اسلام مکمل طریقہ حیات ہے (2) از۔۔۔ شمس جیلانی

0
119

اسلام اور دیگر مذاہب میں فرق یہ ہے کہ ان کے ہاں مذہب صرف چند مذہبی رسومات کانام ہے اور وہ بھی عبادت گاہوں تک محدود ہیں۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کاا رشاد ہے کہ “پورے کہ پورے اسلام میں داخل ہو جاو “ اس کے بعد جو بھی عمل اس کے بتائے ہوئے یا اس کے نبی (ص) کے بتائے ہوئے طریقہ پر کروگے عبادت میں شمار ہوگا اور اسکا ثواب منحصر ہے یعنی با الفاظِ دیگرمومن کا ہر فعل عبادت ہے، جوربِ سماوات کے احکام کے مطابق ہو اور جس طرح ہادی ِ اسلام نے اس کوکرکے دکھایا یا بتایا ہو اور ویسا ہی انکے اتباع میں کیا جا ئے۔ جس کوآجکل نظر نداز کرنے کی کوشیں جاری ہیں اس پر طویل بحثیں بھی جاری ہیں جو کہ اغیار کی سازشوں کا حصہ ہیں ۔جبکہ اس میں کچھ اپنے بھی ملوث ہیں۔ حالانکہ اتباعِ رسول (ص) اسلام کی اساس ہے۔ یہ کلیہ ہےا گر کسی عمارت کی بنیاد ہی کمزور کردی جا ئے تو اس کا کھڑا رہناناممکن ہوجاتا ہے۔ ہمیں اسے سمجھنے کے لیئے کہ ا نہیں کاا تباع کیونکہ کریں اور کسی کا کیوں نہیں ؟ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا اتباع براہ رست بندوں کو کرنا ،توممکن ہی نہیں ہے کیونکہ وہ شہ رگ سے قریب ہونے کے باوجود ہر ایک کی پہونچ سے باہر ہے اس لیے کہ وہ لا محدودہے، جبکہ انسان کی قوت بصارت محدود ہے جواس کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔ جبکہ یہ امر طے شدہ ہے کہ ہم نے اللہ کو خود اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ،لہذا غیب پر ایمان لانے کا حکم ہے۔اور ہمیں جو کچھ بھی پہونچا ہے حضور (ص) کے ذریعہ سے پہونچا ہے ،جن پر وحی آتی تھی اور وہ ہر اعتبار سے انسان ِ کامل بھی تھے۔ یہ دونوں نادر خصوصیات ا نسانوں میں کسی اور کو بہ یک وقت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف عطا نہں کی گئیں۔ اور نہ ہی انسان کسی غیر انسان کا اتباع کرسکتا ہے !کیونکہ مخلوق میں سب کی ضروریات مختلف ہیں مثلاً فرشتوں کو لے لیں! تو نہ انہیں نہ کھانے ضرورت ہے نہ سونے کی ضرورت ہے؟ جبکہ انسان سوتا بھی ہے کھاتا بھی اپنی نگہداشت بھی کرتا ہے اوردوسروں کی خدمت بھی کرتا ہے جس کی بڑی ا ہمیت ہے اور اس پر، سب سے زیادہ زور دیاگیا ہے۔ حتیٰ کہ انسانوں کی طرف مسکراکر دیکھنا بھی ثواب ہے۔ جبکہ حسن ِ سلوک اپنے خاندان سے شروع ہوتا ہے اور بتدریج آگے کی طرف بڑھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت قرآن میں بہت سی جگہ پر موجود ہے کہ صرف نبی (ص)کا اتباع کرو، میں ان میں سے صرف یہاں چار لیتا ہوں۔ پہلی تو یہ ہے کہ جو مجھ سے محبت کے دعویدار ہیں ان سے کہو کہ وہ آپکا (ص) اتباع کریں، دوسری یہ کہ ہمیں حکم ہورہا ہے کہ “ جو نبی (ص)عطا کریں وہ لیلو اور جس سے منع کریں رک جاؤ، اور تیسری یہ کہ تمہارے لیے تمہارے نبی (ص) کا اسوہ حسنہ بہترین نمونہ ہے۔ پھر یہ بھی فرمادیا کہ “ یہ (ص)اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے وہی فرماتے ہیں جو ہماری طرف سے ان (ص) پر وحی کیا جاتا ہے۔ا ب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ وحی کیا ہے؟ کسی بھی عام مسلمان کے سامنے اگر وحی کانام لیں تو وہ صرف “ قران “ بتائے گا؟ جوکہ وحی “ جلی “ ہے اور سب سے اہم ذریعہِ ہے ہدایت بھی جس کی حفاظت ک ذِمہ ا للہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ جبکہ حضور (ص) کی اکملیت کا تقاضہ یہ تھا کہ ا نہیں وہ تمام ذرائے الہام حاصل ہوں جو دوسرے انبیائے کرام کو فرداً فرداً حاصل تھے۔ میں رویائے صادقہ ، القا ءاور تمام دوسرے ذرائع شامل ہیں وحی خفی کے زمرے میں آتے ہیں۔ حضور (ص) نے ان کوا پنے متفرق ارشادات میں ظاہر فرمایا ہے، جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں (ص) یہ سارے ذرائع حاصل تھے۔قرآن کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ حضور(ص)پر حضرت جبرا ئیل کے ذریعہ نازل ہوا ۔ مگر بہت سی ہدایات اس کے علاوہ بھی ہیں جو حضرت جبرئیل (ع) لیکر تشریف لائے جن پر حضور (ص) نے عمل فرمایا،وہ صرف حدیث یا حضور (ص) کے اسوہ حسنہ کی شکل میں موجود ہیں ۔ جیسے کہ نماز قائم کرنے کا حکم قرآن میں ہے مگر کیسے پڑھی جائے یہ حضرت جبرئیل (ع) نے بتایا اور ہم تک نماز کی عملی شکل حضور (ص)سے پہونچی۔

قیامت کے سلسلہ میں حدیثِ احسان بہت مشہور ہے۔ حضور(ص) کے نبوت کے پہلے دور میں رویائے صادقہ(سچے خواب) دیکھنامسلمہ ہے اس میں بعض مورخین اور مفسرین میں صرف مدت پر اختلافات ہیں ۔ پھر سب سے مشہور خواب صلح حدیبیہ کے بارے میں ہے جسے دیکھ کر حضور (ص) عازم ِ صفر ہو ئے جس کی تصدیق بعد میں قرآن سے ہوئی؟ اسی طرح انسپائریشن جس میں القاء وغیرہ سب شامل ہے ۔ اس کاثبوت یہ ہے کہ حضور (ص) نے حج الوداع کے موقعہ پر فرمایا کہ حج کے ارکان آج مجھ سے سیکھ لو جن کو سیکھنا ہے؟ جس کی عملی تربیت مدینہ منورہ کے جوار میں ایک مسجد چھوٹی سی مسجد سے شروع ہوئی اور عمرے کی انتہا صفا اورمروہ پر سعی کے دوران ختم ہوئی، جبکہ حج کی انتہاعرافات میں جاکر پوری ہوئی۔ا ن میں سے صرف منیٰ واپسی کے بعد قیام کے بارے میں ایک ہدایت قرآن میں ہے ۔ بقیہ ہدایات اسوہ حسنہ سے ہم تک پہونچیں۔ ان ذرائع وحی میں سے اگر ہم کوئی ایک ذریعہ بھی چھوڑ دیں تو دین مکمل نہیں ہوسکتا؟ یہ ہی یہ ہے حالت حقوق ا لعباد کی ہے کہ کچھ قرآن میں ہیں میں بیں کچھ ا سوہ حسنہ میں ہیں ۔ جیسے کہ کھائیں کیسے۔ پانی کیسے پیئں اور کس کروٹ سے سوئیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب احادیث کی شکل میں موجود ہیں؟جو شروع سے موجود تھیں اور آج تک موجود ہیں۔ اس وقت کے معاشرے میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد بہت کم تھی، لکھنے والے کم تھے یاد رکھنے والے زیادہ تھے۔

قرآن کی طرح احادیث بھی لوگوں کو حفظ تھیں۔ بعد میں جمع کرنے والوں نے جوصحا ستہ میں جمع کرنے کے لیے اپنے عمریں گنودیں۔ بہت ہی احتیاط برتی ان پر شبہ کرنا اغیار کی سازش تو ہو سکتی ہے مگر یہ اپنوں کام نہیں ہوسکتا؟ ایک حل تو خود حضور (ص) نے فرمادیا کہ“ جو حدیث قر آن سے ٹکراتی ہو وہ کہنے والے کے منہ پر ماردو“ دوسرے وہ وعیدکہ “جو کوئی ا یسی بات مجھ سے منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی وہ اپنی جگہ جہنم میں بنا لے “ اس سلسلہ کےبقیہ اصول بعد میں حدیثیں جمع کرنے والوں نے جمع کیے۔ اس کے بعدیہ کام کوئی مسلمان تو نہیں کرسکتا اغیا ر کاہی کام ہو سکتاہے۔ جبکہ ہمیں کسی بھی معاملہ میں فضول بحثوں سے اور بحث کرنے والوں کی ہاں! میں ہاں! میں ہاں ملانے سے قرآن میں منع فرماد یا گیا ہے۔ آئیے اس بحث کے بعد اب ہم آگے بڑھتے ہیں۔ اور دیکھتے ہیں کہ اسلام حقوق لعباد کے سلسلہ میں کیا تعلیمات دے رہا ہے۔ جس میں ہم کو اسلام کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق سب سے آگے ہونا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے ہم بہت پیچھے ہیں؟ جبکہ حضور (ص) یہاں تک اہتمام فرماتے تھے کہ مقروض کی نماز جناز ہ جب تک نہیں پڑھتے تھے جب تک کے اس کا قرضہ ادا نہ ہوجائے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا کہ رسمی عبادات کی اہمیت کچھ بھی نہیں ہے اگر لوگوں کے ساتھ معاملات صحیح نہیں ہیں۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY