عورت ایک گھر کی، معاشرے کی مرکزی ستون کی سی حیثیت رکھتی ہے، وہ مربی انسان ہے، معلم انسان ہے، تمغہ مادر رب تعالیٰ نے عورت ہی کو عطا کیا، جنت اسکے قدموں میں رکھ دی اور اپنی محبت کو ماں کی محبت سے جوڑا یعنی مظہر ربوبیت ماں کی مامتا کو رکھا ۔ ۔ ۔
وہ کوکھ جہاں سے معاشرے کے جوان جنم لیتے ہیں بھلا کیا ایسے ممکن ہو سکتا ہے کہ رب تعالی کسی نادان، احمق یا کم عقل کے ہاتھ میں معاشرے کے مستقبل اور انیوالی نسلوں کی زمہ داری دے دے ۔ ۔ ۔
کوئ بھی معاشرتی بدلاو ممکن نہیں خواتین کی شمولیت کے بنا اگر کسی بھی معاشرے کو ترقی کرنا ہے تو خواتین کو بحیثیت بیٹی، بیوی، بہو، ماں وہ عزت احترام اور حقوق دینا ہونگے جو اس کی شخصیت کی اہم ضرورت ہیں جن میں لازمی ترین چیزیں ۔ ۔
مثلا تعلیم و تربیت و ہنر و کام کے یکساں مواقع
شادی شدہ زندگی میں خصوصی طور سے نکاح نامہ فل کرتے وقت جو نان نفقہ، طلاق کے حقوق، حق مہر جو اکثریت دیتی ہی نہیں یا دے بھی تو اس طرح سے کہ نہ دینے جیسا ہی ہوتا یے ۔ ۔ ۔
یہ وہ کالم ہے جو نکاح ناموں پہ اکثر کراس کردیئے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔
اسکے علاوہ کام کرنے کے یکساں باعزت مواقع کہ سسرال میں جاتے ہی اسکی شخصیت کو گرہن لگنے لگتا ہے اور کبھی شوہر تو کبھی سسرال کی استعمال اور بے جا پابندیوں اور دباو سے ایک جیتی جاگتی شخصیت اپنی عزت نفس کھونے لگتی ہے ۔ ۔ ۔
آج عورت مارچ جو کہ منفی اھداف کے تحت مسائل کو استعمال کرتے ہوئے نکالے جا رہے ہیں مگر اگر توجہ کی جائے کہ کیا کہا جارہا ہے نہ نسبت اسکے کے کون اور کیوں کہ رہا ہے اور
سنجیدگی سے ان مسائل کو دیکھا جائے اور حل کی جانب بڑھایا جائے تاکہ عام پسی ہوئی عورت کی زندگی جو کی ایسے مارچ کے بعد اور تکلیف سے گزرے گی، اس سے زندگیوں کو بچایا جا سکے
مردوزن معاشرے کے ستون ہیں کوئی گاڑی اونچے نیچے پہیوں سے نہیں چلا کرتی بلکہ برابر کے پہیوں ہی سے آگے بڑھ سکتی ہے
ہم نے ایک سلوگن دیکھا
“میرا جسم میری مرضی”
یقیننا بظاہر یہ بہت ہی غلط جملہ ہے اور دین اسلام کی روح سے منافی دکھائی دیتا ہے کیونکہ ہم با حیثیت مسلمان رب کے بندے ہیں بھلے مرد ہوں یا کہ عورت ۔ ۔ ۔
اور مردوزن کی جسمانی ریاست رب تعالی کی امانت میں دی گئ سرزمین ہے جسکو رب تعالی نے انسان کو دیا ہے. ۔ ۔
سو جب رب کو رب مانتے ہیں تو رب میرا میرے جسم میری روح میرے قلب میرے ظاہر و باطن کا مالک ہے ۔ ۔ ۔
اور جب مالک مطلقالعنان مالک رب ہے تو قوانین اس جسم پہ میرے نہیں، میری مرضی کے نہیں رب کی مرضی کے چلیں گے
۔ ۔ ۔
اب آخر یہ کہنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئ؟
جنہوں نے کہا ان کے اھداف کو ابھی ہم زکر نہیں کر رہے اگر ایک لمحے کو سوچنے کی کوشش کی جائے تو ہم کیا دیکھ سکتے ہیں
کہ ایک عورت جو رشتہ ازدواج میں ہے جسکی زندگی میں ہر سال ایک بچہ وہ پیدا کر رہی ہے اور جسکی صحت اور حالت اچھی نہیں مگر اسکو اتنی اجازت نہیں دی جارہی کے وہ شوہر کو انکار کر سکے کہ فی الحال اور اولاد نہیں چاہتی، یا اتنی ہمت نہیں کر پارہی کے شوہر کو حق زوجیت کی ادائیگی سے انکار کر سکے کہ اسکا جسم ہے اور وہ اتنی طاقت، ہمت، صحت نہیں رکھتی یا اس وقت ایسا نہیں چاہتی کہ جب اس کا شوہر اس پہ اپنی مرضی مسلط کر رہا ہے مگر اب یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر گھر میں یہی سب ہوتا ہو مگر اسطرح کے کیسز ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جس کو آپ انکار نہیں کر سکتے کہ جہاں
عورت تمام دن مزدوری بھی کرتی ہے، ہریگنینٹ بھی ہے اور پھر حق زوجیت پہ اسوقت مجبور کی جارہی ہے کہ جب اسکی جسمانی حالت اس کو اجازت نہیں دے رہی اب رب کی امانت جو وجود اسکے پاس ہے کیا
اس وجود کی حفاظت، اسکی صحت و تندرستی، اسکی تکلیف و ازیت کو دور کرنا اس عورت کا دینی شرعی حق نہیں ہے ۔ ۔ ۔؟
اسکا جسم اسکی مرضی، یعنی جس وقت وہ نہیں چاہتی کہ اسکی طبیعت و صحت کے برخلاف کچھ ہو تو کیا وہ یہ کہنے کا اختیار رکھتی ہے کہ نہ کہ سکے شوہر کو
یا جب پریگنینسی کی حالت میں وہ گھر کے کام نہیں کرپاتی اور اسکو جزباتی اور جسمانی اعتبار سے سکون اور آرام کی طلب ہوتی ہے کیا یہ معاشرے میں موجود لوگ اسکو طعنے نہیں دیتے کہ
ہم نے بھی بچے پیدا کیے ہیں، یہ اچھی ہے ہر وقت آرام کرنا چاہتی یے، ہم نے تو نو نو مہینے تک کام کیے گھر کے، وغیرہ وغیرہ یہ طعنے بہت عام ہیں آپ کسی قیمت پہ ان کو انکار نہیں کر سکتے یہ معاشرتی سچائیاں ہیں یہ طعنہ زنی، یہ زبردستی
سب نہ سہی اکثریت شادی شدہ خواتین کی زندگیوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں،
گھر پہ بہو لاتے ہی کام والی ہٹا دی جاتی ہے کہ اب کام والی کی کیا ضرورت ہے گویا آپ ماسی لیکر ارہے ہیں ۔ ۔ ۔
شوہر گھر پہ خرچ کرتا ہے مگر بیوی کو کمتری کااحساس دلا دلا کر اور اس کو اسکی کمزوریاں اور خامیوں کو سمجھا کر بظاہر یہ رویے عام سی معمولی سی باتیں لگتے ہیں لیکن
ان رویوں کے باعث جو دوریاں جو فاصلے جنم لیتے ہیں انکو آپ صدیوں تک بھی ختم نہیں کر سکتے یہ وہ زہریلے رویے ہیں جنکے باعث گھر کا سکون، اسکی خوشی اسکا اطمینان ختم ہوجاتا یے اور گھر کم اور پنجرہ زیادہ لگنے لگتا ہے خصوصی طور سے مرد اور سسرال کو عزت نفس کا شدید خیال رکھنے کی ضرورت ہے
کہ ہمسفر، ہمسر، ایک ساتھ دینے والا ساتھی لارہے ہیں نوکرانی یا خریدی گئ استعمال کی شے گھر نہیں لا رہے ۔ ۔ ۔
عزت نفس کی پامالی سے بچاو کا حق ۔ ۔
طعنہ زنی سے اجتناب کا حق۔ ۔
فکر اور سوچ کی آزادی کا حق:
یعنی وہ یہ سوچنے کی آزادی رکھتی ہو کہ تعلیم حاصل کرنا، آگے جاب یا کیریر کو بڑھانا چاہتی ہے، یا کوئی ہنر سیکھنے کا شوق رکھتی یے یا اپنی صلاحیتوں کو گھر کے علاوہ بھی اگر استعمال کرنا چاہتی ہے
تو کون سے گھرانے دینگے پہلے شوہر پھر سسرال یا کئ جگہوں پہ بچیوں کو ابھی میٹرک ایف اے کروا کے شادی کردیا جاتا ہے
اور کم عمری میں نہ انکو آگے کا پتہ ہوتا ہے نہ پیچھے کا اور نا تعلیلم نہ ہنر نہ سسرال نہ گھر کہیں انکے لئے جائے پناہ نہیں ہوتی اور دو تین بچوں کیساتھ
شوہر کی بد مزاجی کے باعث طلاق لیکر نہ وہ خود کو سنبھال پاتی ہیں نہ ہی بچوں کو اور معاشرے میں کھلونا بن کر زلت کا سامنا کرتی ہیں
طلاق کی صورت میں مناسب گھر اور جاب :
کے لیے مثبت وسائل اور جگہ انکو درکار ہے کوئی عورت طلاق کی خواہش مند نہیں ہوتی ہر عورت اپنے گھر کو بستے رکھنا چاہتی یے عموماً سو کچھ exceptions کے سوا سو ایسا نظام ہو ۔ ۔ ۔
کہ جہاں بچیوں کو شادی سے پہلے ایسا ہنر اور تعلیم دی جائے اور تیار کیا جائے کہ برے وقت میں انکو خوار نہ ہونا پڑے اور وہ اکنامیکلی خود پہ بھروسہ کر سکیں ۔ ۔ ۔
اور سوچنے سمجھنے کی وہ تربیت دی جائے کہ اصول زندگی واضح ہوں کہ کم پہ سمجھوتا ہو سکتا ہے کن پہ نہیں اور انسانوں کو پرکھنا کیسے ہے یہ عیاری اور چالاکیون سے مختلف بات ہے اسے سمجھداری، رشد، عقل و بصیرت کا ہونا کہتے ہیں کہ بچیوں کو اتنی تربییت دی جائے کہ بیدار وجود رکھتی ہوں وہ وجود جو حق و باطل، غلط درست کی تمیز کر سکے اور اصول پہ ڈٹ کہ جینا جانتا ہو اور خود پہ بھروسہ کر سکے ۔ ۔ ۔
طلاق بھی 3 طلاقیں اکھٹے نہ دی جائین قانون بجے کے ایسی صورت میں شوہر پہ زمہ داری یو کہ بیوی کو اتنے پیسے یا خرچہ دے کہ سہنا انتظام کر سکے ۔ ۔ ۔
حق وراثت جو ماں باپ اکثریت شادی کر دی ہے اس لیے دیتے نہیں جو کہ ظلم ہے ۔ ۔ ۔
شوہر کی جانب سے سیکیورٹی تاکہ خدانخواستہ کسی برے وقت میں سسرال کے لوگ اسکو بے دخل نہ کریں ۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













