عمران خان کی عوام سے 30 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے کی اپیل

0
483

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے عوام سے 30 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے استعفے یا احتساب کے لیے پیش ہونے تک اسمبلی کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں چیئرمین نے وزیراعظم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس میں بھارت کو واضح پیغام دے جاچکا تھا جس کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جانا بے مقصد تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نہ جانے پر پی ٹی آئی کو بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم اجلاس کے بائیکاٹ کا ہمارا فیصلہ درست تھا۔

پی ٹی آئی چیئرمین کا دعویٰ تھا کہ حکومت اور پیپلزپارٹی میں نورا کشتی چل رہی ہے، اور ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم اور سابق صدر آصف علی زرادری، دونوں ہی کرپشن کنگ ہیں۔

عمران خان نے الزام لگایا کہ نوازشریف اور آصف زرداری ایک ہی ہیں، دونوں نے کرپشن کے ذریعے ملک کو لوٹا، لیکن ‘میں مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری جیسا سیاستدان نہیں ہوں، جنھوں نے نواز شریف سے ہاتھ ملا لیا ہے’۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ‘میں دوسروں کی طرح منافقت نہیں کرسکتا، میں جس کو مجرم سمجھتا ہوں اس سے ہاتھ نہیں ملا سکتا’۔

عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اعلان کیا کہ نواز شریف مجرم ثابت ہوگئے ہیں، میں انہیں وزیراعظم نہیں مانتا، ساتھ ہی الزام بھی لگایا کہ حکمرانوں نے قوم کی اخلاقیات تباہ کردی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلاول نواز شریف کو غدار کہتے ہیں اور پھر ہاتھ بھی ملاتے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلزپارٹی میں ایسے لوگ ہیں جو احتساب چاہتے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ اعتزاز احسن نے بہت کوشش کی کہ نواز شریف کا احتساب ہو۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا مجھے صرف سپریم کورٹ سے تھوڑی بہت اُمید ہے اور اسی لیے پی ٹی آئی نے پاناما سے متعلق سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن میں ملوث لوگ ملک کیلئے دنیا کے سامنے کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں، عوام کو اگر ملک بچانا ہے تو سب کو کھڑا ہونا ہوگا جس کے لیے وہ 30 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں۔

اس سے قبل عمران خاں نے اسلام آباد میں تحریک انصاف کی جنرل کونسل اجلاس میں شرکت کی تھی۔

خیال رہے کہ 5 اکتوبر کو عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی بدھ کے روز ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کرے گی۔

تحریک انصاف کے کور گروپ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گذشتہ روز حکومت کی جانب سے طلب کی جانے والے اے پی سی کے حوالے سے پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ تحفظات کے باوجود شاہ محمود قریشی کو اے پی سی میں بھیجا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی جارحیت اور کشمیریوں کے حقوق پر تمام پارٹیاں ایک پیج پر ہیں، ‘سب کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں’۔

انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اے پی سی میں جو فیصلے ہوئے ان میں کیا نہیں تھا؟ جو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا، ‘پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کچھ نیا نہیں ہوگا’۔

یاد رہے کہ 30 ستمبر کو رائے ونڈ مارچ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم نواز شریف نے محرم الحرام تک خود کو پاناما لیکس کے حوالے سے تحقیقات کے لیے پیش نہیں کیا تو انہیں حکومت نہیں کرنے دیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ چوری کے پیسے نے حکمرانوں کو بزدل کردیا، قوم کے 60 کروڑ روپے جاتی امراء کی دیواروں پر لگے، حکمرانوں نے ساڑھے 8 ارب روپے اپنے محلات کی سیکیورٹی پر خرچ کردیے، وزیر اعظم نواز شریف نے جاتی امراء میں غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کیا جبکہ وائٹ ہاؤس کے عملے کی تعداد جاتی امراء کے عملے سے آدھی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں آف شور کمپنیوں کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لاء فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقتور اور سیاسی شخصیات کے مالی معاملات عیاں ہوئے تھے۔

ان دستاویزات میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم نے ایک اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کمیشن کے ٹی او آرز پر حکومت اور حزب اختلاف میں اب تک اتفاق نہیں ہو سکا۔

تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ حکومت پاناما لیکس کی آزادانہ تحقیقات کروانے کے لیے اپوزیشن کے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) کو تسلیم کرے۔

سیدہ قرۃ العین نقوی۔ بیورو چیف عالمی اخبار اسلام آباد، راولپنڈی

SHARE

LEAVE A REPLY