جواں مرگ آنس معین کی غزلیات کا مجموعہ کٸی دنوں سے میرے پاس رکھا ہے ، میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں مگر دیکھ نہیں سکتا ، میں اس پر لکھنا چاہتا ہوں مگر لفظ وجود میں آنے سے پہلے بکھر جاتے ہیں
ایسی چیزیں پہلے بھی نظر سے گزری ہیں جنہیں دیکھتے ہوٸے ایک چیخ سی سینے میں پیدا ہونے سے پہلے فنا کا درس بن جاتی تھی مگر یہ کیفیت تو کبھی نہیں ہوٸی تھی کہ کاغذ آتش پارہ بن جاٸے اور لفظ لفظ انگارہ ۔ بہر حال مجھے آنِس کے لیے کچھ لکھنا تھا سو ان انگاروں میں اترنا پڑا اور خود کو جھلسانا پڑا مگر رک رک کر ، ٹھہر ٹھہر کر ، وقفے دقفے سے کہ اس کیفیت میں چند ثانیوں سے زیادہ رہا نہیں جاسکتا۔
آنِس معین کی شاعری دیکھتے ہوٸے لفظ بھی ۔۔۔۔۔۔ پھول بن جاتا ہے حالانکہ لفظ تو لفظ ہے اور ایک خاص مفہوم رکھتا ہے۔ جسے جس طرح بھی استعمال کیا جاٸے ، اپنا فرض ادا کرکے الگ ہوجاتا ہے ۔ مگر آنِس کے قلم سے ٹپکے ہوٸے لفظوں نے تو حیثیت ہی کچھ اور اختیار کرلی ہے اور یہ اعتبار اس عہد کے کسی اور تخلیق کار کے حصے میں شاید ہی آیا ہو ، پھر اس قدر کم عمری میں !! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یقینا“ یہ ایک اعجاز ہے جو دست فطرت نے بڑی فیاضی کے ساتھ آنس کو عطا کیا تھا ۔
اگر نہیں میں آشنا عبادتوں کی رسم سے
چھپا ہوا ہوں کس لیے بدن کی خانقاہ میں
=××=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا
==×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
جب فضاٶں سے ربط بڑھتا ہے
ٹوٹ جاتا ہے آشیانے سے
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
رہتا ہوں جس زمیں پہ وہی اوڑھ لوں گا میں
جاٸے اماں اک اور بھی ہوتی ہے گھر کے بعد
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آٸے نہ سورج
اس بار اندھیرا مرے اندر سے اٹھا ہے
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
کیا عدالت کو یہ باور میں کرا پاٶں گا
ہاتھ تھا اور کسی کا مرے دستانے میں
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
میں جستجو میں ہوں آٸینے کو کھرچ رہا ہوں
میں رفتہ رفتہ مٹا رہا ہوں نشان اپنا
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
گہری سوچیں لمبے دن اور چھوٹی راتیں
وقت سے پہلے دھوپ سروں پر آ پہنچی ہے
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے
مرا ملبہ ، ملبہ مرے اوپر گرا ہے
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
یہ آٸینہ تو سچ کہتا ہے لیکن
ہم اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
اس نے بھی یہ سوچا ہے کہ بس ربط نہ ٹوٹے
اک دوسری بستی کا پتہ دے کے چلا ہے
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں
ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
ذرا تو کم ہوٸیں تنہاٸیاں پرندے کی
اب ایک خوف بھی اس آشیاں میں رہتا ہے
=×==×=×=×=×=×=×=×=×==×=۔
میرے اپنے اندر ایک بھنور تھا جس نے
میرا سب کچھ ساتھ ہی میرے ڈوب گیا ہے
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
آنس کی شاعری اور زندگی کے بارے میں آنِس کے رویے مظہر ہیں کہ آنس معین ایک انتہاٸی مضطرب ، متجسّس ، متلاطم اور منّور روح کا جسمانی پیرہن تھا۔ آنس ہم میں موجود تھا مگر ہم سے الگ تھا ، اس معاشرے کا حصہ تھا مگر اس سے بالکل کٹا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہی فضاٶں میں محو پرواز تھا ، مگر اس کی اڑان جدا تھی ۔ اسی لیے تو اچانک آنِس نے بہت گہراٸی میں سرکتی ہوٸی زمین پر نظر ڈالی اور پھر اچانک عمودی پرواز پر روانہ ہوگیا ، جس کا کوٸی انت ہے نہ اخیر
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=
ہے میرے اندر بسی ہوٸی ایک اور دنیا
مگر کبھی تم نے اتنا لمبا سفر کیا ہے
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
سیر چمن کی کرنے والو تم نے سنی تو ہوگی
پاٶں تلے آجانے والے پتوں کی آواز
×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے
==×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=
میں بارش کی دعاٸیں کیسے مانگوں
مری بستی میں کچے گھر بہت ہیں
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
کبھی میں سورج کو دوں صدا تیرگی کے ڈر سے
کبھی یہ سوچوں کہ برف کا ہے مکان اپنا
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
جانتے ہو کس قدر خاٸف ہے اپنے آپ سے
سنگ جیسا آدمی جو کانچ کے اس گھر میں
==×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
میری قامت سے ڈر نہ جاٸیں لوگ
میں ہوں سورج ، مجھے دیا لکھنا
×=××=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
بہت سی باتیں ابھی وضاحت طلب ہیں لیکن
مری کہانی کا حسن ہی اختصار میں ہے
=×=×==×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سناٸے گا کوٸی اور
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
اسے ملے ہو مگر جانتے کہاں ہو تم
خود اپنے آپ پہ آنِس ابھی کھلا کب ہے
×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×۔
کیسے ہم سمجھاٸیں گے مفہوم کیا خوشحالی کا
دورِ قحط میں جینے والے بھوکے پیاسے بچوں کو
×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
ہر ایک شہر کا معیار مختلف دیکھا
کہیں پہ سر ، کہیں پگڑی کا احترام ہوا
==×=×=×=×==×=×=×=×=×=×=۔
چپ رہ کر اظہار کیا ہے کہہ سکتے تو آنِس
ایک علہدہ طرزِ سخن کا تجھ کو بانی کہتے
=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=×=۔
اہل نظر نے مختلف مشاہیر سے آنس کی مماثلت تلاش کی ہے ، مگر میرے خیال میں آنِس ۔۔۔۔۔۔۔۔ آنِس تھا اور بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا پھر یہ اس بچے کی واپسی تھا ، جو گیارہ سال کی عمر میں
دل کے پھولے جل اٹھے سینے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گٸی گھر کے چراغ سے
کہہ کر دہکتے ہوٸے شعلوں کی نذر ہو گیا تھا ۔
یہ طے ہے کہ جب تک شعر سلامت ہے بلکہ جب تک لفظ زندہ ہے آنِس معین زندہ رہے گا ، کسی محراب میں چراغ کی صورت ، کسی دل میں بکھرتے خواب کی طرح ، کسی آنکھ میں آنسو بن کر ۔













