لبیک ہی تو کہنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہ محرم
رات ڈھل رہی ہے ، درد کے باب کھل رہے ہیں
نیلگوں آسمان ۔۔!
مسکن ماہ انجم اداس ہے
کچھ حقیقتیں ہیں جو سراب لگ رہی ہیں
محرم کا چاند ۔۔!
مٹیالے بادلوں کے حصار میں چھپاگریہ کناں ہے
ہواؤں کی سرسراہٹوں میں سسکیاں سنائی دے رہی ہیں
کتاب کائینات کے اوراق پارینہ پر
وقت کے آنسو قطرہ قطرہ کانپ رہے ہیں
ہائے ۔۔۔
قافلہ نور کے سالار حسین ع قصر مقاتل پہنچ گئے
ساتھ ہی تو مانگا تھا ۔۔۔ لبیک ہی تو کہنا تھا
صد حیف ۔۔۔ جن پر مان تھا بیچ راہ تنہا کر گئے
میری روح ۔۔
میری ناتواں روح
عالم خیال کی وسعتوں میں بھٹکتی جا رہی ہے
جہاں تشنہ لبی کے کئی پیاسے منظر ہیں
اور ہر منظر ایک ہی منظر میں ڈھل رہا ہے
انکار کا دکھ لئے
امام حسین علیہ السلام نینوا سے کربلا جا رہے ہیں
آغوش اجل آسودہ ہوئی جاتی ہے ۔۔!
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY