افغانستان زلزلہ: طالبان کا ایک بار پھر امریکہ سے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

0
457

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے ملک میں حال ہی میں آنے والے زلزلے کے بعد ایک بار پھر امریکہ سےبیرونی افغان اثاثوں کو بحال کرنے اور پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کا ہفتے کو ایک بیان میں کہنا تھا کہ وہ ان مشکل حالات میں امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے منجمد شدہ اثاثوں کو بحال کرے اور افغان بینکوں پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ امدادی تنظیمیں باآسانی تعاون فراہم کر سکیں۔

اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے تقریبا ساڑھے نو ارب ڈالر کے افغان اثاثے منجمد کر ديے تھے۔ بیرون ملک سے افغانستان فنڈز منتقل کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی جس سے ؕحکام کے مطابق ملک کے مالیاتی نظام کو شدید دھچکہ لگا اور پہلے سے کمزور معیشت مزید زبوں حالی کا شکار ہو گئی تھی۔

طالبان حکام کے مطابق زلزلے سے اب تک 1150 افراد ہلاک اور لگ بھگ 1600 زخمی ہو چکے ہیں جب کہ تین ہزار گھر منہدم ہو چکے ہیں۔

زلزلے سے آنے والی تباہی سے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع دور افتادہ غربت سے متاثرہ افغان پہاڑی علاقے متاثر ہوئے ہیں جہاں اس پیمانے کی آفات سے نمٹنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے۔

دوسری طرف اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں طالبان حکام کی مشاورت کے ساتھ زلزلے سے متاثرہ صوبوں پکتیکا اور خوست میں خاندانوں کو مدد فراہم کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ چھ میں سے تین اضلاع میں 700 سے 800 خاندان کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY