اسلام کتناسیدھا سادھا دین تھا مگر اب (5؟)۔شمس جیلانی

0
826

میں نے اس موضوع کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اپنی بیماری کے دوران بھی اس کوجاری رکھا؟ کیونکہ یہ ایک بڑا اہم موضوع ہے ۔ ابھی بھی بعض مسلمانوں کا مجھ سے تقاضہ ہے کہ اس کو آپ نے قر آن کی چار پانچ آیات کا حوالہ دیکر بند کرنے کا اعلان کردیا کہ انکی تفسیر پڑھ جا ئیں اور وہاں جاکر سمجھ لیں۔ جبکہ مسلمانوں میں اتنی صلا حیت ہےنہ ان میں میں اتن زیا دہ شوق ورنہ وہ حضور ﷺ کے اسوہ ﷺحسنہ کو ترک ہی کیوں کر تے جن کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا کہ” صرف میرا راستہ ہی صراط مستقیم ہے ان پر سیدھے چلے جا ؤ کبھی گمراہ نہیں ہوگے؟ اس کے دونوں طرف بہت سے راستے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ان کے پردے پڑے ہوئے ہیں ان کو اٹھاکر بھی مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہوجا ؤگے؟
اب آپ پوچھیں گےان چار آیتوں میں ایسی خاص بات کیاہے جو کہ لوگ اس پرزور دے رہے ہیں؟ ان کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے لگا لیجئے کہ یہ وہ دور تھا کہ اس میں ایکﷺ شخص جو کہ کسی با قاعدے ادارے میں کچھ بھی نہیں پڑھے وہ سب کچھ بیان ﷺ فرمارہے ہیں جس کو صرف پڑھناہی مشکل نہیں بلکہ ایک لمبی چوڑی تقریر کر کتنا مشکل ہوگاﷺ کے ﷺ جس کے بارے میں دشمنوں کا بھی ایمان ہے کہ انہوںﷺ نے کبھی اپنی پوری زندگی میں جھوٹ نہیں بولا؟ اب پوچھیں گے ان میں ہے کیا؟ اس میں تخلیق انسانی سے لیکر تمام اس کے تعمیری مدارج طے اور بیان ہوئےہیں۔ کہ” ایک خون کی بوند چالیس دن میں خون کے لوتھڑےمیں کیسے منتقل ہوتی ہے اور پھر چالیس ہی دن میں وہ ہڈیوں میں کیسے متنتقل ہوتی ہے اس کی پروش اور رزق کہاں سے آتا ہےاور کیا کیا سامان ہیں؟ پھر اسی طرح اس کی عمر کے سارے مراحل بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے جبکہ سوال کرنے والے کا سوال بہت ہی مختصر تھا کہ ” میرے ہاتھ کی چٹکی میں جو بوسیدہ مردہ آدمی کی ہڈی کا برادہ ہے اس سے پورا انسان اللہ سبحانہ تعالیٰ کیسے دوبارہ تخلیق کرے گا؟ حضور ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ فرمادیجئےﷺ جس نے تھجے انسان بنایا اور وہی دوبارہ تخلیق فرما ئے گا اور تجھے جہنم میں بھیجے گا اس لیئے کہ تو نے اسے مان کر جھٹلادیا ؟۔ اور صرف پیداوار دن اور اعزاز نہیں بتائے جائیں گے کہ وہ کس عمر پہنچے گا اور ایمان پر کس حد تک قائم رہا تو اس کا رتبہ کیا ہوگا۔کہ اسے یہیں اس قابل نہ رکھا جا ئے گا جن کام کے اب وہ قابل نہیں رہا کیونکہ اللہ سبھانہ تعالیٰ نے بتتدریج وہ تمام صلاحیتیں واپس لے لیں جیسے کہ بتدریج عطا فرما ئیں تھیں؟ یا تو واپس لے لیں یا ویسا بنادیا جیسے وہ پیدا ہوتے وقت تھا۔ اور اب وہا ں جانا ہی جانا ہے جہاں یہاں کے تابع فرمان بندوں کو ہر نعمت بلا محنت مہیا ہوگی جو اس کے اشارے پر فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم پر لاکر موجود کردیں گے ۔ وغیرہ وغیرہ اور پیدا ہونے والے کو تمام اطلاعات فراہم کی جارہی ہیں جہاں تم بھیجے جارہے وہا ں بھیجے جانے ایک روز مقرر ہے جس کو روز محشر کہتے ہیں۔ جس میں وہ تمام ثبوت جوکہ اللہ سبھانہ تعالیٰ کے ذاتی علم میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔اب فرشتوں کےپاس موجود ہونگے اور اللہ ان کا فیصلہ عمل اور خلوص کے مطابق فرمادیگا اور فریقین کومطلوبہ اور موعودہ حکم نامہ عطا فرمادے گا؟ ہرعمل کرنے والے کو اپنا مستقبل یہا ں سے اپنے اعمال کی بنا پرجانے سے پہلے معلوم ہوگا کہ وہاں کس کے ساتھ کیا برتا ؤہوگا جو کہ اس دنیامیں بھی ہر ایک شخص کسی خدمت لینے والے سے جوانی میں ہی کام شروع کرنے سے پہلے معلوم کرنا چا ہتا ہے۔ جبکہ اس کا بچپن تو دوسروں کے ہاتھوں گزریگا۔ مگرمستقبل قطعی اس کے اپنے ہاتھوں میں گزرےگاکہ جیسا کروگے ویسا بھروگے؟
وہاں دو بڑے گروہ کے لوگ موجود ہونگے “ایک طے شدہ جہنمی اور دوسرے طے شدہ جنتی اور اللہ کی طرف سے خوشخبری آرہی ہوگی اے میرے عبادت گزار بندے اے قلب مطمعنہ رکھنے والے بندوں ہمیشہ کے لیئے جنت میں داخل ہو جاؤ ،اور لوگ جوق درجوق جنت میںداخل ہو رہے ہونگے؟ اب اختلافات ان روایان کرامؒ کی بات پر ہے کہ اس وقت عمر کیا ہوگی مثلاً حضرت علی نے کرم اللہ وجہ نے ” عمر ارذل پچھتر سال لکھی ہے” کئی نے نوے سال لکھی ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاس نوے سال کی عمر میں فرشتے پہنچیں گے۔ کہ اب اسے کچھ کرنے کہ قابل تو نے نہیں چھوڑاپدائش لیکر اب تک دئیے ہوئی تو نے اس سے سب صلاحیتیں واپس لیلی ہیں۔اب ہم اس کی عبادات کے سلسلہ میں کیا کر یں کیونکہ وہ ویسی عبدات ادا کرنے سے معذور ہے؟ تووہ فرما ئے گا وہی کچھ ان کے کھاتے میں لکھتے رہو جو ابھی تک یہ کرتے ہیں (کچھ کریں یانہ کریں) ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ہیں۔ اب یہ انسان کے لئے سب سے مشکل وقت ہوگا اس مرحلہ پر حضور ﷺ کے زمانے میں کئی گروہ اور افراد جنہیں انکے اگلے پچھلے گناہ معاف کرنے کی خوشخبریں دیگئیں ان کے میر کارواں حضور ﷺ ہیں انہوں نے دیکھاکہ حضور ﷺ پہلے سے بھی زیادہ عبادت کرنے لگے ہیں وہ لوگ حضور ﷺ اتباع کے عادی تھےان کا اتباع شروع کردیا۔ لیکن قرب قیامت کے قریب لوگوں کے یہاں یہ مثال موجود نہیں ہوگی تو ممکن ہے کہ بڑھاپے میں کوئی غلطی کر جا ئیں۔ اور ساری اپنی جمع جتع کھوبیٹھیں؟ کیونکہ ایسی بھی ایک حدیث ملتی ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہونگے کہ پوری کی پوری زندگی عبادت کرتے ہوئے گزاریں اور بڑھاپے میں کوئی بڑی غلطی کر بیٹھیں اور جہنم میں چلے جائیں اور اس کا الٹ بھی ہے اللہ تعالیٰ اس وقت ہم سب کوگناہوں سے محفوظ رکھے چونکہ بوڑھوں کی سزا جوانو ں سے دگنی ہوگی (آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY