لاہور دھماکے کی تحقیقات، جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ

0
132

پنجاب حکومت نے لاہور میں حالیہ خودکش دھماکے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔

جے آئی ٹی کی تشکیل کی درخواست پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کی گئی تھی۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے افسران بھی شامل ہوں گے۔

جی آئی ٹی مال روڈ پر ہونے والے خود کش دھماکے کے حوالے سے تمام شواہد کا جائزہ لے گی اور سرکاری ہسپتالوں میں زیر علاج زخمیوں کے بیانات بھی قلمبند کرنے کے بعد اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) سی ٹی ڈی نے وزیراعظم نواز شریف اور پنجاب حکومت کو اب تک کی تحقیقات کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی تشکیل کی درخواست کی تھی۔

رواں ہفتے 13 فروری کو پنجاب اسمبلی کے سامنے ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13 افراد جاں بحق اور 85 زخمی ہوگئے تھے۔

خودکش دھماکا پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پر ہوا، جس کے نتیجے میں آج ٹی وی کی ڈی ایس ین جی کا ڈرائیور، انجینئر اور کیمرا مین بھی زخمی ہوئے۔

اس واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ ‘جماعت الاحرار’ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد پنجاب کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف پورے صوبے میں کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق تفتیشی افسران کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور کا اصل ہدف پولیس افسران تھے، جس نے کیمسٹس کے احتجاج کے دوران خود کو دھماکے سے اڑایا۔

پنجاب ہوم ڈپارٹمنٹ کے صوبائی انٹیلی جنس سینٹر نے صوبے کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی بڑھانے کے حوالے سے پولیس کے اعلیٰ افسران کو ہدایات جاری کردیں۔

تفتیشی معاملات سے آگاہ ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ دیگر شہروں میں اسی قسم کے حملوں کی انٹیلی جنس رپورٹس کی بناء پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا۔

ہوم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے مراسلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹریفک پولیس کے عملے کو مہارت سے استعمال کرتے ہوئے ٹریفک جام کے سلسلے کو روکا جانا چاہیے، جو کہ سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ان علاقوں میں کومبنگ آپریشنز کیے جائیں جہاں افغان/پٹھان آبادی رہائش پذیر ہے۔
دوسری جانب مشتبہ حملہ آور کے جسم کے اعضاء بھی ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیجے جاچکے ہیں۔

پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ‘ہم نے مال روڈ سے مشتبہ حملہ آور کے جسم کے اعضاء (جس میں اس کی کھوپڑی، جبڑہ، بال، ایک ٹانگ، دو ہاتھ اور کچھ دیگر اعضاء شامل ہیں) جمع کرکے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوا دیئے ہیں’

SHARE

LEAVE A REPLY