اب سیاست کا مرکز سعودی عرب بن چکا ہے۔ جیسے کہ پہلا کہا جاتا تھاکہ دوبئی چلو ! اسی طرح اب ہر ایک کہہ رہا ہے سعودی عرب چلو ۔ وہ بھی عمروں کی آڑ میں، جبکہ لوگوں کی عمریں گزرگئیں عمرے کرتے کرتے ،مگر مقدر دیکھئے ،کہ ایک بھی عمرہ،“ عمرہ مبرور“ میسر نہیں ہوا، جو کہ ان کی دنیا بد ل دیتا۔ اب ایک طرف تو سپہ سالار نے امریکہ کو للکارا ہے کہ“ ہم عزت پر سمجھوتا نہیں کریں گے، کسی کے لیے نہیں لڑیں گے ،نہ ہی ڈومور کے حکم کی تعمیل کریں گے“ حالانکہ یہ وزیر اعظم یا وزیر خارجہ کام تھا اور انہیں کو کرنا چاہیئے تھا۔ جبکہ سیاسی صورتِ حال یہ ہے کہ موجودہ وزیر آعظم خو کود وزیر آعظم ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں؟ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ“ ہمار ے وزیر اعظم نواز شریف ہیں جن کو عدلیہ نے نا ہلِ کردیا ہے اور انہوں نے فیصلہ مان کر استعفیٰ بھی دیدیا تھا،نمعلوم پھر کیا ہوا، کہاں سے شہ ملی کہ اب ملک کو وہ خانہ جنگی طرف لے جانا چاہتے ہیں؟ جبکہ وزیرِ خارجہ موجودہ وزیر اعظم کی کا بینہ کا ہے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ پاکستان ایٹمی ملک بھی ہے اور اس کا چابی بردار اٹھارویں ترمیم کے بعد وزیرِ اعظم ہوتا ہے۔ چونکہ با قاعدہ نئے وزیر اعظم صاحب نے چارج ہی نہیں لیا ہے۔ نہ ہی صدر مملکت یا اپوزیشن لیڈر نے نئے وزیر اعظم سے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا ہے جوکہ جمہوری طریقہ ہے ؟پتہ نہیں وہ صندوقچی کس کے پاس ہے جس میں ایٹمی طاقت کی چابی بند ہے ؟امریکہ میں صدارتی نظام ہے تو اس بکس کو ایک آدمی لیے کھڑا ہوتا جیسے ہی نیا صدر چارج سنبھالتا ہے اس کو عوام کے سامنے وہ دیدیتا ہے ، یہاں پتہ نہیں مروت میں نئے وزیر اعظم نے چابی لی بھی یا نہیں، شاید انہیں کے پاس ہو جوکہ عنقریب سعودی عرب جانے والے ہیں۔ معلوم نہیں کب واپس آئیں کیونکہ ان کا ایک گھر وہاں بھی ہے؟ اس لیے کہ سابق وزیر اعظم اور حواری نام لئے بغیر عدلیہ اور آرمی کو کئی مہینے سے نشانہ بنا ئے ہوئے تھے ؟ اب وہ ایک کرکے کھسک رہے ہیں پہلے کرمانی صاحب گئے، شہباز شریف صاحب کو سعودی عرب کا خصوصی طیارہ لیکر چلا گیا، جو آج تک کسی دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو لیکر نہیں گیا، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ان کے خلاف نئے کیس کھلتے چلے جارہے ہیں اور ان کو پاکستانی طیارے میں روک لیے جانے کاخطرہ تھا؟ ۔ آخر سعودی عرب کی محبت ان ہی کے حصہ میں کیوں آئی ،جو پہلے پنجاب کے وزیر اعلیٰ روانہ ہو ئے ۔اب ایک اور چہیتے وزیر فوج کے خلاف پھلجھڑی چھوڑ کر عمرہ کرنے اپنے خاندان کے ساتھ روانہ ہو گئے یہ فرماتے ہو ئے کہ میرے بیان کو توڑ مڑوڑ کر شائع کیا گیا ؟یہ اصطلاح اب بہت پرانی ہوگئی ،پہلے تو چل جاتی تھی کہ زبانی باتیں ہو تی تھیں اور جو چاہے اور جب چاہے کوئی بھی جھوٹا پھسل جائے ؟ مگر اب ایسا نہیں ہے میڈیا والے کہنے والے کے منہ سے نکلتے ہوئے الفاظ دنیا کوسنوادیتے ہیں۔ اس کے بعد بھی لوگ جھوٹ بولتے ہیں بڑی ہمت کی بات ہے؟ نہ جانے کیسے؟ شاید شرماتے نہ ہوں، جسے اسلام ایمان کا لازمی جز بتا تا ہے۔ بلکہ قر آن توکہتا ہے “ حیا اور ایمان لازم ملزوم ہیں“ پھر بھی لوگ اپنے دیے گئے بیانوں کی روزانہ تردید کرتے رہتے ہیں اور وہ صدیو ں پرانی پٹی پٹائی اصطلاح ستعمال کرتے ہیں کہ“ میرا بیان توڑمڑوڑ کر پیش کیا گیا ہے“
ایسے میں فوجی ترجمان کا بیان بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں عمرے پر جانے وزیر کو للکارا ہے امریکہ کو للکارا ہے اور قوم کو پکارا ہے کہ“ پاکستان دشمن قوتیں پاکستان کے خلاف یکجا ہو رہی ہیں؟ جن کا مقابلہ سب کو ملکر کرنا ہوگا۔ جبکہ قوم بنسری بجا رہی ہے۔ کہ سب ٹھیک ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کمانڈر انچیف کو ایسا بیان جاری کرنے کی ضرورت نہیں تھی ،قوم کو چا ہئے کہ عصبیت کے دلدل سے نکل کر وطن کی حفاظت کے لیے ایک ہو جائے؟ تاکہ فوج کی تقویت کا باعث ہو کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں ۔ اور اس سے اس فوج کی ڈھارس بندھے گی جس کے جوان روزانہ کبھی ایک کے ہاتھوں، کبھی دوسرے کے ہاتھوں شہید ہو رہے۔ ہم دشمن کو اس لیے نہیں پہچان پا رہے ہیں کہ ہمارے یہاں بھی غداری کی جڑیں اتنی گہری ہو گئیں ہیں کہ وہ اپنے نظر آتے ہیں؟ میں اس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اگر موجودہ دور کو کسی سابقہ دور سے مثال دی جاسکتی ہے تو یہ دور بھی ویسا ہی دور ہے۔ جیسے کہ خلافتِ عباسیہ کا آخری دور تھا ، خلافتِ عثمانیہ کا آخری دور تھا اور اسپین کا آخری دور تھا۔ کبھی بھی ہمیں باہر کے دشمنوں نے اس وقت تک زیر نہیں کیا؟ جب تک کہ ہمارے اپنے ان کے آلہ کار نہیں بنے؟ اب جو صاحب سب کوعدل دلانے کے لیے سڑکوں پر لانے والے ہیں ؟ انہیں انصاف کر نے سے اورا نصاف دلانے سے کونسی چیز پہلے مانع رہی، جبکہ وہ خود یاا ن کے بھائی پاکستان کے بہت بڑے حصے پر ایک مدت تک حکمراں رہے ؟ اب جب کہ انکے اپنے احتساب کی بات شروع ہوئی ہے؟ تو وہ سب کوا نصاف دلانے کے لیے چلے ہیں اور دل میں غریبوں کا درد جاگ اٹھا ہے ؟
بالکل اسی طرح کے ایک راجہ بہت ہی ظالم تھا اس کا گروہ چاروں طرف واردتیں کرتا پھرتا تھا جوکہ اس کے علم میں بھی تھا،یا پھر وہ بہت بھولہ ہوگا کہ اپنے سفید پوشوں کی رپورٹوں پر مطمعن رہتا تھا کہ “سب ٹھیک ہے “جبکہ اس کاوزیر اعظم ایماندار تھااور کہتا تھا کہ سرکار امن و امان کی صورتِ حال بہت خراب ہو گئی ہے! وہ الٹااس کو ہی ڈانٹ دیتا تھا کہ تم جھوٹ کہتے ہو؟ ایک دن اس نے اپنے سفید پوش اس کام پر لگا دیئے کہ آج تم راجہ کی نگرانی کرکے یہ معلوم کرو کہ اس کے پاس صبح ہی صبح کون آتا ہے اور جوکہ سب ٹھیک کہہ کر چلا جاتا ہے۔؟انہوں نے رپورٹ دی کہ“ وہ راجہ کا نائی ہے جو ایک چھڑا چھانٹ آدمی ہے۔ اس کے پاس صرف ایک گائے ہے ۔ وہ اپنا پیٹ اس کے دودھ سے بھر کر آجاتا ہے راجہ کی حجامت بنانے، جب وہ رعیت کا حال پوچھتا ہے تو نائی کہدیتا ہے کہ سب ٹھیک ہے چاروں طرف امن وامان ہے؟ اسی رات وزیر اعظم نے اس کی گائے چوری کروادی۔ صبح کو جب وہ اس کی حجامت کرنے آیا تو رورہا تھا کہ“ سرکار پورے ملک میں ا من وامان کی صورت حال بڑی خراب ہے، رات میری گائے کوئی چورا کرلے گیا “ راجہ نے وزیر اعظم کو دربار میں طلب کیا اور بری طرح ڈانٹ پلائی کہ تم کیا سوتے رہتے ہو؟ ملک کی صورتِ حال اتنی خراب ہے تمہیں خبرہی نہیں ہے؟شام تک سارے چور اور ڈاکو گرفتار ہو جانا چاہیئے ؟ وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا ؟ کہ سرکار جان کی اماں پاؤں تو کچھ عرض کروں! کہ میں شام تک پکڑ تو سب لونگااور امن بھی قائم ہو جا ئے گا۔ مگر وہ ہیں سب آپکے بندے آپ انہیں چھوڑیں گے تو نہیں، ورنہ میں مفت میں مارا جاؤنگا؟ راجہ نے کہا میں تمہیں وچن (زبان) دیتا ہوں ۔ اس نے بات بھرے دربار میں کہی تھی ،اس وقت تک لوگ ہوتے بھی حیا والے تھےاور زبان کے پکے؟راجہ کو نا چاہتے ہوئے بھی حکم دینا پڑا کہ کوئی بھی ہو پکڑلو، تم نے یہ پہلے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ پھر کیا دیر تھی پلک جھپکتے ہی امن قائم ہو گیا؟ مگر دوسری بات یہ تھی کہ اسوقت کے لوگ ظلم کو ظلم بھی سمجھتے تھے اور ظلم کا ساتھ دیتے ہوئے شرماتے بھی تھے۔آجکل یہ چیزیں ناپید ہیں ؟ ورنہ تو مسلمانوں کو اسلام قرآن میں حکم دیتا ہے کہ“ تم صرف بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے مدد کرو،مگر برائی میں نہیں اور شہادتیں اپنے خلاف بھی ہوں تو مت چھپاؤ؟ جبکہ آج کے مسلمانوں کا عمل یہ ہے کہ برائی میں ہی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں“ اگراپنا فائدہ نظر آئے“ جبکہ بھلائی میں مدد نہیں کرتے کیونکہ اس سے مظلوموں کو فائدہ ہوتا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہو تا توکیا لاہور کےماڈل ٹاؤن والاواقع ظلم نہیں تھا۔ کسی کو بھی کسی کے حکم پر قتل نہیں کرنا چائے تھا۔ اللہ ہمیں ہدایت دے، اور دشمنانان پاکستان اپنے گندے عزائم میں ناکام رہیں ۔آمین













