گزشتہ روز مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی میں سفاکی سے قتل کیے گئے مشعال خان نے ایک ہفتے پہلے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنی یونی ورسٹی کے مسائل کے بارے میں بات کی تھی۔

انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میرا نام مشعال ہے اور جرنلزم کا طالب علم ہوں، میں یونیورسٹی میں جاری معاملات اور طلبہ کے احتجاج سے متعلق بات کروں گا۔

مشعال نے مزید کہا کہ طلبہ کے احتجاج اور اساتذہ سے ناراضی کی وجہ یہ ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر احسان 20 مارچ کو چلے گئے اور اس کے بعد سے نہیں آئے، وائس چانسلر کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کی ڈگریاں رکی ہوئی ہیں۔

انہوں نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ طلبہ نے اس معاملے پر احتجاج کیا اور کیمپ لگایا لیکن کوئی نہیں آیا کیونکہ سب چور ہیں، کئی ٹیچرز نے دو اور تین عہدے رکھے ہوئے ہیں۔

مشعال کا کہنا تھا کہ طلبہ نے احتجاج کیا کہ پرو وائس چانسلر بنایا جائے جو طلبہ کے مسائل حل کرے اور ڈگریوں پر دستخط کرے، دوسرا مسئلہ فیسوں کا ہے، دوسرے تعلیمی اداروں میں 5 ہزار فیس ہے جبکہ یہاں 25 ہزار فیس لی جا رہی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY