ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے سمندر کی تہہ میں جانے والے پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان سمیت 5 افراد کی ہلاکت کی وجہ سامنے آگئی۔
ٹائٹن آبدوز کے حادثے سے متعلق امریکی کوسٹ گارڈ نے رپورٹ جاری کردی جس میں آبدوز ٹائٹن کے حفاظتی معیار کو انتہائی ناقص قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیاگیاکہ آبدوز کے انسپکشن میں مجرمانہ غفلت برتی گئی اور انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت اس کی تباہی کا باعث بنی۔
امریکی کوسٹ گارڈ کی رپورٹ کے مطابق آبدوز کی دیکھ بال، جانچ اور حفاظت کے لیے بنائے گئے انجنیئرنگ پروٹوکول پر عمل نہيں کیا گيا ۔
رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہےکہ آبدوز کا ڈیزائن بنیادی طورپر ناقص تھا ،کمپنی میں احتساب ناپید تھا اور رویہ غیر منظم تھا اور یہی بات ان 5 افرادکی موت کی وجہ بنی۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ سب میرین کے حفاظتی معیار پر سوال اٹھانے والے عملے کو کمپنی سے بھی برخاست کردیا گيا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس حادثے میں مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اسٹوکٹن رش ‘Stockton Rush’ تھے جو خود بھی اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یاد رہےکہ جون 2023 میں ٹائٹینک کے ملبے کی جانب جاتے ہوئے سمندر کی تہہ میں آبدوز پھٹنے سے پاکستانی باپ بیٹا سمیت 5 افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
Published on: 8 Jul 2023
بحر اوقیانوس میں ٹائی ٹینک کا ملبہ دکھانے کیلئے سمندر کی تہہ میں جانے والی آبدوز ” ٹائٹن ” کی ملکیتی کمپنی ’اوشین گیٹ‘ نے تمام سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کردی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوشین گیٹ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری مختصر پیغام میں کہا ہے کہ اوشین گیٹ نے تمام ایکسپلوریشن اور کمرشل آپریشنز کو معطل کر دیا ہے ۔
کمپنی نے بتایا کہ اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش بھی اُس بدقسمت آبدوز میں سوار تھے جو 18 جون کو روانہ ہوئی اور پھر 22 جون کو اس کا ملبہ ملا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ٹائی ٹینک کا ملبہ دکھانے کیلئے سمندر کی تہہ میں جانے کے سفر کے دوران آبدوز ’ٹائٹن‘ پھٹ گئی تھی ، آبدوز ’ٹائٹن‘ 18 جون کو ٹائی ٹینک کی طرف غوطہ لگانے کے تقریباً 1 گھنٹہ 45 منٹ بعد ہی ممکنہ طور پر تباہ ہوگیا تھا۔
حکام نے 22 جون کو تصدیق کی کہ ٹائٹن کو تباہ کن حادثے کا سامنا کرنا پڑا ، اس حادثے میں آبدوز میں سوار تمام 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جس میں کمپنی کے سی ای او بھی شامل تھے، حادثے میں دو پاکستانی شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد بھی جاں بحق ہوئے تھے۔
کمپنی نے سمندر کی سطح سے تقریباً 12,500 فٹ نیچے ٹائی ٹینک کی 111 سال پرانی باقیات کے لیے ٹائٹن آبدوز پر فی کس ڈھائی لاکھ ڈالر وصول کیےتھے ۔
دوسری جانب کمپنی کی ویب سائٹ پر اب بھی مہمات کی نمایاں ریلیز کے ساتھ ساتھ ٹائی ٹینک کے ملبے کے دورے سمیت دیگر مہم کی پیش کشوں کی تفصیل بھی شامل ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ٹائٹن حادثے میں 5 افرادکی موت سے بھی سبق نہ سیکھا گیا۔
اوشین گیٹ ایکسپی ڈیشنز نے ٹائی ٹینک کی باقیات دیکھنے کے خواہش مندوں کو ڈھائی لاکھ ڈالر کاسیاحتی سفر کرانے کا اشتہار دیدیا۔
خیال رہے کہ 1912 میں تباہ ہونے والے مسافر بردار بحری جہاز ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے کیلئے جانے والی آبدوز ٹائٹن 18 جون کو بحر اوقیانوس میں لاپتا ہوگئی تھی۔
اوشین گیٹ کی ٹائٹن آبدوز کے حادثے میں پاکستانی کاروباری شخصیت شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد سمیت 5 سیاح مارے گئے تھے۔
ٹائٹن کا ملبہ نکال کرحادثے کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں کی گئیں۔
ٹائی ٹینک کی سیاحت کے لیے لوگوں کو زیر سمندر لے جانے کے دوران تباہ ہونے والی اوشین گیٹ کمپنی کی آبدوز ’ٹائٹن‘ کا ملبہ بحراوقیانوس سے نکال لیا گیا ہے جب کہ اس کے ساتھ مکمنہ طور پر انسانی باقیات ملنےکا بھی انکشاف ہوا ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ٹائٹن آبدوز کے ملبے سے ممکنہ طور پر انسانی باقیات بھی ملی ہیں۔
امریکی کوسٹ گارڈ کے حکام کے مطابق ٹائٹن کے ٹکڑوں اور ممکنہ طور پر اس میں موجود افراد کی باقیات کو کینیڈا کے جزیرے نیوفاؤنڈ لینڈ منتقل کیا گیا ہے، یہ وہی جگہ ہے جہاں سے بدقسمت آبدوز اپنے آخری سفر پر روانہ ہوئی تھی۔
اندازےکے مطابق نیوفاؤنڈلینڈ سے جائے حادثہ کا فاصلہ تقریباً 400 میل ہے۔













