طارق بٹ ۔ جماعت آوٹ ذات ان

0
51

سیاست اور سیاست دان نے عجب چلن اپنا لیا ہے کہ تمام تر نظریات اور اصول منہ دیکھتے رہ گئے جماعت آوٹ ہوتی جا رہی ہے اور ذات ان ۔ کل تک جو بڑے بلند و بانگ دعوے کیا کرتے تھے ہمارا جینا مرنا جماعت کے لئے ہے کہ ہماری تمام تر دلچسپیوں کا محور و مرکز ہماری جماعت ہے آج اپنے اپنے مفاد کی خاطر اس اس لیڈر کے ساتھ جڑے بیٹھے ہیں جو جماعت کے ٹکٹ سے محروم ہونے کے باعث اپنی ذات کو جماعت سمجھ کر اپنی ہی جماعت کے نامزد کردہ امیدوار کے مد مقابل انتخابات کے میدان میں چھلانگ لگائے بیٹھے ہیں ۔ نہ صرف وہ خود بلکہ ان کی قریبی ٹیمیں جو ان کے حلقہ انتخاب میں ان کی نمائیندگی کیا کرتیں تھیں وہ بھی اپنی جماعت سے قطع تعلق کر کے بڑے جوش و خروش کے ساتھ آزاد امیدوار کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ زیر بحث کوئی ایک جماعت یا ایک امیدوار نہیں بلکہ ملک بھر میں ایسے امیدواروں کی تعداد بیسیوں کے حساب سے ہے جو اپنی ماں پارٹی ( مدر پارٹی) کو چھوڑ چھاڑ اپنی ہی جماعت کو نقصان پہنچانے کے لئے مقابلے میں موجود ہیں ۔

سوال تو اٹھتا ہے کہ کیا واقعی آپ کا کوئی نظریہ تھا کیا واقعی آپ کسی اصول کے تحت کسی جماعت کے ساتھ منسلک تھے اگر نہیں تو آپ نے اپنی جوانی کے قیمتی ایام کیوں کسی جماعت کی نذر کر دئیے اور کوئی نظریہ یا اصول آپ کو جماعت کی طرف مائل کرنے کا سبب بنا تھا تو اب اچانک کہاں دفن ہو گیا کہ آپ نے اپنی ہی جماعت کی جڑیں کھوکھلی کرنی شروع کر دیں ۔ اختلافات کہاں نہیں ہوتے ایک گھر میں رہنے والے افراد بھی مختلف سوچ کے حامل ہو سکتے ہیں مگر گھر کے سربراہ کے بنائے ہوئے قوائد و ضوابط پر سب عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں ٹھیک اگر کسی کو اختلاف ہو تو وہ احتجاج کرتا ہے یا تو بات چیت سے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا ہے یا پھر اسے اپنی راہیں جدا کرنی پڑتی ہیں مگر ایسا تو نہیں ہوتا کہ وہ کسی دوسری پارٹی سے مل کر اپنے ہی گھر کی دیواریں گرانا شروع کر دے۔ شائد ہوتا ہو مگر بہت کم۔

زیادہ قابل اعتراض عمل تو ان سیاستدانوں کا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی بیس بیس تیس تیس سال اپنی جماعت اور اس کی قیادت کا دفاع کرتے ہوئے گزار دیئے مگر اب جب وقت جدائی آیا تو اسی جماعت اور قیادت میں ہزاروں کے حساب سے عیب نکل آئے۔ کل تک جب اقتدار کے مزے لوٹے جا رہے تھے تو اس سے بہتر جماعت اور قیادت کوئی دوسری نہ تھی اور نہ ہو سکتی تھی مگر رات بیتنے اور آنکھ کھلنے کی دیر تھی کہ معلوم ہوا اب اقتدار کے ایوانوں کی جانب کوئی اور قافلہ رواں ہے پیچھے رہ جانے والوں کا ساتھ کیا دینا آگے کی جانب بڑھنے والے قافلے کا حصہ بننا چاہیے چنانچہ تمام تر اصول اور نظریات گئے بھاڑ میں جماعت آوٹ اور اپنی ذات کو دوسری جماعت میں ان کر لیا۔

وفاداری بشرط استواری کی بنیاد پر جن کی قیادت نے ان کے حلقہ انتخاب کے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں دل کھول کر فنڈز فراہم کئے اور انہوں نے بھی اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں وسائل کی بھرمار سے لاتعداد مسائل حل کئے آج بڑے دعووں کے ساتھ ان کا کریڈٹ لینے میں مصروف ہیں بجا کہ یہ سارے منصوبہ جات آپ کے دور میں مکمل ہوئے مگر آپ یہ بات کیوں ذہن سے نکال دیتے ہیں کہ ان منصوبوں کے لئے فنڈز آپ کو اسی جماعت کی قیادت نے فراہم کیئے تھے جسے آج آپ آوٹ کر کے اپنی ذات کو ان کئے بیٹھے ہیں آپ اکیلے تو ایوان کے رکن نہ تھے کیا باقی حلقوں کے اراکین اسمبلی استحقاق نہ رکھتے تھے بالکل ان کا بھی استحقاق تھا مگر آپ کے تمام منصوبہ جات اس لئے منظور ہو جاتے تھے کہ جماعت کی اعلی قیادت کی نظروں میں آپ کی عزت اور احترام تھا یا یوں کہہ لیں کہ ان کی نظروں میں شرم و حیا تھی بہت اچھا ہوا کہ اس طرح حلقے کے عوام مستفید ہوئے اور ان کے مسائل حل ہوئے انہیں جو سہولیات درکار تھیں وہ انہیں مل گئیں مگر اپنی ماں پارٹی سے علیحدگی کے بعد آج جب بھرے جلسوں میں یہ صاحبان ان ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ صرف اور صرف اپنی ذات کے لئے لینے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہنسی آتی ہے ۔

جماعتوں کو آوٹ کر کے ذاتوں کو ان کرنے والے یہ تمام احباب نہ صرف خود آزمائش میں مبتلا ہیں بلکہ انہوں نے اپنی اپنی سابقہ جماعتوں کے کارکنان کو بھی شدید پریشانی اور آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہے کہ کل تک وہ تھڑوں پر بیٹھے بڑے دھڑلے کے ساتھ اپنی اپنی جماعت اور اس کی قیادت کی تعریفوں کے پل باندھا کرتے تھے نظریہ اور اصول کے لیکچر دیا کرتے تھے آج اگر ان سے ان کی جماعت کے حوالے سے سوال کیا جائے تو منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہیں بھی تو کس منہ سے کہ ہمارا تعلق تو فلاں جماعت سے ہے مگر اس وقت ہماری سپورٹ اور ہمارا ووٹ ایک آزاد امیدوار کے بیلٹ باکس میں جائے گا یا اب ہم فلاں جماعت سے منسلک ہو چکے ہیں ۔ اپنی جماعت کے حق میں ہزاروں دلائل دینے والے آج بے دلیل ہو چکے ہیں کہ لے دے کے ایک ہی بات کرتے ملیں گے ہماری قربانیوں کی قدر نہیں کی گئی ہماری وفاداری کو نظر انداز کر دیا گیا ہمارے من چاہے امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیں یا دوسری جماعت کے ٹکٹ پر ۔ کیا بودی دلیل ہے کہ جماعت کو آوٹ تو آپ کے امیدوار نے نئی امید بر آنے کی بنیاد پر کیا اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر جماعت کی پیٹھ میں عین انتخابات کے وقت چھرا گھونپا مگر دعوی پارسائی اب بھی موجود ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتیں ان گرگٹ صفت امیدواروں کے لئے تاحیات اپنی اپنی جماعتوں کے دروازے بند کر دیں تاکہ وقتی اور ذاتی مفاد کے لئے اپنی اپنی جماعت کو آوٹ اور ذات کو ان کرنے والے یہ گرگٹ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی موت آپ مر جائیں ۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY