رہبر بھی یہ ہمدم یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
بد قسمتی سے ہمارے ہاں نظام تعلیم میں یکسانیت اور جدیدیت نہیں پائی جاتی اس پر مزید کام کرنے اور کرتے رہنے کی ضرورت ہے ۔ تعلیم کا نظام ہمیشہ تہذیب و تمدن اور کلچر کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔
کیا برا ہوتا اگر خطیب حسین کسی عربی یا اسلامیات کی تعلیم حاصل کر رہا ہوتا تو یہ سانحہ پیش نہ آتا اور قوم ایک استاد سے محروم نہ ہوتی ۔ ایک بیٹا یتم نہ ہوتا ایک عورت بیوہ نہ ہوتی ۔
ہاں یہ ہو سکتا ہے خطیب حسین یا اسی ذہنیت کے طالب علموں کو ان کے موافق ماحول دیا جائے ۔ اس نظامِ تعلیم میں یہ المیہ ہے کہ داخلے کے لیے کوئ اسسمنٹ ٹیسٹ نام کی کوئ چیز موجود نہیں کوئ جانچ نہیں کوئ نفسیاتی مشاھدہ نہیں ۔ اور نہ ہی سکولوں میں نفسیاتی الجھاؤ کا کوئ سلجھاؤ ہے ۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر ہائی سکول میں ایک ماہر نفسیات بطور آبزرور کے اپنا فرض انجام دے جو طالب علموں کی موٹیویشن کرے ان کے مسائل کا حل تلاش کرے سکولوں میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں نفسیاتی مشقوں پر مشتمل ہو وں ۔ جس سے طالب علموں کی نفسیاتی صلاحیت کا مشاہدہ کیا جائے ۔ بات یہاں تک نہیں ہے اس ماہر نفسیات کی والدین سے کونسلنگ کرائ جائے اور اس سلسلے کو جاری رکھا جائے ۔
ایک ماہر نفسیات کی خدمات ہمارے سکول سسٹم اور ہمارے معاشرے کے لیے بہت ضروری ہے ۔ اس طرح سکول ریزلٹ کے ساتھ ساتھ طالب علم کی ہسٹری بھی جاری کرے جو اگلے ادارے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔ اور ہم ایک ایسی فہرست بھی تیار کر سکتے ان افراد کی جن کو مکمل علاج کی ضرورت ہوتی ہے ۔
قومیں ایسے نہیں بنتی خون سے آبیاری کرنی پڑتی ہے ۔
سلمان افضل بزدار













