بانی ایم کیوایم کے خلاف ریڈ وارنٹ کے اجرا کے معاملے پر انٹر پول نے حکومت پاکستان سے13مارچ تک وضاحت طلب کر لی۔

ایف آئی اے کو جواب میں انٹر پول نے کہا ہے کہ وہ سیاسی و مذہبی معاملات میں کارروائی نہیں کرتا۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ 13 مارچ تک انٹرپول کو جواب دے دیں گے۔

انٹرپول کا پاکستانی ایف آئی اے کو لکھے گئے حالیہ مراسلے میںکہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی قائد کے متعلق پاکستان اپنی درخواست میں استعمال کیے گئے لفظ sedition یا بغاوت کی 13 مار چ تک وضاحت کرے۔

ایف آئی اے نے رواں ماہ 4 فروری کو انٹر پول کو ایم کیو ایم کےبانی قائد کے خلاف ریڈ نوٹس کے اجرا کی درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کےبانی قائد نے22 اگست 2015ء کو کراچی میں ایک نفرت انگیز تقریر کی جس میں لوگوں کو بغاوت اور اشتعال پر اکسایا گیا جس کے نتیجے میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی۔

مقدمے کے اندراج کے بعد عدالت نے انہیں مفرور قرار دیا اور ان کے دائمی وارنٹ گرفتار ی جاری کیے،لہٰذا انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

وزارت داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ 13 مارچ تک اپنا جواب انٹرپول کو بھجوا دیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY