فرزانہ ناز(شہید کتاب) احتجاجی تحریک کی طرف سے ملک بھر کی ادبی تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ کہ اپنی ہر طرح کی ادبی تقریبات میں فرزانہ ناز کے لئے دعا اور اسکی فیملی اور شہید ِ کتاب احتجاجی تحریک کے مطالبات کے حق میں قراردادیں پاس کریں ۔
دوسری جانب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مرحومہ کے شوہر اسماعیل بشیر خود حرف کدہ میں آئے جہاں انہوں نے تحریک کے فعال کارکن احمد رضا راجہ کے ساتھ موجودہ صورت حال اور آئیندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے کچھ اہم فیصلے بھی کئے ,جن کا تعلق فرزانہ ناز کی ہلاکت کے بارے میں قانونی کاروائی اور ادبی حلقوں میں جاری احتجاجی تحریک سے متعلق مشاورت کے بعد انتہائی اہم فیصلوں سے ہے جو قریبی اور متعلقہ احباب کو اپنے طور پر بتائے جا رہے ہیں
معلوم ہوا ہے کہ اس ملاقات کے بعد جو مطالبہ انتہائی شد و مد سے سامنے آیا وہ پاک چائنا سینٹر میں لگے کیمروں سے اسوقت کی ویڈیو کو سامنے لائے جانا ہے … اس مطالبہ پر گذشتہ رات اسماعیل بشیر اور احمد راجا کی ملاقات کے فورا بعد سوشل میڈیا پر بھی شدت دیکھی جانے لگی تھی .
احمد رضا راجا نے تو یہاں تک لکھا کہ اب باقی مطالبے بعد میں , سب سے پہلے ویڈیو سامنے لائی جائے . انہوں نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کو یہ ویڈیو فورا پاک چائنا سینٹر سے لیکر محفوظ کرنے کا مشورہ بھی دیا اور کہا کہ اس عمل میں سب سے زیادہ بھلائی ایم ڈی این بی ایف کی ہے .
اس ملاقات میں ایک فیصلہ اور جو ابھی تک سامنے آیا وہ پاک چائنا سینٹر کے سامنے شاعروں , ادیبوں , صحافیوں , اداکاروں اور گلو کاروں کا مشترکہ احتجاجی مظاہرہ جلد کرانا ہے












