نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے میچ شروع ہونے سے قبل اچانک سیریز ملتوی کرنے کے اعلان پر تنقید کا سلسلہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔

پاکستانی اور انٹرنیشنل کرکٹرز نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے پر حیرانی کا اظہار کررہے ہیں۔

اس حوالے سے جاری اپنے بیان میں سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ترین مقامات میں سے ایک ہے، مکمل کہانی نہیں بتائی جارہی۔

نیوزی لینڈ سے ہی تعلق رکھنے والے سابق کرکٹر ڈینی موریسن نے بھی اظہار مایوسی کیا اور کہا کہ وہ پاکستانی عوام کے احساسات سمجھ سکتے ہیں۔

سری لنکن کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر اینجلو پریرا نے کہا کہ دو سال پہلے انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا، ایمانداری کی بات ہے ٹیم کو بہت اچھی طرح رکھا گیا، خود کو ہر طرح سے محفوظ تصور کیا۔

فاسٹ بولر حسن علی نے کہا کہ فینز کی افسردگی خوشیوں میں بدلیں گے۔ فاسٹ بولر حارث رؤف نے کہا کہ سیریز منسوخی سے غلط روایت قائم ہوگئی۔

نیوزی لینڈ کے اس فیصلے پر مزید انٹرنیشنل کرکٹرز نے بھی مایوسی کا اظہار کیا اور ٹوئٹر پر اپنے تاثرات درج کیے۔

واضح رہےکہ جمعے کے روز پہلا ون ڈے شروع ہونے سے کچھ دیر قبل نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے سکیورٹی خدشات کو جواز بناکر پاکستان کا دورہ اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز ملتوی کردی گئی۔

…………………………

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دورۂ پاکستان ختم کردیا۔

چیف ایگزیکٹو نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے دورہ جاری رکھنا ممکن نہیں ٹیم واپس جارہی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی) کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ نے آج بتایا کہ انہیں کوئی سیکیورٹی الرٹ موصول ہوا ہے جس کے بعد انہوں نے یکطرفہ طور پر سیریز منسوخ کردی ہے۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ بورڈ اور پاکستانی حکومت نے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے تھے، جبکہ وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سےبھی بات چیت کی۔

کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو سیکیورٹی کی یقین دہانی بھی کرائی۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم بتایا کہ ہمارا انٹیلی جنس سسٹم دنیا کےبہترین انٹیلی جنس سسٹم میں سےایک ہے، ان کا مزید کہناتھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کیلئےکوئی سیکیورٹی تھریٹس نہیں ہے۔

پی سی بی نے بتایا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کے سیکیورٹی حکام پاکستانی حکومت کی جانب سےسیکیورٹی اقدامات پر مطمئن تھے۔

کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ پی سی بی سیریز شیڈول کے مطابق چاہتا ہے، تاہم دنیا بھر کےکرکٹ شائقین کو اس آخری لمحے میں کئے گئے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔

اس سے قبل خبرایجنسی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی حکام اور پی سی بی نے کئی گھنٹوں تک نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو قائل کرنےکی کوشش کی تاہم منانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 3 ون ڈےاور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز شیڈول ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجا نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔

ایک بیان میں رمیز راجا نے کہا کہ اس معاملے میں کچھ شیئر نہ کرنا بھی مایوس کن ہے، مجھے فینز اور کھلاڑیوں کے لئے بہت افسوس ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے پاکستان سے واپسی کے یکطرفہ فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنے ملک کی ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کی حمایت کردی ہے۔

دورہ پاکستان منسوخی پر جیسنڈا آرڈرن کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ نہ ہونے پر سب کو کتنا افسوس ہے، اس کا اندازہ ہے، مگر کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے سیریز منسوخ کرنے کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہوں۔

وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے کہا کہ ہمارے لیے کھلاڑیوں کا تحفظ سب سے اہم ہے۔

 

SHARE

LEAVE A REPLY