یونیورسل سروس فنڈ (ایو ایس ایف) نے خیبر، مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں اور شمالی وزیرستان میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی فراہمی سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط قرار دے دی۔

اس حوالے سے سینیٹ کی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری انسداد دہشت گردی آپریشن مکمل ہونے کے فوراً بعد مطلوبہ سہولیات فراہم کر دی جائیں گی۔

یو ایس ایف کے چیف ٹیکنیکل آفسر آصف کمال نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کو بتایا کہ عسکری اداروں کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں تاحال آپریشن جاری ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں جاری اجلاس میں ایو ایس ایف کے نئے منصوبوں، فنڈنگ سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیر انتظام یو ایس ایف کے لازمی ہے کہ وہ سیلولر کمپنیوں سے چارجز کی مد میں موصول ہونی والی کل رقم کا 1.5 فیصد رقم دوردراز علاقوں میں موبائل فون اور براڈ بینڈ سروس فراہم کرنے پر خرچ کرے گا۔

یو ایس ایف کی جانب سے بتایا گیا کہ گزشتہ 10 برس میں 57 ارب روپے جمع ہوئے جس میں سے 41 ارب روپے شہروں، ٹاؤنز اور گاؤں میں شروع کیے گئے منصوبوں پر خرچ ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر، مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں ٹیلی فون تک رسائی سے متعلق تازہ سروے کی ضرورت ہے۔

آصف کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ آرمی نے یو ایس ایف کو شمالی وزیرستان میں رسائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر باجوڑ میں انٹرنیٹ کی فراہمی معطل ہے، سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے ساتھ ہی تمام امور نمٹادے جائیں گے‘۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالغفور نے وزارت آئی ٹی کی توجہ اپنے علاقے کی جانب کروائی جہاں انٹرنیٹ کی سروس گزشتہ 8 ماہ سے معطل ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’ان کے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن نہیں ہو رہا پھر سروس کیوں معطل ہے؟‘

وارت آئی ٹی کے ممبر مدسر حسین کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی درخواست پر مذکورہ علاقوں امن واماں کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے انٹرنیٹ کی سروس معطل کی گئی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ یو ایس ایف نے رواں مالی سال میں بھاولپور، رحیم یار خان، حیدرآباد اور دادو میں 4 ہزار موویز کی تنصب ہو گئی جس سے ایک کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ایو ایس ایف نے بتایا کہ موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز کے اطراف پسماندہ علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا منصوبہ زیرغور ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY