٭18 فروری 1994ء کو پشتو کے ممتاز شاعر اور ادیب امیر حمزہ خاں شنواری وفات پاگئے۔

0
415

عام انتخابات 2008

٭18 فروری 2008ء کو پاکستان کی تاریخ کے نویں عام انتخابات منعقد ہوئے جن میں قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی نے 87، مسلم لیگ (ن) نے 66، مسلم لیگ (ق) نے 38، متحدہ قومی موومنٹ نے 19، اے این پی نے 10، مسلم لیگ (ف) نے 4، متحدہ مجلس عمل نے 3 اور بی این پی (اے) اور پی پی شیرپائو گروپ نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کرلی۔
سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی، پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور سرحد اسمبلی میں اے این پی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔
ان انتخابات میں صدر پرویز مشرف کے حامیوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور چوہدری شجاعت حسین، شیخ رشید احمد، رائو سکندر اقبال، ہمایوں اختر، شیر افگن، خورشید احمد قصوری، حامد ناصر چٹھہ، وصی ظفر، چوہدری امیر حسین، عابدہ حسین، اعجاز الحق، میاں محمد اظہر، لیاقت علی جتوئی اور سردار نصراللہ خان دریشک اپنی روایتی نشستوں پر بھی کامیاب نہیں ہوسکے۔ انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ مرکز میں اتفاق رائے کے ساتھ حکومت بنانے میں ان کی مدد کریں۔
——————————
فضل محمود کی پیدائش

٭18 فروری 1927ء پاکستان کے مشہور ٹیسٹ کرکٹر فضل محمود کی تاریخ پیدائش ہے۔
فضل محمود لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن اور پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1943ء سے کرکٹ کھیلنی شروع کی اور 1952ء میں بھارت کا دورہ کرنے والی پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن منتخب ہوئے۔ پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ کے آغاز میں انہوں نے پاکستان کو جو کامیابیاں دلوائیں وہ پاکستانی کرکٹ کی حسین یادیں شمار کی جاتی ہیں۔ بھارت کے خلاف لکھنؤ ٹیسٹ میں پاکستان کی پہلی کامیابی ہو یا اوول کی شاندار فتح، فضل محمود ہر کامیابی میں سب سے آگے رہے۔ فضل محمود نے اپنے کیریئر میں مجموعی طور پر 34 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 139 وکٹیں حاصل کیں۔
فضل محمود نے 10 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کی بھی کی۔ وہ پاکستان کے پہلے کپتان تھے جنہوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کی تھی۔وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہیں کرکٹ کی مشہور کتاب وزڈن نے سال کے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹوں کا ہدف عبور کرنے والے بھی پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے۔ وہ اور عبدالحفیظ کاردارپہلے کرکٹرز تھے جنہیں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
فضل محمود لاہور30 مئی 2005ء کو میں وفات پاگئے اور قبرستان مسافر خانہ، گڑھی شاہو میں سپردخاک ہوئے۔
———————————-

امیر حمزہ خاں شنواری کی وفات

٭18 فروری 1994ء کو پشتو کے ممتاز شاعر اور ادیب امیر حمزہ خاں شنواری وفات پاگئے۔
امیر حمزہ خاں شنواری ستمبر 1907ء میں خوگا خیل، لنڈی کوتل میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پشتو زبان کی ہر صنف میں کام کیا اور لاتعداد نثری اور شعری کتب یادگاری چھوڑیں۔ ان کی نثری کتب میں تجلیات محمدیہ، وجود و شہود، جبر و اختیار، انسان اور زندگی اور نوی چپی اور شعری مجموعوں میں غزونے، پیروونے، یون، سلگی، بھیر، سپرلے پہ آئینہ کے، صدائے دل اور کلیات حمزہ شامل ہیں۔ ان کے کئی سفر نامے بھی شائع ہوئے اور انہوں نے علامہ اقبال، صبا اکبر آبادی اور رحمن بابا کے کلام کو بھی پشتو میں منتقل کیا۔ حکومت پاکستان نے ان کی علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔ وہ لنڈی کوتل میں آسودۂ خاک ہیں۔
—————————————–

پاک فضائیہ کے سربراہ۔ ائیر وائس مارشل رچرڈ ایچرلے

(18 / فروری 1949 تا 6 / مئی 1951)

پاک فضائیہ کے دوسرے سربراہ ایر مارشل سر رچرڈ ایچرلے 12 جنوری 1904 ء کو پیدا ہوئے اور انھوں نے 1924 میں رائل یرفورس میں کمیشن حاصل کیا ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران انھوں نے ناروے، اسکاٹ لینڈ اور لیبیا میں خدمات انجام دیں ۔جنگ عظیم کے بعد وہ رائل ایر فورس کالج کرانویل سے منسلک ہوئے اور قیام پا کستان کے بعد رائل پاکستان ایرفورس سے وابستہ ہوگئے۔ 18 فروری 1949ء سے 6 مئی 1951ء تک انھوں نے پاک فغائیہ کی سربراہی کی ۔ 18 اپریل 1970ء کو ان کا انتقال ہوگیا

SHARE

LEAVE A REPLY