پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دو مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں فوج کے ایک اعلیٰ افسر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ جوابی کارروائی میں حکام نے عسکریت پسند گروہ کے دو اہم کمانڈروں سمیت 15 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ہفتے کوجاری ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں جھڑپ کے دوران لیفٹننٹ محمد حسان اشرف سمیت چار فوجی جوان مارے گئے ہیں جب کہ چھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی انٹیلی جینس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر موثر کارروائی کی گئی اور نو عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
افغانستان سے ملحقہ شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے بنوں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور لکی مروت میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ایک سینئر انٹیلی جینس عہدیدار کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے میران شاہ میں ہفتے کی صبح تقریباً 10 بجے ٹال فورٹ کے قریب حملہ کیا۔












