افغانستان کے سپريم ليڈر ہیبت اللہ اخونزادہ نے عید الاضحیٰ کے ليے اپنے خصوصی پيغام ميں کہا ہے کہ اسلامی طرز حکومت کی بدولت خواتين کو روايتی مظالم سے بچايا جا رہا ہے اور ان کی ’آزاد و باقار انسانوں‘ کے طور پر حيثيت بحال کی جا رہی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق قندھار سے افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کا بيان پانچ زبانوں ميں جاری کيا گيا۔
اپنے بيان ميں ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے کہا کہ عورتوں کی زندگی ميں بہتری لانے کے ليے اقدامات کيے گئے ہيں۔ خواتین کو دقيانوسی روايات اور جبری شاديوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ان کے شرعی حقوق کے تحفظ کے ليے اقدامات کيے گئے ہيں۔
افغان سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کو احکامات جاری کيے گئے ہيں کہ عورتوں کی عزت و احترام کو يقينی بنايا جائے۔
افغان میڈیا کے مطابق ہیبت اللہ اخونزادہ نے بيان ميں فلسطينيوں کے ساتھ صہیونی فوج کے رويے کو بھی تنقيد کا نشانہ بنايا۔
خیال رہے کہ اگست 2021ء میں اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے لڑکیوں اور خواتین کو ہائی اسکول یا یونیورسٹی جانے سے روک دیا۔ ان پر پارک اور جم وغیرہ جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ عورتوں کے ليے يہ لازم ہےکہ وہ گھر سے نکلتے وقت پردہ کريں۔
افغان میڈیا کے مطابق عورتوں کو اقوام متحدہ سمیت دیگر این جی اوز کے لیے کام کرنے سے بھی روک دیا گيا ہے جبکہ خواتين سرکاری ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے برخاست کر دیا گیا یا انہیں گھر پر رہنے کے لیے تنخواہ دی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں اخونزادہ نے کہا کہ دسمبر 2021ء میں جاری ہونے والے چھ نکاتی حکم نامے میں خواتین کو ان کے حقوق کی ضمانت دی گئی تھی۔ حکم نامے ميں جبری شادیوں کو غیر قانونی قرار دیا گيا اور عورتوں کے ليے وراثت اور طلاق کے حق کو شامل کیا گیا۔












