وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا افغانستان کے ساتھ رہنا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاتارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے مگر خیبرپختونخوا قیادت کی ساری توجہ ایک قیدی کو جیل سے رہا کرانے پر ہے، سہیل آفریدی انتظامی طور پر ناکامی کے بعد اب سیاسی طور پر بھی ناکام ہوچکے، خیبرپختونخوا کے عوام بنیادی سہولیات کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے اندر تباہی و بربادی پھیل چکی ہے، دہشتگردی خود صوبائی حکومت نے پھیلائی، اس کا تدارک نہیں کیا، افغانستان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کی انہوں نے آج تک مذمت نہیں کی، پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا افغانستان کے ساتھ رہنا ہے۔

وزیر اطلاعات کاکہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں ہرسال خیبرپختونخوا حکومت کو اربوں روپے فنڈز دیے جاتے ہیں، کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں ملنے والا پیسا انہوں نے کہاں خرچ کیا ہے؟ وزارت داخلہ نے خیبرپختونخوا پولیس کے لیے جدید گاڑیاں دینےکی پیشکش کی تو انہوں نے انکار کردیا، پی ٹی آئی قیادت نے خیبرپختونخوا پولیس کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔

اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ آپ کا افغانستان کے بارے میں نرم کیوں رویہ ہے ؟ آپ کو بلٹ پروف گاڑیاں دی جاتی ہیں آپ وہ واپس کرتے ہیں، کے پی میں جو نیا پولیس ایکٹ جو آیا ہے اس میں پولیس کا اختیار لینے کی کوشش کی گئی۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے پی ٹی آئی کو اسلام آباد آکر امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے پی ٹی آئی کو اسلام آباد آکر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت انہیں بھرپور طریقے سے روکے گی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج تک پی ٹی آئی کو پرامن احتجاج کرتے نہیں دیکھا، یہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ ان کے ساتھ وہ ہوگا جو یہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ عمران خان کی بہنوں کو مصدقہ اطلاع پر گرفتار کیا گیا کہ وہ امن و امان خراب کرینگی.

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں بات کریں تو کس سے کریں ؟ ان کے ہاں انچارج اور فیصلہ ساز کون ہے؟ بیرسٹر گوہر فارغ ہیں، پی ٹی آئی میں ان کی کوئی نہیں سنتا، یہ جو دو تین بندے کہتے ہیں بات کرلیں ،ان کے پلے ہے کیا؟ ان سے مذاکرات کا کوئی جواز اور فائدہ نہیں، ان کی زبان پر اعتبار نہیں ہے۔

…………….

وفاقی وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت انسداد دہشتگردی کےلیے وسائل کی کمی کا رونا روتی ہے لیکن مسئلہ فنڈ نہیں نیت کا ہے۔

کوہاٹ میں میڈیا سے گفتگو میں عطا تارڑ نے سوال کیاکہ صوبائی حکومت جواب دے کہ لا اینڈ آرڈر اور ترقیاتی کاموں کا پیسہ کہاں گیا؟

وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا پی ٹی آئی والے فنڈز کی بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، انہوں نے اپنے تمام من پسند افراد کو ٹھیکے دیے ہوئے ہیں، مائننگ کے جتنے ٹھیکے ملے ہیں کن کو دیے ہیں، آپ خیبر پختونخوا میں لوگوں کے لیے ترقی کا کام کریں، سارا فنڈ ان کی سیاسی جماعت کھا جاتی ہے، پی ٹی آئی والوں کو ساڑھے 12 سالوں کا جواب دینا ہوگا۔

عطاتارڑ نے کہا سہیل آفریدی اگرکچھ نہیں کر سکتے تو گھر چلے جائیں، اگر یہ کچھ نہیں کرسکتے تو کرسی سے اتر کیوں نہیں جاتے

عطا تارڑ نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کو چاہیے تھا کہ وہ یہاں آتے اور زخمیوں کو گلے لگاتے لیکن وہ ہیلی کاپٹر پر 15 منٹ کے لیے آئے، چکر لگایا اور چلے گئے، وزیر اعلیٰ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کےلیے لاہور گئے، ان کے پاس انتشار کے لیے وقت ہے لیکن صوبے کے عوام کےلیے نہیں۔

وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ کسی کو اسلام آباد کی طرف نہیں آنے دیں گے، پی ٹی آئی کو تباہی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پی ٹی آئی نے کبھی پر امن احتجاج نہیں کیا، پی ٹی آئی والوں کا جلاؤ ،گھیراؤ کا احتجاج ہے، یہ کبھی پر امن نہیں رہے، دعویٰ کیا کہ یہ احتجاج کے دوران خواتین کو ہراساں کرتے ہیں، پولیس اہلکاروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا بات چیت کی کتنی بار کوشش کی گئی، 6 بار وزیر اعظم نے خود کہا، پی ٹی آئی والے بات چیت کرنے والے لوگ نہیں، یہ احتجاج کررہےہیں اس میں تاجروں،کسانوں اور دیگر لوگوں کا کیا قصور ہے؟ پی ٹی آئی والوں سے بات چیت کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں لیکن یہ سنجیدہ لوگ نہیں ہیں، اگر پی ٹی آئی والوں کو بات چیت کرنی ہوتی تو بہت پہلے کر چکے ہوتے۔

وفاقی وزیراطلاعات نے اس سے قبل کوہاٹ دھماکے میں شہید اہلکار کے والد اور اسپتال میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔

میڈیا سےگفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ آج کوہاٹ کی فضا سوگوار ہے، دھرتی کے بہادر جوانوں نے ملکی دفاع کےلیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، فوج اور پولیس کے بہادر جوانوں اور افسران نے بہادری سے آپریشن میں حصہ لیا، بزدل دہشتگرد چھپ کر وار کرتے ہیں، ہم سب مل کر دہشتگردی کے ناسورکو ختم کرکے دم لیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY