پولیس نے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کے 17 اراکین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
اپوزیشن ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمہ بجلی روڈ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیاگیا۔
مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت، کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی اور پولیس اہلکاروں پر حملے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مقدمےکے متن میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کو بجٹ اجلاس کے موقع پر اپوزیشن اراکین نے اپنے حامیوں کےساتھ اسمبلی گیٹ زبردستی بند کروائے، پولیس اہلکاروں کے ساتھ دھکم پیل کی، حملے کیے، اہلکاروں کی وردیاں پھاڑ یں جس میں 5 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے واقعے سے متعلق تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان اور پولیس افسران کے خلاف مقدمہ در ج کروانے کے لیے اپوزیشن کی درخواستوں پر کوئی پیش رفت نا ہو سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ اور پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئے 3 درخواستیں بجلی روڈ پولیس تھانے میں دے دی گئیں۔
بی این پی کے رکن اختر لانگو نے وزیراعلیٰ اور پولیس کے خلاف ایف آئی آر کیلئے تین درخواستیں دی ہیں۔ ایک درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بکتر بند گاڑی کی ٹکر سے تین ایم پی ایز کو زخمی کیا گیا۔
دوسری درخواست ایس ایس پی آپریشن کی جانب سے رکن اسمبلی ثناء بلوچ کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے خلاف دی گئی جبکہ تیسری درخواست پولیس کے لاٹھی چارج اور تشدد کے خلاف دی گئی۔
مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ حکومت ارکان اسمبلی کے قتل کے ارادے سے آئی تھی، ہمارے ایم پی ایز پر لاٹھی چارج کیا گیا، وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔












