افغان مشیر برائے قومی سلامتی کے بیان پر تنازع

0
469

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان مشیر برائے قومی سلامتی کے حالیہ بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے امن عمل کی راہ میں روکاوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

ہفتے کو پاکستان کے شہر ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اب کوئی بھی پاکستانی نہ تو افغان مشیر برائے قومی سلامتی سے بات کرے گا اور نہ ہی ہاتھ ملائے گا۔

افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب تواتر سے پاکستان اور بالخصوص اس کی فوج پر افغانستان میں طالبان کو مبینہ معاونت فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتے آئے ہیں جب کہ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

لیکن گزشتہ ماہ حمد اللہ محب نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان صوبے ننگر ہار میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رپورٹس کے مطابق پاکستان کا موازنہ ’قحبہ خانے‘ سے کیا تھا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے پہلی بار باقاعدہ بیان سامنے آیا ہے جس کے مطابق افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے ان کے ساتھ پیدا ہونے والی تلخی کی تصدیق کی گئی ہے۔

ایک اعلیٰ پاکستانی عہدے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ اسلام آباد نے کابل کو ’غیر رسمی ذرائع‘ سے آگاہ کر دیا ہے کہ آئندہ حمداللہ محب کے ساتھ سفارتی سطح پر روابط نہیں رکھے جائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے حمداللہ محب کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’جب سے آپ نے پاکستان کا موازنہ قحبہ خانے سے کیا ہے میرا خون کھول رہا ہے۔ آپ کو شرم آنی چاہیے اور آپ کو اپنا طرز عمل ٹھیک کرنا ہو گا۔‘

SHARE

LEAVE A REPLY