سپریم کورٹ نے منرل واٹر کمپنیوں کے مہنگے پانی فروخت کیس میں تمام کمپنیوں کو نوٹس جاری کردیے اور ریمارکس دیے کہ منرل واٹر کمپنی کرائے کی جگہ لے کر مفت کا پانی بیچ رہی ہے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں منرل واٹر کمپنیوں کے مہنگے پانی کی فروخت سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ،اس موقع پر ایک منرل واٹر کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر( سی ای او) عدالت میں پیش ہوئیں۔
دوران سماعت عدالتی معاون ایڈووکیٹ میاں ظفر اقبال کلانوری اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن میں نوک جھوک بھی ہوئی جبکہ فوڈ اتھارتی کے وکیل میاں افتخار نے موقف اختیار کیا کہ نجی کمپنی کا پانی رجسٹرڈ ہی نہیں ۔
ظفر کلانوری نے عدالت کے روبرو کہا کہ ایک منرل واٹر کمپنی نے 3برس میں 2اعشاریہ7 بلین لیٹر پانی استعمال کیا،کمپنی نے غیر قانونی طور پر اربوں روپے کا پانی فروخت کر دیا ، ٹیکس بھی عوام کی جیب سے دیا جا رہا ہے۔
ایک موقع پر ظفر کلانوری نے کہا کہ اعتزاز احسن ملٹی نیشنل کمپنیوں کی وکالت کر رہے ہیں،تو جواباً اعتزاز احسن نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی وکا لت کرنا جرم نہیں،کسی کی پگڑیاں اچھالنے کا آپ کوبھی کوئی اختیار نہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے منرل واٹر کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ ہم گھروں پرکشت کرکے پانی بچارہےہیں، آپ کرائے کی جگہوں سے پانی نکال کر بیچ رہے ہیں، پورٹ قاسم والی فیکٹری کا بھی دورہ کروں گاکہ پانی کہاں سے لے رہے ہیں۔
عدالت نے ملک کی تمام منرل واٹر کمپنیوں اور صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرلز بھی آکر بتائیں کہ کیا نرخ ہونا چاہئیں، منرل واٹر کمپنیوں کے فی لیٹر اعشاریہ 2 پیسےکی ادائیگی کوئی ریٹ نہیں، کم از کم نرخ 50 پیسہ یا ایک روپیہ فی لیٹر ہونا چاہیے، ماہرین کی کمیٹی بھی بتائےکمپنیوں کیلئےکیانرخ مناسب ہوگا۔
جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پانی ملک کا سب سے بڑا ریسورس ہے جو مفت دیا جارہا ہے، منرل واٹر کمپنی کرائےکی جگہ لےکرمفت کاپانی بیچ رہی ہے، کمپنیوں نے اربوں روپے کمائے، منرل واٹر کمپنی 25 سال سےکام کررہی ہے، پانی کی رقم ادانہیں کی۔
جسٹس ثاقب نثار نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو فرانزک آڈٹ ٹیم بناکر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جب کہ مزید سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کردی۔












