*ہاں ، ہم بھی وہاں موجود تھے ، اور بہت مایوس ہوئے ! ۔،سید عارف مصطفیٰ

0
933

*ہاں ، ہم بھی وہاں موجود تھے ، اور بہت مایوس ہوئے ۔۔۔۔ !*

————————— *سید عارف مصطفیٰ* ———————-
** ایک لمحہ فکر پھر آن پہنچا ہے کیونکہ اتوار یکم فروری کی سہ پہر ‘جینے دو کراچی کو’ والی جماعتی ریلی میں شاہراہ فیصل پہ جو کچھ ہم نے امیر جماعت حافظ نعیم الرحمان کے خطاب میں سنا اس نے ہمار ے ذہن میں جماعت سے متعلق خوش گمانیوں پہ کاری ضرب لگادی ہے ۔۔۔ سچ بات یہ ہے کہ اس ریلی کی حاضری حسب روایت ویسی ہی اچھی تھی جیسی کہ جماعت کی سابقہ کئی ریلیوں میں نظر آتی رہی ہے ، تاہم اسے موضوع کی حساسیت اور جذباتی اپیل کی نسبت سے اسے اور بھی زیادہ بہتر ہونا چاہیئے تھا* -*
as *ریلی سے کیئے گئے کلیدی خطاب میں حافظ نعیم الرحمان نے شدید مایوس کیا ۔۔۔ کیونکہ موصوف نے کراچی کے مسائل کاحل صرف بااختیار شہری حکومت کو قرار دینے پہ اکتفاء کیا ، جو نہایت حیران کن امر ہے ۔۔۔ لیکن اگر وہ یہاں تک بھی محدود رہتے تو کوئی حرج نہیں تھا، مگر انہوں نے کراچی کو صوبہ بنانے یا اسے وفاق کے حوالے کرنے کی مخالفت کا اظہار کرکے سخت مایوس کیا ۔* ۔۔۔
*یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وہ صوبائی حکومت اور اسکی محکماتی چیرہ دستیوں کے حقائق سے قطی آگاہ ہی نہیں ہیں ۔۔۔ اور کیا انہیں یہ بھی خبر نہیں ہے کہ اس شہر کے مسائل کا ایک بڑا حصہ صوبائی حکومت کے معاملات سے منسلک ہے* *کیونکہ صوبائی محکموں میں ملازمتوں کی تقرریوں کا اختیار سراسر صوبائی حکومت کے پاس ہے جس نے اپنےننگے تعصب کے پیہم اظہار سے اس شہر کے لوگوں کو محرومی و مصائب کی دلدل میں دھکیل رکھا ہے-*
*ویسے بھی شہری حکومت کے کسی بھی اختیار کے نفاذ کے لیئے صوبائی حکومت کی سرپرستی ناگزیر ہوتی ہے کیونکہ اسکے لیئے شہری انتظامیہ اور پولیس کا تعاؤن از بس ضروری ہوتا ہے ۔۔ لیکن یہاں اس وقت جبکہ پیپلز پارٹی کا اپنا زبردستی تھوپا گیا میئر لا بٹھایا گیا ہے اور تب بھی اسے میئر شپ کے وہ اختیارات نہیں دیئے گئے ہیں جو دیگر صوبائی دارالحکومتوں کو میسر ہیں تو پھر آئندہ کسی مخالف جماعت کی میئرشپ کے ہونے کی صورت میں تو ایسی ‘دریا دلی’ قطعی ناممکن ہے -*
*بات یہ نہیں کہ ہم امیر جماعت کے مرکزی منصب کی مجبوریوں اور محدودیت سے واقف نہیں ، مگر یہ کیا ضروری تھا کہ وہ کراچی کو صوبہ بننے یا وفاق کے حوالے کرنے کے رستے میں یوں آن کھڑے ہونے سے باز نہیں رہ سکتے تھے- اگر وہ کراچی کے لوٹے و مارے گئے محروم عوام کے دلوں میں سلگتی آنچ سے باخبر ہوتے تو بالضرور یہ جان پاتے کہ اب کراچی کے بیشتر لوگ کراچی کو موجودہ صوبائی نظم کا حصہ دیکھنا نہیں چاہتے اور اب کراچی کے مسائل کا معاملہ محض چند چھوٹے موٹے اقدامات واختیارات کی بخشش سے حل ہونے والا ہرگز نہیں۔۔۔*
*سچ تو یہ ہے کہ کئی برسوں سےکراچی میں سیاسی قیادت کا جو گھمبیر خلاء شدت سے محسوس کیا جارہا ہے اس کو پر کرنے کے لیئے جماعت اسلامی کے لیئے یہ بہترین موقع تھا اور اس بابت اہل کراچی نے بلدیاتی الیکشن میں اپنی اس ضرورت کی گھٹن کو بیلٹ بکسوں میں انڈیل دیا تھا اور اگر نتائج نہ بدل دیئے جاتے تو ایک بار پھر اس شہر کی قیادت کا تاج جماعتی امیدوار کے سر پہ سجنا تھا-* *لیکن یہ اہل شہر جو جماعت کے لیئے اب اپنے دلوں بڑی لپک محسوس کرنے لگے تھے اسے امیر جماعت کے اس ‘بےنیازانہ خطاب ‘ نے بہت شدید دھچکا پہنچادیا ہے اور خواہ مخواہ اپنی جماعت کو ان لوگوں کے مقابل لاکھڑا کیا ہے کہ جو اب کراچی کے مسائل کے حل کے لیئے آؤٹ آف باکس حل نکالنے کے سوا کوئی اور رستہ نہیں پاتے ۔۔۔*
*بلاشبہ ایسے ہی برخوردارانہ طرز فکر اور بیحس وژن نے اس شہر میں ایم کیوایم جیسی تنظیم کو آگے بڑھنے اور اپنے گندے کھیل کھیلنے کا موقع دیا تھا اور لگتا یہ ہے کہ اگر اب پھر سے عوامی امنگوں کے بارے میں سے جماعت کی یہ شارٹ وژن والی لاتعلقی یونہی جاری رہی تو ایک بار پھر اس شہر میں وہ بھولی بسری داستان ہی بن کے رہ جائے گی ۔۔۔۔*

سید عارف مصطفیٰ

SHARE

LEAVE A REPLY