سب سے خوبصورت خبر جو اب تک پڑھی وہ تھی چیف جسٹس صاحب کی طرف سے کہ بینک کے نادہندہ یا قرض معاف کرانے والے پچھتر فیصد واپس کردیں ان پر مقدمے نہیں ہونگے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ پیسہ ملک کے قرضے اُتارنے میں استعمال ہوگا بہت ہی خوش آئند بات ہے ۔کاش ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حکم جاری کرتے کہ آئیندہ جو بینک بھی قرض معاف کرے گا اُسے جواب دہ ہونا ہوگا یا معاف کرنے والا مینیجر یا عہدے دار وہ قرضہ ادا کرے گا جو اُس نے معاف کیا ۔تو شاید آگے کے لئے یہ پیسہ لے کر معاف کرانے والے کچھ کم ہوجاتے ۔جہاں کچھ اچھی خبریں ہیں اُس کے ساتھ ساتھ آگے کے لائحئہ عمل بھی طے کرنے چاہئیں تاکہ آنے والے دن ان تکالیف سے پاک ہو جائیں جو ہم سالوں سے بھگت رہے ہیں ۔اپنی کوتاہیوں کے سبب ۔
ملک کا قرضہ سب سے بڑا چیلنج ہے جو نہ صرف ہمیں مشکل میں ڈالے گا بلکہ ہماری معیشت کا بھی بیڑا غرق کردے گا ،یہ لوگ جو ہر دور میں اپنی چاندی کرتے ہیں انہیں تو ایلکیشن میں بھی نہیں آنا چاہئے تھا مگر ہمارا ایلیکشن کمیشن تو ہر ایک کو ہری چِٹ پکڑا رہا ہے ،کیسے ؟ یہ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا پھر چاہے مریم نواز ہوں شھباز ہوں یا اور بہت سارے لوگ جن پر کرپشن اور جھوٹ غلط بیانی اور جعلی کاغزات کے الزام ہیں وہ سب ہی ایلیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں پھر صفائی کہاں ہوگی ؟؟ لوٹوں کی تو کوئی بات نہیں کہ وہ سب ہمارے ہی ہیں اور پاکستانی ہیں ،کیونکہ کسی کو بھی اچھائی کی طرف آتے یا بدلتے دیر نہیں لگتی ۔اگر یہ لوگ جو دوسری پارٹیوں کو چھوڑ کر آئے ہیں ایک نئی پارٹی میں ہو سکتا ہے کہ کچھ اچھا کر جائیں اور اگر نہیں کرتینگے تو اب عوام کے ہاتھ انکی گردنوں تک جانے میں کوئی وقت نہیں لگے گا ۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ کس طرح انتخابی حلقوں میں آنے والوں سے باز پُرس کر رہے ہیں ،کس طرح انہیں جھنجوڑ رہے ہیں کہ کیا کیِا ہمارے لئے ۔یہ ہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر تبدیلی آتی ہے خان صاحب سے لاکھ اختلاف صحٰح مگر اس دور تک لانے کے لئے پاناما نے جس طرح جگایا اور خان نے جس طرح اللہ کی مدد سے سب کو اکھٹا کیا وہ ایک موقعہ ہے جسے ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہئے پھر کچھ مردِ مجاہد چیف جسٹس اور اُنکی ٹیم کے بھی کھڑے ہوئے کہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں اور وہ موٹی موٹٰی مچھلیاں جو ہمیشہ پھسل جاتی تھیں ہر قانون کے نیچے سے اب پکڑ میں آرہی ہیں پھر چاہے وہ بِلڈر ہوں یا کوئی سیاست دان سب کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور یہ وہ مناظر ہیں جن کے لئے ہماری آنکھیں ترستی تھیں ۔
لیکن ہم بِلڈر صآحب کو داد دینگے کہ وہ کس طرح ہر طرف سے بچتے ہیں اُن کے پاس بھی کوئی نوازی ٹوپی نظڑ آتی ہے ہمیں انہوں نے عدلیہ میں بھی جیسا چاہا کرا لیا اور عدلیہ بھی اپنی فیاضی میں کہیں کہیں کافی چھوٹ دیتی نظر آتی ہے اس صورت میں کہ سختی کے بجائے نرمی اختیار کرتی ہے اب بِلڈر صاحب بیس کروڑ سے پانچ پر لے آئے جبکہ بیس کیا ہمارے خٰیال میں تو وہ پچاس کروڑ بھی دے سکتے ہیں لیکن اپنی نیکیوں کو گنوانے میں استاد ہیں شاید ؟؟؟؟؟
ہم صرف اس بات پر حیران ہیں کہ کس طرح اپنے ملک کے اہم اور ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے اداروں کو سابق وزیرِ اعظم نے بیانات کی آگ میں جھونکا ہے وہ قابلِ حیرت ہے کہ کیا کسی ملک کے بڑے اس طرح اپنے اہم اداروں کو نشانہ بناتے ہیں ججز پر اس قدر نا زیبا تنقید کرتے ہیں ۔لیکن بات تو وہ ہی ہے جو بھی چھری تلے آتا ہے اسی طرح چیخ و پکار مچاتا ہے ۔جب تک زبح نہ کردیا جائے ۔معافی چاہتے ہیں سخت لفظ استعمال کیا مگر جب آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے تو الفاظ پر قابو نہیں رہتا ،،،
کہتے ہیں ایسا کبھی نہیں دیکھا واقعئی ایسا کبھی ان کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ عوام کے پاس جائینگے تو وہ پوچھے گی ،عدالت جائینگے تو وہاں پوچھ ہوگی ،یہ تو منظر ہی وہ ہے جو ہمارے سیاست دانوں اور اشرافیہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اس لئے ان کا شکوہ بجا ہے ۔لیکن شاید یہ بھول گئے کہ سو دن چور کے اب ایک دن عوام کا ۔کاش عوام واقعئی اپنے حق کو سمجھے اور پوچھے کہ کیوں ہمیں لُوٹا اور کیوں ہماری مٹی پلید کی ۔ورنہ نہ ہم نہ ہماری قوم کسی سے کم نہیں ہے ۔
جتنا عجب ہونا تھا ہو رہا ہے دو بچے اپنے باپ کی کمپین چلانے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور ہمارا میڈیا جو ہماری سمجھ سے کہیں آگے ہے کس طرح انہیں پروگراموں میں لا رہا ہے بغیر یہ سوچے کہ آئندہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا ،کیسے ہم برائی کو روکینگے کیونکہ نواز بھائی تو کوئی بھی حربہ نہیں چھوڑ رہے ملک اور قوم کی تباہی کا کیونکہ اُنکے مُہرے پِٹ رہے ہیں بری طرح اُن کی بساط ہار کی طرف جا رہی ہے اس لئے وہ اب صرف اور صرف یہ سوچ رہے ہیں کس طرح ناکام کر دوں ہر اُس بات کو جو مجھے نیچا دکھا رہی ہے ۔وہ معصوم بچے نون لیگ کی طرفداری کر رہے ہیں جنہیں شاید یہ بھی نہیں پتہ کہ سیاست کیا ہے اور جن کی وہ طرفداری کر رہے ہیں انہوں نے ملک کو کتنا نقصان پہنچا یا ہے ؟؟؟؟ٹی وی پر آنے کے لئے اب ہر کوئی نیا نیا ہربہ استعمال کرے گا اور ہم بچوں سے قلم دوات چھین کر انہیں سیاست میں دھکیل دینگے بغیر یہ جانے کہ اُن کا مستقبل کیا ہوگا ۔کیونکہ ہمیں اپنا نقصان جب نظر آتا ہے جب ہم اُسے اُٹھا چکے ہوتے ہیں ۔آج دانیال کے ساتھ کوئی نہیں تھا کاش سب ہی سوچیں کہ مفادات کس طرح بے حس بناتے ہیں ۔
جو لوگ اتنے بیمار ہیں کہ ڈاکٹر انہیں چلنے پھرنے گردن گھمانے تک کی اجازت نہیں دیتے وہ لندن میں سیڑھیاں چڑھتے اُترتے ۔گردن گھماتے تیز تیز چلتے نظر آتے ہیں لیکن ملک کی زمین پر وہ یہ سب کام انجام نہیں دے سکتے بلکہ یہاں آنے کے لئے جہاز میں بیٹھتے ہی شاید حضرت عزرائیل علیہ السلام ان کے سامنے آجائینگے اس لئے ہم کیا کہہ سکتے ہیں ۔
ہماری تو صرف ایک استدعا ہے کہ فیصلے جلدی آنے چاہئیں کیونکہ یہ قوم اور ملک کی قسمتوں کے فیصلے ہیں بے شک کسی کے بھی ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے مگر قانون جب تک بے رحم اور غیر اجنبدار نہیں ہوگا ہم اسی طرح لٹکے رہینگے ۔کرپشن کیا ہے تو کرپشن پر سزا دیں ان چوروں کو کسی اور چادر میں نہ چھپنے دیں کہ یہ چادریں جو ہم نے اب تک اُڑھائی ہیں انہوں نے ہمیں اندھا بھی کردیا ہے اور بہرہ بھی کہ ہم نہ سُنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اب اگر بینائی لوٹ آئی ہے تو اسے استعمال کریں اب اگر سمعت مل گئی ہے تو سنیں حق کی بقت انصاف کی بات ۔وگرنہ کوئی آپ کو معاف نہیں کرے گا نہ تاریخ نہ عوام ۔
اپنے ووٹ کی اور اپنی اہمیت کو سمجھیں ،جیسا کہ لغاری صاحب نے کہا کہ ایک پرچی پر اتنا ناز کرتے ہو، بالکل خود پر پہلے ناز کیجئے پھر اس پرچی پر ناز کیجئے کہ یہ پرچی اگر آپ نہیں دینگے تو لغاری صاحب جیسے لوگ ہمیں اسمبلی میں نہیں نظر آئینگے بس خود پر ناز کیجئے اور یہ پرچی کسی ایماندار اور ملک سے محبت کرنے والے کام کرنے والے کے ڈبے میں ڈالئے ۔ان کے نہیں جن سے آپ پانچ سال بعد بھی کوئی جواب نہیں پاتے اپنی محرومیوں کا ۔بلکہ طعنے سنتے ہیں ۔
اللہ میرے ملک کو اچھے ہاتھوں میں دے ایماندار اور مُخلص ہاتھوں میں ۔انشاء اللہ
پچھتر فیصد جمع کراؤ ،قرض اتارینگے ۔عالم آرا
806
0












