بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے سرکردہ کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خُرم پرویز کو مبینہ طور پر دہشت گردوں کی مالی امداد کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
این آئی اے نے مقامی پولیس اور وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ساتھ مل کر پیر کی شب سرینگر میں خرم پرویز کی رہائش گاہ اور ان کے دفتر پر چھاپے مارے۔ بعدازاں ایجنسی کے ترجمان نے ان کی گرفتاری کا اعلان کیا۔
خرم پرویز کے اہلِ خانہ کے مطابق این آئی اے کے اہلکار خرم کا لیپ ٹاپ، موبائل فون اور چند کتابیں اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔
این آئی اے ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خرم پرویز سے سرینگر کی چرچ لین میں واقع این آئی اے کے دفتر پر پوچھ گچھ کے بعد انہیں باضابطہ طور پر حراست میں لیا اور یہ اطلاع ان کی اہلیہ کو دی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ خرم پرویز کو تفتیش کے سلسلے میں حیدر آباد (دکن) لے جایا جا رہا ہے۔
این آئی اے کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ خرم پرویز کی گرفتاری کا تعلق دہشت گرد تنظیموں اور سرگرمیوں کو پروان چڑھانے والوں کی مالی اعانت سے ہے۔












