سمندر کا وعدہ
سنو کچھ یاد ھے تم کو
سمندر کا کنارہ تھا
کہیں بادل کا اک چھوٹا سا سایہ تھا
سمندر کی زباں سے آشنا میں سُن رہی تھی گفتگو اسکی
ہوا کچھ سرد تھی اور ساحلوں کی ریت ٹھنڈی تھی
مگر وہ ہاتھ اپنا ہاتھ میرے پر تھا رکھے
اُنہی دوچار لمحوں کااثر ہے
کہ وہ رزق سخن بن کر
قلم میں بھی دھڑکتا ہے
میرے لفظوں میں زندہ ہے
میرے شعروں میں رہتا ہے
سنو کچھ یاد ہے تم کو
سمندر کے کنارے سے
میرے دل نے سمندر تھام کر
چاھت سے جب تم کو پکارا تھا
تو بادل کا وہ سایہ آسماں سے دیکھ کر ہاں مسکرایا تھا
سمندر کا وہ وعدہ یاد ہے نا؟
شاہین اشرف علی۔کویت













