سوہانجنا ۔ ایک معجزاتی درخت
Moringa – The Miracle Tree
سوہانجنا یا مورنگا ایک شفا بخش اور منافع بخش درخت ہے طبی فوائد کے باعث اسے مسیحا درخت بھی کہا جاتا ہے پاکستان میں پائے جانے والا یہ قیمتی پودا صحت کا انمول خزانہ ہے یہ ماحول دوست ،کسان دوست ،انسان دوست ، مریض دوست غریب دوست ہے ۔ دنیا بھر میں اسے بھوک افلاس اور غذائی قلت دور کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے
یہ بنیادی طور پر صحرائی اور نیم صحرائی علاقوں کا درخت ہے اسے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ پاکستان میں یہ جنوبی پنجاب اور سندھ میں بہ کثرت پایا جاتا ہے اس کی کئی اقسام ہیں اور سب سے بہترین قسم بھی پاکستان میں موجود ہے
وطن عزیز پاکستان می غریب عوام کی طرح اس کم ناز نخرے والے مسکین سے سوہانجنا کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی یہ غریبوں کی سبزی، ترکاری تھی پاکستان کے کچھ علاقوں میں اسے سالن اور اچار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا مگر یہاں اکثریت سوہانجنا کےنام اور استعمال سے واقف نہیں تھی ۔ جب مغرب میں اس درخت پر تحقیق کی گئی تو اس حقیر پر تقصیر درخت کی قسمت جاگ اٹھی یہاں کی بے قابو مہنگائی مافیا جس دن مکمل طور پر اس کے طبی اور تجارتی فوائد سے آگاہ ہو جائے گی تو اس کی قیمتوں کو بھی پر لگ جا ئیں گے اور اسے غریب کی پہنچ سے دور کردیا جائے گا
بھارت مورنگا کی تجارت سے اربوں ڈالرز کما رہا ہے اب پاکستان میں بھی اس کی اہمیت کا احساس اجاگر ہو رہا ہے
پوری دنیا نے سوہانجنا کو کرشماتی درخت قرار دیا ہے اس کے پتے،شاخیں ، کلیاں، پھول ،پھلیاں ،بیج،جڑیں غرض تمام حصے ہی کار آمد ہیں اور ان میں بہترین غذائیت پائی جا تی ہے جو انسا نی صحت کو فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
پاکستان میں مورنگا کراچی سے اسلام آباد تک ہر جگہ پایا جاتا ہے سوائے ان علاقوں کے جہاں بہت زیادہ سردی اور برف باری ہوتی ہے
تحقیقی ادارے نا سا نے اسے پلانٹ آ ف ملینیم قرار دیا ہے
اس میں دودھ سے زیادہ کیلشیم ، گاجر سے زیادہ وٹامن اے ، کینو اور سنگترے سے زیادہ وٹامن سی ، کیلے سے زیادہ پوٹاشیم ، پالک اور سیب سے زیادہ آئرن نیز وٹامن ایی بھی پایا جاتا ہے قصہ مختصر یہ کہ اس کے پتوں میں جسم کو درکارتمام ضروری وٹامنزاور معدنیات بکثرت پائے جاتے ہیں اس کا استعمال بہت ہی آسان ہے ۔ پتوں کا قہوہ بنا یا جاسکتا ہے انہیں پودینہ کی چٹنی میں شامل کیا جا سکتا ہے پتوں کو سائے میں سکھا کر اس کا پاؤڈر بنا کر رکھ لیں اسے آٹے میں ملا کر یا سلاد پر چھڑک کر استعمال کریں۔ اگر خود یہ سب نہیں کرسکتے تواس کا تیار پاؤڈر بھی دستیاب ہے۔ بیجوں سے جو تیل نکالا جاتا ہےوہ زیتون کے تیل سے بھی زیادہ بہتر ہے ۔اس کے بیج مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں
غذائی اہمیت اور افادیت کے لحاظ سے اسے سپر فوڈ قرار دیا گیا ہے
ماؤں کا بہترین دوست ۔ مورنگا یا سوہانجنا
اسے ماؤں کا دوست اس لیے قرار دیا جاتا ہے کہ اس کے پتے بڑہتے ہوئے بچوں کے لیے بہترین غذا ہیں اس کے استعمال سے نہ صرف ان کی نشو نما بہتر ہوتی ہے۔ان کی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں یہ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بڑھاتا ہے دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بھی یہ مفید غذا ہے
اب تک ہونے والی تحقیق کے مطابق سوہانجنا میں تین سو سے زائد بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے جن میں کینسر ،ہیپاٹائیٹس ، ایڈز ،شوگر، کولیسٹرول،،بلڈ پریشر، جوڑوں کا درد ، ہاضمہ اور دل کے امراض شامل ہیں انسانی جلد اور بالوں کے لیے بھی یہ بہترین ہے
وزن کم کرنے کے لیے یہ آئیڈیل سمجھا جاتا ہے
یہ ماحول دوست درخت ہےاس کونہ بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کیمیائی کھاد کی ۔ اسکے پتے خود ہی بہترین فرٹیلائزر ہیں۔ چارے کے طور پر مورنگا کے استعمال سے جانوروں میں دودھ کی پیداوار 43 ٪ – 65٪ تک بڑہائی جاسکتی ہے۔ مرغیوں اور گائے بھینسوں پیداوار بڑھانے کے لیے جو مضر صحت ہارمونز کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔مورنگا اس کا بہترین آرگینک نعم البدل ہے
سوہانجنا کے بیش بہا طبی فوائد اپنی جگہ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ آپ اس کا بے تحاشا استعمال شروع کردیں ۔ اور اپنے معالج کی بتائی ہوئی ساری ادویات یکدم چھوڑ کر صرف اس کو استعمال کرنا شروع کردیں ۔ جڑی بوٹیوں کے ماہر جنہیں آج کل ہر بلسٹ کہا جاتا ہے ان سے اور اپنے معالج سے مشورہ کر کے اسے استعمال کریں انٹر نیٹ پر بھی اس کے استعمال کے طریقے موجود ہیں
اگست کا مہینہ شروع ہوچکا ہے یہ پاکستان میں مون سون سیزن کہلاتا ہے درخت لگانے کے لیے بارشوں کا موسم آئیڈیل ہوتا ہے ۔گلیوں میں، فٹ پاتھوں پر ، میدانوں میں سبز انقلاب لائیں پیارے وطن پاکستان کو درختوں سے سر سبز کرکے آزادی کا جشن منائیں ۔زیادو سے زیادہ سوہانجنا لگانے کی کوشش کریں صرف شروع کے تین چار مہینوں میں اسے دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے بعد میں یہ خود ہی پھلتا پھولتا رہتا ہے ۔ یہ سدا بہار قسم کا درخت ہے اس پر کبھی خزاں نہیں آتی پت جھڑ کے موسم میں بھی اس پر پتے موجود رہتے ہیں یہ ماحول میں گرمی کو کم کرتاہے اگر آپ فلیٹس میں رہتے ہیں اور پودے لگانے کے لیے زہین نہیں تو یہ گملوں میں بھی لگایا جاسکتا ہے اسے بہت زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی
اگلے سال یوم آزادی پر آپ کے لگانے ہوئے پودے درخت بن چکے ہوں گے ۔ اور آ پ کے لیے ثواب کے انبار لگ چکے ہوں گے اس طرح ایک چھوٹی سی نیکی سے آپ دین دنیا دونوں کما لیں گے
فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے
کوئی مسلمان درخت لگائے یا کھیت میں فصل بونے پھر اس میں سے کوئی انسان،پرندہ یا جانور کھائے تو اس مسلمان کو صدقے کا ثواب ملتا ہے
(صحیح بخار ری)













