مقبوضہ کشمیر میں شہید حریت کمانڈر برہان وانی کی پہلی برسی

0
256

مقبوضہ کشمیر میں شہید حریت کمانڈر برہان وانی کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے، بھارتی فورسز نے اس موقع پر احتجاج روکنے کے لیے گرفتاریاں شروع کررکھی ہیں۔

گزشتہ سال 8 جولائی کو حریت کمانڈر برہان مظفر وانی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں تیزی آگئی تھی۔

کشمیری حریت قیادت نے 7 سے 13 جولائی تک ہفتہ شہادت منانے کا اعلان کیا ہے،برہان وانی کے آبائی گاؤں ترال کی جانب آج مارچ کیا جائے گا۔

کشمیر کے نوجوان رہنما اور سوشل میڈیا و دیگر پلیٹ فارمز پر کشمیر کی آزادی کی نئی جدوجہد کے بانی برہان مظفر وانی کا ماورائے عدالت قتل آٹھ جولائی دو ہزار سولہ کو کیا گیا۔ بھارتی فوج نے آٹھ جولائی کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں جعلی مقابلے کے دوران برہان مظفر وانی اور ان کے ساتھیوں کو جعلی مقابلے میں شہید کردیا۔

کٹھ پتلی انتظامیہ اور قابض فوج کو غلط فہمی تھی کہ برہان مظفر وانی کو شہید کرنے سے مقبوضہ کشمیر کے آزادی کی سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم پر شروع ہونیوالی جدوجہد مکمل طور پر ختم ہوجائے گی اور نوجوان کشمیریوں کے دلوں میں پروان چڑھنے والی آزادی کی جدوجہد ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی۔لیکن نو جولائی کو شہید برہان مظفر وانی کی تدفین کے دوران ترال میں عوام کا سمندر امڈ آیا۔

برہان مظفر وانی اور ساتھیوں کی تدفین کے بعد مقبوضہ کشمیر،جموں اور لداخ میں آزادی کی جدوجہد تیز ہوگئی۔ہزاروں کشمیری،طلبہ و طالبات نے مظاہروں کی نئی لہر شروع کردی اور یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے۔

حریت مزاحمتی فورم کے رہنما چیئرمین میرواعظ عمر فاروق،سید علی گیلانی،شبیر شاہ،یاسین ملک اور دیگر رہنما ایک سو تینتیس دن کشمیری عوام کے ساتھ سڑکوں پر رہے۔انہوں نے بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرے کئے اور دھرنے دیئے۔

مقبوضہ کشمیر،نیویارک،واشنگٹن،لندن اور یورپ کے دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کئے گئے۔مظاہرین نے مقبوضہ کشمیرکو بھارت سے آزاد کرانے کا مطالبہ کیا۔

کشمیری رہنماؤں،وکلا اور غیر سرکاری تنظیموں نے عالمی پلیٹ فارمز پر کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف موثر آواز اٹھائی۔انسانی حقوق کی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی۔برہان مظفر وانی اور دیگرکشمیریوں کی نسل کشی کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا۔

کٹھ پتلی انتظامیہ اور قابض فوج نے ایک نہ سنتے ہوئے طلبہ و طالبات پر تشدد کیا۔ مظاہرین پر چھرے والی بندوق استعمال کی اور براہ راست گولیاں چلائیں۔

آٹھ جولائی دو ہزار سولہ سے قابض فوج تشدد کی کارروائیوں میں ڈیڑھ سو طلبہ و طالبات سمیت کشمیریوں کو شہید جبکہ انتیس ہزار تین سو پچاس کو زخمی کیا۔ زخمیوں میں اڑسٹھ افراد پیلٹ گن کے استعمال سے بینائی سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ آٹھ سو ایک آنکھ سے محروم اور اٹھارہ سو جزوی طور پر نابینا ہوچکے ہیں۔

قابض فوج نے مظاہروں کے دوران حریت کانفرنس کے رہنماؤں سمیت اٹھارہ ہزار افراد کو گرفتار اور سات سو بیانوے کو پی ایس اے کے تحت جیل بھیجا ہوا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY