مدنظر رکھنا چاہئیے . لوگ تو وہ بھی ڈیمانڈ کر سکتے ہیں جس کا آپ کا رجحان یا صلاحیت ہی نہ ہو . تب آپ کمتر درجے کا لکھنے کی بجائے اپنی صلاحیتوں کا خود ادراک کریں اور اس میں ہی بہترین لکھنے کی کوشش کریں۔۔
اور ہم نے دیکھا ہے کہ لکھنے والے کا معیار وقت طے کرتا ہے . جو کہ عموما آپ کے بعد ہی طے ہوتا ہے . موجود زمانے میں لوگ آپ کو آپ کے تعلقات پر پرکھتے ہیں . آنے والے زمانے آپ کی تحریروں کے اصل ناقد ہوتے ہیں۔۔

سوال- آپ اپنے مطالعے کے لئے کن کتابوں یا موضوعات کو زیادہ منتخب کرتی ہیں؟
جواب- ہم شاعر ہوتے ہوئے بھی نثری ادب زیادہ پڑھتے ہیں . ناول افسانے . تاریخ . سماجی اور نفسیاتی موضوعات اور بین القوامی سیاسیات اور سماجیات سب مطالعے کے لئے ترجیحی حیثیت رکھتے ہیں

سوال_
کن شعراء اور ادیب کے انداز تحریر نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ؟

جواب- ہمارے ادب میں کوئی آئیڈیل نہیں ہیں . بے شمار لوگوں کو پڑھا ہے اور ہر ایک کی انفرادیت نے متاثر کیا ہے . ہم سمجھتے ہیں کہ سبھی اچھا لکھتے ہیں . موضوعات پر لوگوں کی گرفت .اس کو مشاہدہ کرنے کی صلاحیت اور اسلوب مختلف ہو سکتا ہے . تاھم بہت بہت اچھا ادب لکھنے والے ہمارے ملک میں اور بین القوامی سطح پر موجود ہیں . سبھی پسندیدہ ہیں جو اپنے فکروفن اور ادب کے ساتھ قلبی طور پر وابستہ ہیں . اور مادی سوچ کو اپنے فکر و فن پر حاوی نہیں ہونے دیتے . جن کی فکر ان کی معاش سے جدا ہے . قابل احترام اورقابل تقلیدہے۔۔

سوال _ آپ کے اشعار و غزلیں پڑھنے والے حلقوں میں مقبول ہوئیں ۔کیا آپکی شاعری کو کلاسیک شاعری سے مماثل کہا جاسکتا ہے؟
جواب- ہم جو لکھتے ہیں .وہ کمرشل انداز کا نہیں ہے . کلاسیک سے کس درجہ مماثل ہے اس کا تعین ہم خود نہیں کر سکتے اور نہ کرنا چاہئیے . اس کا فیصلہ آنے والا وقت . قاری اورناقد بہتر طور پر کر سکتا ہے …. انسان اپنی قامت خود نہیں ناپ سکتا اور نہ ناپنی چاہئیے۔۔۔

سوال۔
آپ کی شاعری یا نثر میں کیا خاص بات ہے جو آپ کے خیال سے توجہ حاصل کرتی ہے ؟

جواب –
جواب- ہم بنیادی طور پر انقلابی طبعیت رکھتے ہیں اور قلم سے لیکر عمل تک جہاں معاشرے میں سدھار کی ضرورت اور موقع ہوتا ہے اپنی کوششیں ضررور کرتے ہیں . ہمارا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ رہیں. اور مسکینی یا مجبوری کی زندگی گزارنے کی بجائے معاشرے میں جہاں فرائض پورے کریں وہاں حکومتوں سے اپنے حقوق کے لئے بھی آواز اٹھائیں ۔۔ اور اداروں کو سست اور حقوق غصب نہ کرنے دیں . اس معاملے میں ہم سماج میں ہمیشہ متحرک رہتے ہیں لوگوں کی تربیت کے لئے آگاہی کے لئے ۔۔ تاکہ جو نہیں جانتا کم از کم وہ آپکے حقوق کو جانے اپنی قدر پہچانے۔

سوال- آپ کی سرگرمیاں طالبعلمی دور سے ہی ادب کی جانب مائل تھیں۔۔ کیا آج یعنی موجودہ دور کے نوجوانوں کی سرگرمیاں تعمیری نہیں ؟ اور کیا انکی تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی تبدیلی کی جائے کہ انہیں بھی اچھا ادب پڑھنے سے لگاؤ پیدا ہوسکے ؟

جواب- بھئی آج کل کے نوجوانوں کو اپنا سرمایہ اور اپنا کل( یعنی مستقبل سمجھ کر ) ہماری ریاست نہیں اپناتی . انھیں زندگی کی بنیادی سہولیات یکساں معیار تعلیم . کھیل اور ثقافتوں کی سہولت نہیں دیتی اور مائل نہیں کرتی کہ وہ زندگی میں معاشرے کے لئے اپنا کوئی متحرک کردارادا کریں تب تک ہمارا نوجوان یاسیت سے نہیں نکل سکتا ِ مشکل یہ ہے کہ ہمارے بڑوں یعنی صاحب اختیار لوگوں کو نوجوانوں سے کوئی دلچسپی ہی نہیں . وہ انھیں کتابوں کےبوجھ تلے دبا کرایک کونے میں سر جھکائے چھوڑ کر بے فکر ہیں کہ ان کا مستقبل محفوظ ہے . ہمارے نوجوان کو مثبت سرگرمیوں کی شدید ترین ضرورت ہے . کوئی کھیل کے میدان . ثقافتی سرگرمیاں . بین الاقوامی مقابلے. ان کی صلاحیتوں کا اعتراف . ان کے معاش کی ضمانت . اور پھر دوران تعلیم انھیں ادبی سرگرمیوں کی طرف راغب رکھنا ضروری ہے . یہ ایک بڑا موضوع ہے اور سلگتا موضوع ہے . اس پر گھنٹوں بولا جا سکتا ہے اور خوب لکھا جا سکتاہے۔۔

سوال-
آپ لکھنے والوں کی تحریروں سے معاشرے میں کسی سدھار کی توقع رکھتی ہیں ؟

جواب – لکھنے سے جہاں تک سماجی سدھار کا تعلق ہے تو ادب میں جو چیزیں لکھی جاتی ہیں یا موضوعات ہوتے ہیں وہ غیر شعوری طور پر معاشرے کو متاثر کرتے ہیں . ادب براہ راست نصیحت یا تبلیغ کا نام نہیں . تاھم ہلکی ہلکی کسک چھوڑ جاتا ہے قاری کے دل و دماغ میں جو یقیینا قاری کے لاشعور میں رہ کر اس کو تبدیلی یا بہتری کے عمل کی طرف راغب کرتی ہے . تاھم یہ ایک تدریجی عمل ہے . فوری تحرک سوائے انقلابی ادب کے نہیں پیدا کرتا . انقلابی ادب کی زندگی معاشرے کے حالات پر منحصر ہوتی ہے . اگر معاشرہ مسلسل زبوں حالی یا انتشار کا شکار ہوتو انقلابی ادب زندہ اور موثر رہتا ہے ورنہ سماجی ادب اپنے روایتی اعر ٹھہرے ہوئے انداز میں سماج کی تربیت کرتا رہتا ہے۔۔

سوال – نو آموز شعرا و لکھنے والوں اور اپنے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی
جواب. نئے لکھنے والوں سے کہیں گے کہ وہ پڑھیں بہت زیادہ اور لکھیں کم . اور ہر لکھے کو شاہکار مت سمجھ لیں . لکھ کے مٹانا سیکھیں تاکہ اس سے بہتر لکھ سکیں۔۔۔

ناہید اختر صاحبہ آپ کے تعاون اور وقت کے لئے ادارہ عالمی اخبار اور میں بہت ممنون ہوں ۔
آپ جیسے دوست نوجوانوں کی رہنمائی کررہے ہیں اور ان کے لئے مواقع پیدا کر رہے ہیں ۔۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا ۔۔آپ کے مستقبل میں تمام نیک ارادوں کی کامیابی کے لئے ہم دعاگو ہیں ۔۔
روما_رضوی
عالمی_اخبار

SHARE

2 COMMENTS

  1. ڈاکٹر ناہید اختر کا انٹرویو ان کی شخصیت و طبیعت کے کے مطابق خوب لگا اور یہ احساس ہوا کہ ان کے اندر کی وہ طالب علمانہ تڑپ ابھی ماند نہ پڑی ہے جس نے ان کو ادب کی طرف لانے کا جتن کیا تھا۔اس گفتگو سے ان کی شخصیت کے مختلف پہلو کھل کر سامنے
    آئے ہیں جس سے انٹرویو نگار کی ان میں دلچسپی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔یہ انٹرویو ادبی حلقوں میں یقیناً سراہا جائے گا

  2. بیحد ممنون ہوں ابن عاصی صاحب ڈاکٹر ناہید بیشک اہل ہمہ جہت شخصیت کی حامل ہیں ۔۔
    ہماری دیگر ملاقاتوں کا بھی احوال ضرور پڑھئے ۔۔

LEAVE A REPLY