تبدیلی یا اداروں کی بربادی،کوئی تو پرسان حال ہو؟ ڈاکٹر جہاں آرا لطفی

0
1435

شیخ زاید اسلامک سینٹر کے تین کیمپس متحدہ عرب امارات اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت1984 میں قائم ہوئے جن میں سے ایک جامعہ کراچی میں دوسرا جامعہ پنجاب میں اور تیسرا جامعہ پشاور میں ایک جیسی عمارتوں میں قائم کیے گئے۔ شیخ زاید بن سلطان النھیان کے مطابق جس کا مقصد مستقبل میں ایسے سوفٹ ویئر انجینئرز تیار کرنا مقصود تھا جن میں بیک وقت علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائینس دونوں میادین میں مہارت حاصل ہو۔تاکہ آنے والے دنوں دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں کمپیوٹر سائنس کا استعمال ہو سکے اور اس کے ماہرین بیک وقت دونوں علوم میں مہارت کے حامل ہوں۔ میں اس سینٹر میں 1993 میرا اسلامیات کے سیکشن میں بحثیت لیکچرر عربی تقرر ہوا۔۔(لیٹر دیکھ سکتے ہیں) میں واحد استاد ہوں جس کا تقرر ہی سلیکشن بورڈ سے بطور کنفرم استاد ہوا۔ جلد ہی مجھے بہت سی اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ۔۔ان میں سے ایک انچارج سیمینار اور اسٹوڈنٹ ایڈوائزر کی اہم ترین ذمہ داریاں تھیں جو میں 2016 تک مسلسل نبھاتی رہی ہوں ۔ انتہائی سیاست اور بد انتظامی کے باوجود بے حد تاخیر سی 2005میں میری پروموشن بحثیت اسسٹنٹ پروفیسر ہوگئی ۔۔ انہی رکاوٹوں اور مسائل کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ میں نے الحمد 2014 میں پی ایچ ڈی مکمل کرلیا ۔ لیکن مجھے میرٹ پر ترقی ملنے کی بجائے بد عنوانی کے ذریعے مجھے روکا گیا جیسا کہ ہر ادارے میں ہورہا ہے۔۔۔اور بالا ہی بالا ان کو آگے بڑھایا گیاجو مجھ سے تیرہ برس جونئیر ہیں ۔ اس وقت جو سینٹر جامعہ کراچی میں قائم ہے اس کی مجموعی حالت بے حد ابتر ہے ۔ کیونکہ اس سینٹر کو جو جامعہ کراچی میںہےکچھ مفاد پرستوں نے تختہ مشق بنا رکھا ہے بلکہ بہتی گنگا سمجھ رکھا ہے۔اج اس پر ڈاکٹر عابدہ پروین (عابدہ شمس الدین) غیر قانونی طریقے سے قابض ہو کر سخت نقصان پہنچا رہی ہیں۔۔سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم نے انہیں ان کے شوہر ڈاکٹر شمس الدین کی فرمائش پر 2005 میں محض پرائیویٹ ایم اے پر لیکچرر بھرتی کیا۔۔۔اڈی سلیکشن بورڈ میں میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئی۔جب کہ ان کے مقابلے میں کئی قابل اور پوزیشن ہولڈرز کو سلیکشن بورڈ میں فیل کر دیا۔

ان کے بعد ڈاکٹر قیصر نے محض زیتون کے تیل میں پکے ہوئے کھانوں کے بدلے میں ان کو کنفرم سینئر فیکلٹی ممبرز پر ترجیح دے کر ڈائریکٹ ایسوسی ایٹ بنادیا دیکھتے دیکھتے وہ ڈائریکٹر بنادی گئیں ۔۔ڈاکٹر قیصر کے بعد ڈاکٹر اجمل مرحوم نے جانتے بوجھتے اس بدعنوانی کو قائم رکھا۔۔ان کے بعد ڈاکٹر خالد راقی نے بھی ان کی دل و جان سے سپورٹ کی ہے۔۔۔۔کیوں سینئر اساتذہ پر انہیں ترجیح دی گئی ۔۔۔جب کہ سب جانتے ہیں کہ وہ کم صلاحیت اور کم تعلیمی قابلیت کی حامل ہیں۔۔صرف پرائیویٹ ایم اے اسلامیات اور پی ایچ ڈی ۔۔۔
سرکاری ذرائع اس سینٹر کی تباہی و بربادی کا فوری نوٹس لیں
کتنی دیدہ دلیری سے انتہائی جونئیر کو ترقی پر ترقی دی گئی ۔۔۔کڑوڑوں کی خرد برد کرنے کا کون ذمہ دار ہے۔۔۔جنگ کی خبر میں اٹھاون لاکھ بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پراسپیکٹس میں میری پی ایچ ڈی کی ڈگری کا کوئی ذکر نہیں۔
پندرہ پندرہ برس سینئر اساتذہ پر ان کو کیوں مقدم کیا گیا

آج وہ چار برس سے بطورِایکٹنگ ڈائریکٹر
کیسے ہیں جب کہ سابق وائس چانسلر جنہوں نے ان کو سینئیر اساتذہ کی موجودگی میں انہیں چارج دیا اور موجودہ وائس چانسلر خود عارضی اور متنازعہ ہیں اس کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ خبریں اور لیٹرز پڑھنا ضروری ہیں۔
میں نے وائس چانسلر سے لے کر صدر مملکت تک سب کو باضابطہ درخواستیں دیں ۔۔ایک محتسب اعلی نے ایکشن لینے کی ٹھانی لیکن ان کا تبادلہ ہوگیا۔. اس وقت جامعہ سے مایوس ہوکر میں نے مجبورا کورٹ کا رخ کیا ہے۔۔۔میں جو صرف اپنے پیشے سے محبت کرتی ہوں اور صرف پڑھانے کی خواہشمند ہوں کوٹ کچہریوں میں وقت لگا رہی ہوں تاکہ لوگوں کو بتا سکوں کہ کسی کا حق مارنا آسان نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر جہاں آرا لطفی
پروفیسر عربی و علوم اسلامیہ (ر)
شیخ زاید اسلامک
jahanaralutfi@uok.edu.pk
سینٹر جامعہ کراچی
(Jahanara Lutfi) .

SHARE

LEAVE A REPLY