وفاقی وزیر اسد عمر نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو وطن واپس آنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لندن دیار غیر جگہ ہے، پاکستان ان کا ملک، ان کی دھرتی ہے، وہ پاکستان آئیں، سرکار ان کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کرتے ہوئے محفوظ جگہ پر رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں محفوظ جگہ جیل سے زیادہ کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ جیل سے ہی گئے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کی سیاست کی بنیاد انصاف ہے، وہ اپنی بنیاد سے کبھی نہیں ہٹیں گے۔

سکھر ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ میاں محمد نواز شریف پر لندن میں حملہ ہونے کی ہمیں اطلاعات نہیں، کیونکہ ہم پاکستان میں ہیں اور وہ لندن میں ہیں، اگر ان پر حملہ ہوا ہے تو میرا مشورہ ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے ملک آجائیں، حکومت انہیں محفوظ جگہ پر بہتر جگہ پر رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی سیاست کی بنیاد ہی انصاف ہے، ہو نہیں سکتا کہ وزیراعظم سیاست کے اپنے بنیادی وعدے سے منحرف ہوں۔ انصاف کے تقاضے سب کے لئے پورے ہونے چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے لئے بھی یہی ہونا چاہیے اور اگر انہوں نے غیر قانونی کام نہیں کیا تو وہ سرخرو ہوجائیں گے لیکن قانون کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ کورونا ویکسین لگوانی چاہیے، میرے اہلخانہ نے بھی لگوائی ہے، یہ ایسی چیز ہے، جس سے آپ کی زندگی کو جو خطرہ ہے، اسے کم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اپنے ہی وزن تلے دب چکی اور ان کی تحریک اب ختم ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے اس وقت سیاسی ہلچل کم ہے، حکومت کو کہیں پر بھی کوئی خطرہ نہیں، حالات سب ٹھیک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو روز قبل ایم این ایز کی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی تھی، میں حلقوں میں ترقیاتی کام ودیگر مسائل سے آگاہ کیا گیا، جس کے بعد ایم این ایز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ بتایا کہ وہ حکومت کے خلاف نہیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں کووڈ بہت خطرناک حد تک بڑھ رہا تھا، حکومتی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کے بعد بہتری آ رہی ہے، پاکستان کو کووڈ سے مکمل طور پر نکالنا ہے تو انہیں اس طریقہ کار کو اپنانا ہوگا جو ساری دنیا کررہی ہے، جس میں ویکسین کا لگوانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے توسط سے سندھ کی عوام سے خصوصی درخواست کرتا ہوں کہ وہ ویکسین جلد سے جلد لگوائیں کیونکہ وفاقی حکومت نے تمام پاکستانیوں کے لئے ویکسین کا انتظام کر لیا ہے، کروڑوں کی تعداد میں ویکسین ملک میں پہنچ چکی ہیں، جنہیں تمام صوبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY