ٹونگا میں آتش فشاں کا دھماکا ہیروشیما پر گرائے گئے بم سے 100 گنا زیادہ طاقتور قرار

0
1032

امریکی خلائی ادارے ناسا نے گزشتہ دنوں ملک ٹونگا میں آتش فشاں پھٹنے کے دھماکے کو ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے 100 گنا زیادہ طاقتور قرار دے دیا۔

15 جنوری کو بحرالکاہل میں نیوزی لینڈ کے قریب واقعے ملک ٹونگا کے دارالحکومت نوکو الوفا سے 65 کلومیٹر دور شمال میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹا تھا جس کے بعد دھماکوں کی آواز ہزاروں کلومیٹر دور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور فجی سمیت دیگر جزائر پر بھی سنی گئی تھی۔

آتش فشاں پھٹنے کے بعد ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی جبکہ سونامی کی بھی وارننگ جاری کی گئی تھی۔

اب امریکی خلائی ادارے ناسا نے آتش فشاں پھٹنے کے دھماکے کو جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے 100 گنا زیادہ طاقتور قرار دے دیا۔

ناسا کے مطابق آتش فشاں دھماکے کے بعد خارج ہونے والی توانائی 5 سے 30 ملین ٹن ٹی این ٹی جتنی تھی جبکہ ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے کے بعد یہ مقدار 15 کلو ٹن ٹی این اٹی تھی۔

ناسا کے مطابق آتش فشاں پھٹنے سے خارج ہونے والی توانائی کی مقدار پانچ سے 30 ملین ٹن ٹی این ٹی کے درمیان تھی اور یہ دھماکا اگست 1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرائے گئے امریکی ایٹم بم سے سیکڑوں گنا زیادہ طاقتور تھا جس کا تخمینہ تقریباً 15ہزار ٹن ٹی این ٹی تھا۔

خیال رہے کہ سمندر میں آتش فشاں پھٹنے کا منظر خلا سے بھی دیکھا گیا تھا اور سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آئیں تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

18 Jan 2022

جنوبی بحرالکاہل کی جزیرہ ریاست ٹونگا کے قریب زیر سمندر ایک بڑا آتش فشاں پھٹنے سے اس چھوٹے سے ملک کے کئی ساحلی علاقے زیر آب آ گئے۔ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ، بھاپ اور گیس سمندر کی فضا میں بیس کلومیٹر اوپر تک پھیل گئیں۔

صرف 747 مربع کلومیٹر رقبے اور ایک لاکھ چار ہزار کی آبادی والی پارلیمانی بادشاہت ٹونگا کے دارالحکومت نُوکُو آلوفا سے ہفتہ پندرہ جنوری کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ہُونگا ٹونگا ہُونگا ہاپائی نامی اس آتش فشاں کے پھٹنے کا عمل کل جمعے کے روز شروع ہوا، جو آج بھی جاری رہا۔

دنیا کے سب سے بڑے اور گہرے سمندرکی تہہ میں اس آتش فشاں کا پھٹنا اتنا شدید ارضیاتی عمل تھا کہ اس پہاڑ کے زیر آب دہانے سے نکلنے والی سیاہ راکھ، گرم بھاپ اور گیس نہ صرف سطح آب سے 20 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ گئیں بلکہ ساتھ ہی کئی بہت طاقت ور سونامی بھی پیدا ہو گئیں۔

کئی نشیبی ساحلی علاقے زیر آب
ان سونامی کی وجہ سے ٹونگا کے کئی نشیبی ساحلی علاقے زیر آب آ گئے۔ ٹونگا کے محکمہ ارضیات نے فوری طور پر تمام شہریوں کو اپنے گھروں میں ہی رہنے کی ہدایت کر دی۔ علاقائی سطح پر تو سونامی بڑی اونچی تھیں لیکن درمیان میں بہت زیادہ سمندری فاصلہ ہونے کی وجہ سے ان لہروں کے پیش نظر جزائر فیجی، ساموآ اور تقریباﹰ دو ہزار کلومیٹر دور ملک نیوزی لینڈ میں حکام نے سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔

ٹونگا کے قریبی سمندری علاقے میں یہ آتش فشاں گزشتہ ماہ دسمبر سے فعال ہے اور اس کے پھٹنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سونامی سے ملکی دارالحکومت نُوکُو آلوفا کے کئی علاقے بھی پانی میں ڈوب گئے۔
ٹونگا میں حکام نے تنبیہ کی ہے کہ اس آتش فشاں کے پھٹنے اور ارد گرد کے سمندری علاقے میں فضا کے آلودہ ہو جانے کے نتیجے میں ٹونگا کے جزائر سمیت پورے خطے میں عنقریب تیزابی بارش بھی ہو سکتی ہے۔

ہُونگا ٹونگا ہُونگا ہاپائی نامی آتش فشاں جس جگہ سمندر کی تہہ میں پھٹا، وہ ٹونگا کے جزیرے فونُوآفو سے جنوب مشرق کی طرف صرف 30 کلومیٹر دور ہے۔ ٹونگا کے اس جزیرے کو فالکن آئی لینڈ بھی کہا جاتا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق آج ہفتے کے روز اس آتش فشاں کے پھٹنے سے کئی جزائر پر مشتمل اس ریاست کے بہت سے حصوں میں سیلاب آ گیا اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ عالمی وقت کے مطابق ہفتے کو قبل از دوپہر تک، جب ٹونگا میں ہفتے کو رات گئے کا وقت ہو چکا تھا، سونامی سے ہونے والے نقصانات کا ابتدائی اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکا تھا۔

اس آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد ٹونگا کے میڈیا نے اس سمندری علاقے کی سیٹلائٹ سے لی گئی جو تصاویر شائع کیں، ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح سطح سمندر سے 20 کلومیٹر اوپر فضا میں پھیل جانے والی سیاہ راکھ، بھاپ اور گیس کی چادر ہوا میں تقریباﹰ پانچ کلومیٹر (تین میل چوڑے) علاقے میں پھیلی ہوئی تھی۔

عینی شاہد کا بیان
اس آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد ایک مقامی صارف نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں سونامی کو ساحل سے ٹکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر تاؤمےفولاؤ نامی اس صارف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ”میں سچ مچ اس آتش فشاں کے پھٹنے کی آوازیں سن سکتا ہوں، زور دار دھماکے، آسمان گہرے کالے دھوئیں کی چادر کی لپیٹ میں ہے اور راکھ کے ساتھ چھوٹے چھوٹے پتھروں والی بارش ہو رہی ہے۔‘‘

بشکریہ

م م / ع ح (روئٹرز، ڈی پی اے، اے ایف پی)

SHARE

LEAVE A REPLY