عالمی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی بڑھانے کی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے یورینیم افزودہ کرنے کی مقدار بڑھا دی ہے۔
خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ ‘یوکیا امانو’ نے صورتحال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال ایران کے ساتھ سنہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف تھا کہ اس معاہدے میں کئی خامیاں موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کا استثنٰی بھی ختم کر دیا تھا جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔
ایران نے بھی دھمکی دی تھی کہ امریکی پابندیوں کے بعد وہ بھی جوہری معاہدے سے الگ ہو کر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر دے گا۔
سنہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے تحت عالمی توانائی ایجنسی کو ایران کے جوہری پروگرام پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
ایجنسی کے سربراہ ‘یوکیا امانو’ کے مطابق ایران نے یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کیا ہے تاہم وہ ابھی سطح پر نہیں پہنچا جس سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔












