Published on: 17 May 2019
فلاڈلفیا چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے امریکی ایف ڈی اے سے رابطہ کیا ہے۔ وہ اگلے دو سال میں ایک جدید ترین مصنوعی بچہ دانی میں انسانی بچہ کی افزائش کریں گے۔ اس طریقہ پیدائش یا افزائش کے ذریعے مکمل کنڑولڈ حالات میں ڈیزائنر بچہ پیدا کیا جا سکے گا۔ پیدائش کے ہر مرحلے کا مکمل جائزہ لیا جا سکے گا جو ماں کے پیٹ میں ناممکن ہے۔ اگلے دس سال میں انسان بچہ پیدا کے لئے ماں کے پیٹ کی شرط مکمل ختم ہو جائے گی۔
2050 کے بعد ایک نئی انسانی نسل وجود میں انی شروع ہو جائے گی۔ یہ انسان کے لاکھوں سال کے ارتقا سے بہت زیادہ تیز تبدیلی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 2100 سے ایک مکمل نئی سپر خوبیوں والی، مختلف انسانی نسل موجود ہو گی۔ یہ نسل بہت تیز دوڑ سکے گی۔ جسم انتہائی مظبوط، شدید ترین جراثیم بھی اس پر کارگر نہیں ہوں۔ جی۔ نہیں ہوں گے۔ وہ حقیقت میں بیماری پروف انسان ہے۔ دماغ کے ساتھ منسلک ہونے والی chips پر کام ہو رہا ہے۔ جن کی وجہ سے دماغی کارگردگی کئی گنا بڑھ جائی گی۔ اندازہ لگائیں، اس وقت ترقی کی رفتار کیا ہو جائے گی۔ بائیسویں صدی کے انسان بائیو ٹیکنولوجی، جینٹک انجنیئرنگ، کمپیوٹنگ کا شاہکار ہوں گے۔ آنکھ ارٹیفیشل لینز کی بدولت میلوں دور دیکھ سکے گی۔ 2020 سے انگلینڈ میں ایک نیا لینز دستیاب ہو گا، جو انکھ کو سب کچھ ہائی ڈیفینیشن میں اور کئی گناہ زیادہ دور تک دیکھائے گا۔ سٹیم سیل ٹیکنالوجی اور مصنوعی میٹیریل سے تیار کردہ سپر اعضاء تیار کیے جائے گے، جو کبھی فیل نہیں ہوں گے۔
نیچرل ہسٹری میوزیم کے مطابق ایک ہزار برس زندہ رہنے والا شخص پیدا ہو چکا ہے۔ جی۔ ایک سو فی فیصد۔ ہاں۔ یہ صدی موت اور کینسر دونوں کی شکست کی صدی ہے۔ اگر آپ 2050 تک زندہ رہ سکتے ہیں اور آپ کے پاس ڈھہر سارا پیسہ ہے تو اپ آرام سے اگلے کم از کم 150 سال زندہ رہ سکتے ہیں۔ 2000 کے بعد پیدا ہونے والے (انسانوں کی دنیا میں) افراد کی اوسط عمر 150 سے 200 سال گنی جا رہی ہے۔
انتخاب
ڈاکٹر نگہت نسیم













