Published on: 8 Apr 2022
یہ کالم میں نے آٹھ اپریل دوہزار بائیس کو لکھا تھا آج انٹرنیٹ دیکھتے ہوئے سامنے آ گیا تو یوں لگا جیسے آج ہی لکھا ہو۔ کیا بدلا ہے وطن عزیز میں، کچھ بھی تو نہیں، ہمارا عشروں کا سفر آگے کا نہیں پیچھے کا ہے یہ سفر کہاں اور کیسے رکے گا خبر نہیں۔ ہر مشکل صرف دعا سے حل نہیں ہوتی۔ خدا کے لیئے شخصیت پرستی کی لعنت سے دوری اختیار کیجئے کہ یہ بُت پرستی سے بھی بدتر ہے۔ میں اس کالم میں ایک لفظ بھی نہیں بدلا
ڈاکٹر نگہت نسیم
پاکستان ہماری پہچان ہے ۔۔۔ اسے بچانا سجانا سنوارنا بھی ہمیں ہی ہے۔ اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کیجئے اور پاکستان کو اپنی مثبت فکر و سخن سے آراستہ کرنا بھی ہمارا فرض اور کام ہے ۔ صرف اور پاکستانی بن کر سوچئے ۔۔ یہ سیاستدان اور ہم جیسی عوام تو آنی جانی ہے ۔ وطن پاکستان نے رہنا ہے ۔ سدا رہنا ہے۔
میں جانتی ہوں میرے کئی احباب عمران خان کے سپورٹرز ہیں اور دوسرے احباب کی طرح میں خود بھی پی ٹی آئی کے لوگوں کی بدتہذیبی اور بدکلامی کی زد میں رہتی ہوں ۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ عمران خان نے یوتھ کو مثبت سوچ اور فکری تربیت نہیں کی بلکہ کنٹینر پر چڑھ کر بد تہزیبی ، نعرہ بازی ، گالم گلوچ کے ساتھ ساتھ مخالفوں کو مارنا کوٹنا سکھایا اور خود کو اینگری ینگ مین ارتغل سمجھ بیٹھے ۔ کیا آپ کو معلوم کے کہ پی ٹی آئی نے اپنے ہی منحرف ممبران کو ان تین دنوں میں کتنا مارا ہے ۔۔ان کے بیٹے بیٹیوں کے خلاف مقدمات کروائے۔۔ انہیں ڈرایا دھمکایا ۔ یہ سب کیا ہے ۔۔ کیا یہ جرم نہیں ۔؟ اس کا مقدمہ کہاں لڑا جائے گا ۔۔انہیں عدالتوں میں ۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے آنے کے ساتھ ہی لوگوں نے سانحہ ماڈل ٹاون اور ماضی کے کئی اور سانحات کا موازانہ شروع کر دیا ۔۔ میں سمجھتی ہوں آج کا فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ آئیندہ ایسے سانحات نہ ہو سکیں گے۔ اور جتنے بھی کیسسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے وہ بھی کسی دباؤ کے بغیر ہونا شروع ہو جائےگا۔یاد رکھئے جب تک جرم ثابت نہ ہو انسان ملزم ہوتا ہے مجرم نہیں ۔۔۔ ۔ اگر آپ امریکی خط کی بات کرتے ہیں کہ امریکہ نے اپوزیشن کو پیسے دیئے کہ وہ عمران خان کے ممبرز خرید کر تحریک عدم اعتماد پیش کر کے عمران خان کو اسمبلی سے باہر کر دیں ۔ تو قومی سلامتی کے اداروں نے اس خط کوپڑھ کر ایسا کوئی اندازہ نہیں لگایا ۔۔ اور مبصرین کی رائے میں تو عمران خان نے خط کے متن کو بدل کر اس خط کو تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لئے استعمال کیا ۔ اگر ایسا ہی ہے تو عمران خان کی ملکی سالمیت سے محبت سب پر عیاں ہو جاتی ہے ۔۔ آپ کا کیا خیال ہے ملکی سلامتی کے ادارے سو رہے ہیں جو بروقت کوئی قدم نہیں اٹھا نہ سکی ۔۔۔ یقین جانیئے جلد یا بدیر یہ لیٹر ڈرامہ بھی سامنے آ جائے گا ۔
میرا یقین کیجئے تین اپریل کو جو عمران خان نے کیا وہ پاکستانی آیئن کی شدید خلاف ورزی تھی اور یہ بات میں ہی نہیں کہہ رہی بلکہ انہی کی حکومت کے اٹارنی جنرل نے بھی کہی کہ میں اس فیصلے کو ڈیفنڈ نہیں کر سکتا۔پاکستان کا آیئن تین دن سے معطل رہا ۔۔معاشیات اور شیئرز گرتے رہے ۔۔ روپے کی قیمیت ریکارڈ گرتی رہی ۔ سات اپریل دوہزار بائیس بروز جمعرات ساڑھے آٹھ بجے کسی پارٹی کی جیت نہیں ہوئی ہے ۔۔ آج صرف عدلیہ ، سپریم کورٹ اور قانون کی جیت ہوئی ہے، اور اس حوالے سے پاکستان کی جیت ہوئی ہے ۔۔ اب کوئی منہ اٹھا کر کسی کو غدار نہیں کہہ سکے گا، اس بات کی جیت ہوئی ہے ۔۔۔ کوئی آٹھ کر اپنی مرضی سے قانون بدل نہیں سکے گا، اس بات کی جیت ہوئی ہے۔کاش پی ٹی آئی کے اسپورٹرز اس وقت یہ سوچنے کی بجائے کہ پاکستان کا ارتغل ہارا ہے یہ سوچیں کہ “ پاکستان کی جیت ہوئی ہے “ ۔
دوستو آپ کو یاد نہیں رہا کہ دو ہزار اٹھارہ میں ، میں نے عمران خان کی حمایت میں کیا کچھ لکھا تھا۔۔ دیگر سانحات کے ساتھ ساتھ ماڈل ٹاؤن کے سانحہ پر میرا رد عمل کیا تھا ۔ سوچیئے کتنا اچھا ہوتا جو عمران خان باعزت باوقار ووٹ آف نو کونفڈیفنس کو ہونے دیتے ۔۔ہار جاتے تو اپوزیشن میں بیٹھ جاتے ۔۔انہوں نے تین دن پاکستان کے آیئن کو معطل کر کے معاشیات کو جو دھچکہ پہنچایا وہ ناقابل بیان خسارہ ہے ۔۔ کیا یہ محب الوطنی ہے کہ اپنے اقتدار کی خاطر وطن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جائے ۔۔ لیکن عزت سے ہارنا بھی تو کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ آخری گیند ( نیا نعرہ) تک کھیلنے والے عمران خان نے پاکستان کو بھی پچ ہی سمجھا ۔ اور پھر حد ہے کہ کھلاڑی ہو کر یہ بھی نہیں سمجھا کہ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے ۔
دوستو!
ہم سب کو اپنی پارٹی سپورٹنگ سے اوپر اٹھ کرصرف پاکستانی ہو کر سوچنا ہے کہ یہی محب وطن ہونے کا تقاضا ہے۔ آپ کو اعتراص ہے کہ شہباز شریف پرائم منسٹر بنتا کیا اچھا لگے گا ۔ مولانا فضل الرحمان صدر گوارہ کیسے ہوگا ۔۔؟ یہ کیسی بچوں والی باتیں ہیں۔۔ کیا اتنے بڑے عہدے خوبصورت دکھنے کے لئے ہیں یا سب سے بڑی زمیداریاں نبھانے کے لئے ہیں۔۔ کیا وزیراعظم کا انتخاب خوبصورتی اور اسمارٹ نیس پر ہوگا ۔۔ سوچیے یہ سوچ کسقدر سطحی ہے۔ لیکن پاکستان کے آیئن کی سلامتی کی خاطر ۔۔قانون کی بالا دستی کی خاطر آٹھ ماہ یا سال کسی کو بھی برداشت کیا جاسکتا ہے ۔ بہت سارے تحفظات کے باوجود اگر عمران خان ووٹ آف کونفڈیفنس جیت جاتے ہیں اور اگلا الیکشن بھی جیت جاتے ہیں تو ہم سب پاکستانیوں کو ان کا دل سے خیر مقدم کرنا چایئے ۔ میں بہت پہلے کہہ چکی ہوں کہ اب جو بھی آئے گا اس کے لئے ایک سال ، سو سال کے برابر ہوگا ۔۔ کیونکہ انہیں ڈلیور کرنا ہوگا ۔
ایک بار پھر کہنا چاہتی ہوں کہ کسی فرد کا کسی جماعت سے بھی تعلق ہو ، یہ اس کا نظریہ اور اس کا حق ہے ، اور اس کی رائے کا احترام کرنا ہم سب پر لازم ہے ۔ تحمل اور بردباری سے اختلاف رائے کرنا ہم سب کی زمہ داری ہے ۔ جب جب کوئی بھی پاکستان کی سالمیت کا سودا کرے گا ۔۔۔ اس میں انارکی لانے کی کوشش کرےگا میں اس کے خلاف ہوں ۔۔بحیثیت پاکستانی اور مسلمان ہونے کہ ایک دوسرے کو کافر اور غدار ہونے کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے والوں کو میں برداشت نہیں کرونگی ۔۔ایسی سوچ کو نہ آج سپورٹ کرتی ہوں اور نہ کل کرونگی ۔ آپ کہہ سکتے ہیں آپ کی سپورٹ کی ضرورت کس کو ہے ۔۔۔“ لیکن سچ یہی ہے ہم سب کی مثبت سوچ کی آج ہی تو ہمارے وطن کو اشد ضرورت ہے۔
وطن پاکستان میں رہنے والا کوئی غدار نہیں ہے اور ہمارے وطن میں ہر دین مذہب مسلک کے رہنے والوں کو آزادی سے رہنے کا حق ہے۔ اور یہ حق آیئن پاکستان نے انہیں دیا ہے۔ اگر آپ اپنے ملک کے خیر خواہ ہیں تو خود پر ناز کیجئے بس ۔
یاد رکھئے میں بھی پاکستان ہوں آپ بھی پاکستان ہیں ۔۔۔ یہ سیاستدان چہرے بدل کر آتے جاتے رہیں گے ۔ ہمارے آج کے فیصلے ہمارا کل بہتر بنا سکتے ہیں ۔ دعا کریں پاکستان کو سیاسی استحکام عطا ہو ۔۔ ہمارا وطن شاد و آباد رہے ۔۔ سدا رہے ۔۔۔ اور اللہ پاک ہم سب کو اپنے وطن کا خدمتگار رکھے۔
الہی آمین
یہ موقع ہے تحریک ناانصاف کے وزیر شبلی فراز کے ترقی پسند والد احمد فراز کی غزل مکمل پڑھ لیں
یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
یہاں خود اپنے لیے بھی دعا کسی کی نہیں
خزاں میں چاک گریباں تھا میں بہار میں تو
مگر یہ فصل ستم آشنا کسی کی نہیں
سب اپنے اپنے فسانے سناتے جاتے ہیں
نگاہ یار مگر ہم نوا کسی کی نہیں
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
فرازؔ اپنی جگر کاویوں پہ ناز نہ کر
کہ یہ متاع ہنر بھی سدا کسی کی نہیں
ڈاکٹر نگہت نسیم













