دو مارچ 1972ء کوغزل گو ناصر کاظمی لاہور میں وفات پاگئے

0
337

ناصر کاظمی کی وفات

٭ اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925ء کو انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اوراق نو‘ ہمایوں اور خیال کی مجلس ادارت میں شامل رہے اور پھر اپنی وفات تک ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ 1954ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے شائع ہوا جس نے شائع ہوتے ہی انہیں اردو غزل کے صف اول کے شعرامیں لاکھڑاکیا۔ ان کے دیگر شعری مجموعے دیوان‘ پہلی بارش‘ نشاط خواب اور سُر کی چھایا اور مضامین کا مجموعہ خشک چشمے کے کنارے ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔اس کے علاوہ انہوں نے اردو کے چند بڑے شاعروں کے الگ الگ منتخبات بھی مرتب کئے جن میں میر، نظیر، ولی اور انشا سرفہرست ہیں۔
ناصر کاظمی کا شمار اردو کے صاحب اسلوب شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے میر تقی میر کے دبستان شاعری کو انتہائے کمال تک پہنچادیا۔
* 2 مارچ 1972ء کو ناصر کاظمی لاہور میں وفات پاگئے۔ لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں اور ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے۔
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
—————————

نسیم حجازی کی وفات

٭ اردو زبان کے مشہور ناول نگار نسیم حجازی 19 مئی 1914ء کو سوجان پور ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد شریف تھا۔
نسیم حجازی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا اور ہفت روزہ تنظیم کوئٹہ،روزنامہ حیات کراچی، روزنامہ زمانہ کراچی، روزنامہ تعمیر راولپنڈی اور روزنامہ کوہستان راولپنڈی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبول عام بنانے میں تحریری جہاد کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔
نسیم حجازی کی اصل وجہ شہرت ان کی تاریخی ناول نگاری ہے جن میں داستان مجاہد،انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ،معظم علی، اور تلوار ٹوٹ گئی، قیصر و کسریٰ،قافلہ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح کے موضوع پر پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیدہ اور سوسال بعد نامی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کا ایک سفر نامہ پاکستان سے دیار حرم تک بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ نسیم حجازی کی تصانیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور ان پر آخری چٹان اور شاہین نامی دو ڈرامہ سیریل بھی نشر ہوئے جبکہ ان کے ایک اور ناول خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی۔
* 2 مارچ 1996ء کو نسیم حجازی راولپنڈی میں وفات پاگئے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
—————————

ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی پیدائش

٭2 مارچ 1972ء ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی تاریخ پیدائش ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1990ء میں وہ تعلیم کے حصول کے لئے امریکا گئیں۔ 1995ء میں انہوں نے ایم آئی ٹی سے اپنا گریجویشن مکمل کیا۔ 2001ء میں انہوں نے نیورو سائنسز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
مارچ 2003ء میں کراچی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نامی ایک خاتون کو القاعدہ کی مدد کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر الزام تھا کہ وہ بوسٹن میں اپنے فلیٹ نیشنل بنک کے اکائونٹ سے ایک اسلامی خیراتی ادارے کی مدد کرتی رہی ہیں۔ یکم مارچ 2001ء کو جب القاعدہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد خالد شیخ محمد کو گرفتار کیا گیا تو اس نے ایف بی آئی کو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے القاعدہ کی مدد کے لئے ایک پوسٹ بکس کرائے پر حاصل کیا ہے۔ ایف بی آئی نے اندازہ لگایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی القاعدہ کو مالی امداد فراہم کرنے والوں کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ اپریل 2003ء میں ایف بی آئی نے عافیہ صدیقی کی گرفتاری کی تصدیق کردی مگر یہ نہیں بتایا کہ انہیں کہاں قید رکھا گیا ہے۔
* 7 جولائی 2008ء کو ایک نو مسلم برطانوی صحافی خاتون یوآن رڈلے(Yvonne Ridley) نے شبہ ظاہر کیا کہ عافیہ صدیقی بگرام میں قید ہیں اور وہ وہاں گرے لیڈی آف بگرام کے نام سے پہچانی جاتی ہیں اور ان کا کوڈ نیم قیدی 650 ہے۔ 4 اگست 2008ء کو امریکی حکام نے بگرام میں عافیہ صدیقی کی موجودی کی تصدیق کردی تاہم اس کے فوراً بعد انہیں امریکا منتقل کردیا گیا جہاں 3 فروری 2010ء کو ایک امریکی عدالت کی بارہ رکنی جیوری نے ان پر عائد الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے انہیں مجرم قرار دے دیا۔
—————————-

شبنم شکیل کی وفات

شبنم شکیل نامور شاعر اور نقاد سید عابد علی عابد کی صاحب زادی تھیں ۔ وہ 12 مارچ 1942 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے شعری مجموعے شب زاد، اضطراب اور مسافت رائیگاں تھی اور نثری مجموعے تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے تھے ۔۔۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا ۔۔ شبنم شکیل 2 مارچ 2013 کو مختصر علالت کے بعد کراچی کے ضیاالدین ہسپتال میں وفات پاگئیں ۔ وہ اسلام آباد میں آسودہ خاک ہیں ۔
———————————

رفیق غزنوی کی وفات

٭2 مارچ 1974ء کو برصغیر کے نامور موسیقار‘ گلوکار اور اداکار جناب رفیق غزنوی کراچی میں وفات پاگئے۔
رفیق غزنوی 1907ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے گورڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن کیا۔
انہوں نے استاد عبدالعزیز خان صاحب سے موسیقی کے اسرار سیکھے، موسیقی سے ان کا شغف اتنا بڑھا کہ موسیقی کے کسی گھرانے سے تعلق نہ ہونے کے باوجود ان کا شمار برصغیر کے صف اول کے موسیقاروں میں ہوا۔
رفیق غزنوی نے اپنے فلمی کیریر کا آغاز اداکاری سے کیا۔ انہوں نے لاہور میں بننے والی پہلی ناطق فلم ہیر رانجھا میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے اس فلم کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی اور اپنے اوپر فلم بند ہونے والے تمام نغمات بھی خود گائے تھے۔ بعد ازاں رفیق غزنوی دہلی چلے گئے جہاں وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ بعد ازاں وہ بمبئی منتقل ہوئے جہاں انہوں نے فلم پونرملن‘ لیلیٰ مجنوں اور سکندر سمیت کئی فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ہالی وڈ کی ایک مشہور فلم تھیف آف بغداد میں بھی ان کی موسیقی استعمال کی گئی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں منتقل ہوگئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ وہ اس کمیٹی کے رکن تھے جس نے پاکستان کے قومی ترانے کی دھن منظور کی تھی مگر بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری سے اختلافات کے باعث انہوں نے ریڈیو پاکستان سے علیحدگی اختیار کرلی۔
رفیق غزنوی نے برصغیر کی تقسیم سے قبل بڑا عروج دیکھا۔ مگر قیام پاکستان کے بعد اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایک غیر تخلیقی فنکار کی حیثیت سے بسر کیے۔ 2 مارچ 1974ء کو انہوں نے کراچی میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
پاکستان اور بھارت کی معروف اداکارہ سلمیٰ آغا‘ رفیق غزنوی کی نواسی ہیں‘ جب کہ معروف فلمی ہدایت کار ضیا سرحدی ان کے داماد تھے اور یوں خیام سرحدی بھی ان کے نواسے ہوتے ہیں۔
————————-

شہباز بھٹی کا قتل

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور اور مسیحی رہنما شہباز بھٹی 9 ستمبر 1968ءکو خوش پور (سمندری) میں پیدا ہوئے تھے۔ 1985ءمیں انہوں نے آل پاکستان مینارٹیزالائنز کے قیام میں فعال حصہ لیا اور اس کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ وہ کرسچین لبریشن فرنٹ کے بھی سربراہ تھے۔
2002 ءمیں وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے۔ 2008ءمیں پاکستان پیپلزپارٹی کی نامزدگی پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 2 نومبر 2008ءکو وہ وفاقی وزیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ شہباز بھٹی کو 2 مارچ 2011ءکو مسلح افراد نے اسلام آباد میں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ بعدازاں اس قتل کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی اور اس کا سبب یہ بتایا کہ شہباز بھٹی مبینہ طور پر گستاخ رسول تھے۔
* 4مارچ 2011ءکو فیصل آباد کے قریب ان کے آبائی گاؤں خوش پور (سمندری) میں سپرد خاک کردیا گیا۔

وقارزیدی۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY