امریکہ اور روس کے اعلیٰ عہدیداروں نے منگل کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں ملاقات کی ہے۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے درمیان یہ ملاقات سعودی عرب کی میزبانی میں ہوئی ہے۔
ملاقات میں دونوں ملکوں کے دیگر حکام بھی شریک تھے۔
امریکی حکام سے ملاقات کے لیے روسی وفد پیر کی شب سعودی عرب پہنچا تھا۔ وفد میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے خارجہ امور کے مشیر یوری یشکوو بھی شریک ہیں۔
امریکہ و روس کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان ملاقات کا مقصد صدر ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے درمیان ملاقات کے لیے راہ ہموار کرنا، دوطرفہ تعلقات کی بحالی اور یوکرین تنازع پر مذاکرات کرنا بتایا جاتا ہے۔
صدر پوٹن کے مشیر کے مطابق امریکی حکام سے “خالصتاً دوطرفہ” مذاکرات ہوں گے جس میں یوکرین کا کوئی بھی عہدیدار شریک نہیں ہو گا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹیمی بروس نے پیر کو کہا تھا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف روسی وفد سے ملاقات کریں گے۔
دوسری جانب یوکرین کے صدرولودومیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کی شمولیت کے بغیر مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور یوکرین کسی نتیجے کو قبول نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے روسی صدر سے جنگ کے خاتمے کے لیے گفتگو شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے صدر پوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور کہا تھا کہ پوٹن جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ روس نے لگ بھگ تین برس قبل فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا اور فریقین کے درمیان اب بھی لڑائی جاری ہے۔
جنگ کی وجہ سے ہزاروں اموات ہوچکی ہیں جب کہ یوکرین میں بڑی تعداد میں آبادی کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
امریکہ اور روس کے درمیان منگل کو سعودی عرب میں جاری مذاکرات سے قبل فرانس نے یورپی رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس پیر کو پیرس میں طلب کیا تھا۔
اجلاس میں شریک یورپی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یوکرین معاملے پر ہونے والے مذاکرات میں ان کی رائے بھی شامل کی جائے۔
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ کسی بھی امن معاہدے کی صورت میں وہ برطانوی فوجی اہلکار یوکرین بھیجنے کے لیے تیار ہیں جب کہ دیگر یورپی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی فیصلہ قبل از وقت ہے۔
یاد رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اسرائیل کا دورہ مکمل کر کے پیر کو ہی سعودی عرب پہنچے تھے اور انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اپنے سعودی ہم منصب سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں۔













