گزشتہ چار روز سے بلوچستان یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں
یونیورسٹی ہاسٹل سے دو طالب علموں اٹھا لےجاگیا اور اس کی ذمہ داری نہ یونیورسٹی انتظامیہ قبول کررہی ہے نہ یونیورسٹی کی سکیورٹی کا شعبہ تاہم اس واقعے کے بعد سے طالب علموں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس توقع سے زیادہ پروان چڑھا ہے اور متعدد اساتذہ بھی طالب علموں کے پر امن احتجاج پر خاموش حمایت کر رہے ہیں اور فکر مند ہیں ۔

……………….

سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے یقین دہانی دیتے ہوئے کہا ہے کہ عنقریب پاکستانی زائرین سے عمرہ کی پابندی اٹھا لی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی سعودی سفیر نواف سعید المالکی سے ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران پاکستانی عمرہ زائرین کیلئے فلائٹ آپریشن بحال کرنے اور پابندی والے ممالک سے نکالنے پر بات چیت کی گئی۔

دونوں رہنماوں کے مابین پاک سعودی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور وزارت مذہبی امور سعودی ہدایات اورایس او پیز پر موثر عمل درآمد کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گی۔

سعودی سفیر نواف سعید المالکی کا کہنا تھا کہ عمرہ آپریشن بحالی کا مطالبہ جلد از جلد سعودی حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ عنقریب پاکستانی زائرین سے عمرہ کی پابندی اٹھا لی جائے گی۔

……………………….

نسلہ ٹاور مسمار کرنے کے معاملے پر کمشنر کراچی نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو خط لکھ دیا۔

کمشنر کراچی نے ایس بی سی اے کو لکھے گئے خط میں کہا کہ نسلہ ٹاور گرانے کی پری ڈیمولیشن کی جائے اور عمارت گرانے سے پہلے کا کام شروع کیا جائے

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) اور میڈیا کو اپنے کارکنوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی۔

اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پی ڈی ایم والے اگر لانگ مارچ لے کر اسلام آباد آئے تو انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔

………………………..

کراچی میں ٹریفک پولیس کو ریونیو جنریٹ کرنے والا محکمہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا، شہر میں چالان صرف لائسنس اور گاڑی کے کاغذات کی بنیاد پر نہیں بلکہ “ٹارگٹ” پورا کرنے کے لئے بھی کئے جانے کی شکایات ہیں۔ ماہانہ اوسطاً 27 ہزار سے زائد چالان اور ساڑھے 6 کروڑ روپے کے لگ بھگ وصول کے جارہے ہیں۔

دنیا بھر میں چالان غلط ڈرائیونگ اور دیگر کاغذات نہ ہونے پر ہوتے ہیں مگر کراچی میں اس کی وجہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں بھی ہیں۔ اچانک سامنے آنے والے گڑھے، کسی کو بریک لگانے تو کسی کو سائیڈ دبانے پر مجبور کرتے ہیں، یوں کبھی حادثہ تو کبھی چالان ہوجاتا ہے۔

کراچی میں دیگر سہولتوں کی طرح کی ٹریفک پولیس کی نفری بھی کم ہے لیکن اس کے باوجود چالان کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔

اس کی وجہ صرف لائسنس اور کاغذات نہیں، بلکہ اصل معاملہ ٹارگٹ پورا کرنے کا ہے، جس کیلئے قانون کی کوئی نہ کوئی شق استعمال کرکے شہریوں کو لائن حاضر رکھا جاتا ہے، اس کے بعد بات بن گئی تو ٹھیک ورنہ چالان پکا کردیا جاتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY