رب جس پہ اپنا کرم فرماتا ہے… اسے علم عطا کرتا ہے۔ ۔ ۔اوراگر علم کیساتھ عشق ۔ ۔ ۔ہمسفر نہیں ہو تو علم تجارت اور اسکا حاصل کرنے والا محض ایک تاجر بن جاتا ہے ۔ ۔ ۔
علم کی حالت اس شریر بچے کی جیسی ہے جو ماں کی انگلی چھڑا کر بھاگ نکلے۔ ۔ ۔سو عشق علم کیساتھ نہ ہو تو تاجر علم اور دین دونوں ہی بیچ ڈالتا ہے کے ھدف۔ ۔ ۔
دنیا پہ اپنی عظمت کو ثابت کرنا ہے۔ ۔ ۔کہ ھدف دنیا کے سامنے اپنی زبان، الفاظ اور انداز کے کرتب دکھا کر انکو مرعوب و بے بس کرنا یے تاکہ وہ بڑے رتبہ اور نام سے ہہچان لیا جائ۔ ۔ ۔
علم اگر عمل و اخلاص سے محروم ہو تو کچے رنگ سے زیادہ اسکی کوئی اہمییت نہیں رہ جاتی ۔ ۔ ۔بنا عشق والا عالم کرم یعنی وہ کیڑا جو ہر وقت تخمینہ و زن میں مصروف رہتا ہے یعنی نفع، نقصان کے اندازے لگاتا رہتا کے یعنی ایک کتابی کیڑے سے زیادہ ایسے طالبعلم کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ ۔ ۔
کے درد ۔ ۔ ۔عشق کی پیداوار ہے یعنی جہاں عشق ہو گا وہاں درد جنم لیگا اور جہاں درد ہو گا وہاں دل سوزی پیدا ہو گی اور جہاں دل سوز وجود ہو گاوہاں پہ علم وہ پھول کھلاتا ہے کہ جو دیکھنے، سننے، سمجھبے والے کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔
درد سے گندھے وجود کو جب علم کی روشنی ملتی ہے تو گوہر جنم لیتے ہیں ۔ ۔ ۔
علم کےطالب دو طرح کے ہیں ایک وہ جو عشق سے درد لیتے ہیں اور عشق و درد کی سرزمین پہ علم سے نور پاتے ہیں ۔ ۔ ۔یہ عشق کے آنسووں سے زمین کو نرم رکھتے ہیں اور اس نرمی اور نور سے وجود طہارت پاتے ہیں اور طہارت کی زینت کیساتھ حاصل کردہ علم کی شکل کسی دلہن کے ماتھے پہ سجے حسین ترین جھومر کیطرح ہوتی ہے۔ ۔ ۔کے جس میں پہلے ہی ہر حسن و خوبصورتی تھی مگر علم کے جھومر نے اسے اور پرکشش اور جازب نظر بنا ڈالا۔ ۔ ۔
اور دوسرے وہ ہوتے ہیں جو علم کا شوق تو رکھتے ہیں پر انکا تعلق بس تخمینہ و زن سے ہوتا ہے۔ ۔ ۔کے جب عشق درد، اور انسو بانٹ رہا ہوتا ہے تو یہ بے پرواہ کھڑے اپنے علمی جوہر اور کتنا معلوم ہو گیا، کتنا رہ گیا اور کسقدر بہترین جان گئے کے لوگوں کو اپنی قابلیت سے حیرانی اور تعجب میں مبتلا کر سکیں ۔ ۔ ۔علم کتابوں اور درس سے نہیں سوز اور درد کی گود سے ملتا ہے، جہاں عشق کی سرزمین ہوتی ہے وہاں پہ موجود رنگوں، مہک، کیفیتووں کی دھنک سے ملتا ہے۔ ۔ ۔
جب تک علم روح پزیر نہ ہو یعنی روحوں، قلبوں، فکروں میں پیوست نہ ہو جائے یہ اپنی اصل روح سے محروم رہتا ہے پر جب یہ ہیوستگی، اختیار کر لے، یعنی رگوں میں دوڑتے خون کی مانند وجود کا حصہ ہو جائے اور عشق سے ملے درد اور سوز کے آنسووں کی ہمراہی میں مشاہدے تک ہہنچ جائے تب ہی یہ اپنے اصل ھدف کی جانب بڑھ پاتا ہے اور یہ سب اگر ریاکاری کے واسطے ہو تو سب بیکار رہ جاتا ہے کے جتنا عشق بڑھتا ہے ۔ ۔ ۔اتنی روح جوان ہوتی ہے اور جتنی روح جوان ہوتی ہے یہ اہنی فطرت کی طرف مائل ہوتی ہے اور جتنی فطرت کی جانب مائل ہوتی ہے اتنی شجاعت، صبر، طہارت یقین بڑھتا چلاجاتا ہے حتی کے ایک طایر، پاکیزہ قلب سلیم وجود میں آتا ہے جو انسانی وجود کو وہ زوق پرواز دیتا ہے کے جس کو پھر شہوتوں، زلت، خواہشات ، مادیت سے بے پرواہ ہو جانے کی دولت ملتی ہے یعنی ایک بے نیازی ایک سعادتمندی ایک ایسا وجود جسکی روح بزرگی و معرفت کیساتھ ، رضا اور بندگی کے لطف کو پالیتی ہے۔ ۔ ۔
کے عاشق۔ ۔ ۔کی عبادت و ریاضت اسکی الجھی ہوئ گھتیوں کو سلجھانے کے واسطے اصل علیم و حکیم حضور اسطرح سے لا کھڑا کرتی ہے کے بڑی بڑی پیچیدہ منزلیں اس توکل، تفکر، توجہ اور سوال سے اس خزانہ حقیقی تک پہنچ جاتی ہے کے جہاں عام طور سے انسانی عقل صدیوں بعد بھی نہ پہنچ پائ مگر اصلی طالب بھی صدیوں ہی میں پیدا ہوا کرتے ہیں کے جنکے وجود طہارت، درد، سوز اور عشق سے گندھے ہوتے ہیں اور جو رب کے یہاں سے فیض پاتے ہیں ۔ ۔ ۔
جبکہ ایک بنا عشق کا عالم اپنی الف اور ی تک کو سجا سجا کر اپنی خریدو فروخت پہ لگا رہتا ہے کے عالم ہو کر بھی کبھی اپنے وجود کی جہالتوں کو جو دھو ہی نہ سکا یہ ایسا محروم طالب ہے جس نے عشق سے ہاتھ چھڑا کے علم کی جہد کی علم تو پا گیا پر علم کی روح کو چھو تک نہ سکا۔ ۔ ۔وہ سوال تو اٹھاتا رہا پر ایک حقیقی طالب عشق کیطرح قانع کر پانے کی استطاعت سے محروم رہا۔ ۔ ۔
کے معرفت و جنوں کا طواف اور ہے اور کعبے کے چکر لگاتے رہنے کا طواف اور ہے۔ ۔ ۔
کے اوروں کا ہے پیام اور اور میرا پیام اور ہے۔ ۔ ۔
عشق کے دردمندوں کا طرز کلام اور ہے۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













