سمندر کا وعدہ ۔ شاہین اشرف علی۔کویت

0
247

سمندر کا وعدہ

سنو کچھ یاد ھے تم کو
سمندر کا کنارہ تھا
کہیں بادل کا اک چھوٹا سا سایہ تھا
سمندر کی زباں سے آشنا میں سُن رہی تھی گفتگو اسکی
ہوا کچھ سرد تھی اور ساحلوں کی ریت ٹھنڈی تھی
مگر وہ ہاتھ اپنا ہاتھ میرے پر تھا رکھے
اُنہی دوچار لمحوں کااثر ہے
کہ وہ رزق سخن بن کر
قلم میں بھی دھڑکتا ہے
میرے لفظوں میں زندہ ہے
میرے شعروں میں رہتا ہے
سنو کچھ یاد ہے تم کو
سمندر کے کنارے سے
میرے دل نے سمندر تھام کر
چاھت سے جب تم کو پکارا تھا
تو بادل کا وہ سایہ آسماں سے دیکھ کر ہاں مسکرایا تھا
سمندر کا وہ وعدہ یاد ہے نا؟

شاہین اشرف علی۔کویت

SHARE

LEAVE A REPLY