وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان سے انخلا کے دوران نیٹو اور اس سے متعلقہ 10 ہزار 302 افراد پاکستان آئے جن میں سے 9 ہزار 32 متعلقہ ممالک کو واپس لوٹ گئے ہیں اور بقیہ افراد بھی جلد واپس لوٹ جائیں گے۔
کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ مختلف عالمی اداروں کے ساتھ مل کر افغان عوام کی مدد جاری رکھیں گے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ 40 سال سے جاری افغان عوام کے دکھوں کی داستاں ختم ہوگی اور وہ سکھ کا سانس لیں گے اور ہم ایک مستحکم افغانستان کے ساتھ اپنے روابط مزید مستحکم کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی مبصرین اور اداروں کی جس طرح افغانستان چھوڑنے میں مدد کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے اور پوری دنیا انخلا کے اس عمل میں پاکستان کے طرز عمل کی تعریف کررہی ہے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ہمارا پہلے دن سے وعدہ ہے کہ ہم انخلا میں مدد کریں گے پھر چاہے وہ کسی بھی ملک سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں، ہم ان کی افغانستان سے نکلنے میں مدد کریں گے۔
انہوں نے انخلا کے عمل کے دوران پاکستان آنے والوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ طورخم میں 2 ہزار 421 لوگ آئے، ان میں سے 821 افغان اور ایک ہزار 570 پاکستانی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل اور گرد و نواح سے انخلا کے خواہشمند تمام خاندانوں کو نکال لیا گیا ہے اور اب صرف وہی چند پاکستانی وہاں رہ گئے ہیں، جو اپنی مرضی سے وہاں رہنا چاہتے ہیں۔












