امريکی انتظاميہ کی جانب سے چند مخصوص صحافيوں اور اداروں کو جمعے چوبيس فروری کے روز منعقدہ وائٹ ہاؤس کی يوميہ پريس بريفنگ ميں شرکت سے روکے جانے پر شديد رد عمل ديکھنے ميں آيا ہے۔

’وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ايسوسی ايشن‘ کے مطابق اس فيصلے کے شديد مذمت جاری ہے اور اس سلسلے ميں متعلقہ عملے سے رابطہ کيا جا رہا ہے۔ سی اين اين کے ايک اينکر جيک ٹيپر نے اسے ’غير امر يکی اقدام‘ قرار ديا ہے۔ علاوہ ازيں ادارے کے محکمہء کميونيکيشن نے اپنے ايک ٹوئٹر پيغام ميں لکھا ہے کہ يہ ايک ناقابل قبول پيش رفت ہے۔

پريس بريفنگ سے سی اين اين، نيو يارک ٹائمز اور کئی ديگر ايسے بڑے اداروں کو خارج کر ديا گيا تھا جو عموماً انتظاميہ پر تنقيد کرتے رہے ہيں۔ بی بی سی، دا لاس اينجيلس ٹائمز اور کئی ايجنسياں بھی بريفنگ کا حصہ نہ تھيں۔ قدامت پسند اور ’دوست‘ مانے جانے والے فوکس نيوز، ون امريکا اور برائٹ بارٹ جيسے ادارے بريفنگ ميں موجود تھے، جو بند دروازوں کے پيچھے ہوئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY