یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ فلاں شخص اتنی محبت ، عشق اور اعتماد کا حقدار تھا کہ نہیں ، مگر یہ نقطہ بھی اہم ہے کہ اس شخص سے محبت ، عشق اور اعتماد کا ایسا مضبوط بندھن بنا کیسے ، کیوں لوگوں کا جم غفیر لپکا ، کیوں لوگوں نے اپنے آرزؤں کو اس سے پیوستہ کیا ۔۔
طلب و رسد کا آفاقی قانون ہے ، جب بھی کسی سماج میں تبدیلی کی خواہش پیدا ہو ، جب بھی کوئی سماج آزادی میں روکاوٹیں ڈالنے والا ہو ، جب بھی کوئی سماج جمود ذدہ اور تعفن زدہ ہو ، آزادی ، تبدیلی ، خوشحالی کی اپیل ان کو متاثر کرے گی ۔۔
پھر لوگ ، کسی شخص کے وجود میں روشنی کی ایک کرن بھی دیکھ لے ، خواہ وہ مصنوعی ہی کیوں نہ ہو ، سماج کا بہاؤ اس کی طرف ہو جاتا ہے ۔۔
پاکستانی سماج کو فکر ، نظر اور علم کے قحط اور فقدان کا سامنا ہے ، ہم ذہنوں اور دلوں کو مسخر اور متحیر کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔۔ ہم فکری و نظری آزادی کو اچھا نہیں سمجھ رہے ہیں ، ہماری قومی اور سماجی خواہش ہے ، کہ فکر و نظر ، مخصوص قالب میں ڈھلے ، انحراف کرنے والوں پر فتوؤں اور قوم دشمنی کے لیبل لگائے جاتے ہیں ۔۔ ہم دنیا میں رہتے ہوئے، اپنی آبادی کو خوفناک حد تک بڑھاتے ہوئے، پھر بھی تنوع کو نا پسند کرتے ہیں ۔۔
ریاست اور سماج کو فرد کی آزادی کو وسیع سے وسیع تر کرنے اور رکھنے کیلئے انتہائی حساس ہونا چاہیئے، تب توانائیاں قومی ترقی و تعمیر کیلئے استعمال ہوگی ۔۔۔
ارحم علیم













